شوق کو عازمِ سفر رکھیے بے خبر بن کے سب …

شوق کو عازمِ سفر رکھیے
بے خبر بن کے سب خبر رکھیے

مُجھ کو دِل میں اگر بسانا ہے
ایک صحرا کو اپنے گھر رکھیے

چاہے نظریں ہوں آسمانوں پر
پاؤں لیکن زمین پر رکھیے

کوئی نشہ ہو ٹوٹ جاتا ہے
کب تلک خود کو بے خبر رکھیے

جانے کِس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مُختصر رکھیے

بات ہے کیا یہ کون پرکھے گا
اپنے لہجے کو پُر اثر رکھیے

دِل کو خود دِل سے راہ ہوتی ہے
کِس لیے کوئی نامہ بر رکھیے

ایک ٹُک مُجھکو دیکھے جاتی ہیں
اپنی نظروں پہ کچھ نظر رکھیے

نکہتؔ افتخار

المرسل: فیصل خورشید


11 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    بہت عمدہ

  2. گمنام کہتے ہیں

    بہت عمدہ انتخاب واہ واہ واہ

  3. گمنام کہتے ہیں

    بہت عمدہ غزل۔۔۔

  4. گمنام کہتے ہیں

    خوبصورت غزل واہ

  5. گمنام کہتے ہیں

    واہ کمال کر دیا

  6. گمنام کہتے ہیں

    جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
    اپنا سامان مختصر رکھیے۔

    ایک ٹک مجھ کو دیکھے جاتی ہیں
    اپنی نظروں پہ کچھ نظر رکھیے

  7. گمنام کہتے ہیں

    So nice

  8. گمنام کہتے ہیں

    Lajawab

  9. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast

  10. گمنام کہتے ہیں

    زبردست معیاری شاعری
    واہ……..

  11. گمنام کہتے ہیں

    Kmaal poetry

جواب چھوڑیں