شفیق خلشؔ ہو خیال ایسا جس میں دَم خَم ہو شاید اُس…

شفیق خلشؔ

ہو خیال ایسا جس میں دَم خَم ہو
شاید اُس محوِیّت سے غم کم ہو

پھر بہار آئے میرے کانوں پر
پھر سے پائل کی اِن میں چھم چھم ہو

اب میسّر کہاں سہُولت وہ !
اُن کو دیکھا اور اپنا غم کم ہو

اب ملاقات کب وہ پہلی سی
ذکر تک اپنا اُن سے کم کم ہو

ہاتھ چھوڑے بھی اِک زمانہ ہُوا
اُس کی دُوری کا کچھ تو کم غم ہو

کھول لیتے ہیں در ،ہر آہٹ پر
سوچ کر یہ ، کہیں نہ ہمدم ہو

پیش رُو جائیں گے خلشؔ، لیکن!
کُچھ تو آنکھوں سے اپنی نم کم ہو

شفیق خلشؔ


جواب چھوڑیں