لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں کس کس کی مہر …

لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِمحضر لگی ہوئی
یہ شعرفیض کا نہیں۔ فیض صاحب نے اس شعر کی صرف تظمین کی ہے۔ تظمین کا مطلب ہے کہ کسی اور شاعر کے مصرع یا پھر مکمل شعر کو اپنی نظم یا غزل کا حصہ بنا لینا۔یہ شعر نظام ششم نواب محبوب علی خاں والی حیدر آباد کا ہے۔ 1900ءکے لگ بھگ ریاست کے چند اعلیٰ افسران نے ان کے خلاف ایک سازش تیار کی۔ یہ اطلاع ملنے پر انہوں نے متعلقہ کاغذات طلب کئے کہ دیکھیں کن کن لوگوں نے اس سازش میں حصہ لیا ہے اور یہ مصرع کہا ”لاﺅ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں۔ بعد کو اس مصرع پر دوسرا مصرع لگا کر شعر پورا کر دیا۔
2 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    آپ کا کہنا درست ھے
    تضمین یہ ٹھیک ھے
    جو آپ نے املا لکھا ھے غلط ھے

  2. گمنام کہتے ہیں

    درست

جواب چھوڑیں