نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشائے دماغ بس کہ رکھتی …

نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشائے دماغ
بس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب
(غالبؔ)

جواب چھوڑیں