کِس درجہ حسیں تھا مرے ماحول کا غَم بھی میں بُھول…

کِس درجہ حسیں تھا مرے ماحول کا غَم بھی
میں بُھول گیا آپ کا اندازِ ستَم بھی

اُلجھے ہُوئے لمحات کے تاریک سفر میں
آئے ہیں بہت یاد تری زُلف کے خَم بھی

اِک لمحہ تو دم لینے دے آغوشِ سُکوں میں
اے گردشِ حالات کسی موڑ پہ تَھم بھی

پلکوں پہ سجائے ہُوئے زخموں کے نگینے
گُزریں گے کسی روز ترے شہر سے ہَم بھی

کیوں دَرد کی قندیل جلائے کوئی دِل میں
حالات کی تلخی تو زیادہ بھی ہے کَم بھی

منظر تو ذرا دیکھئے رسوائیِ فن کا
بِکنے لگے بازار میں اربابِ قَلَم بھی

کُچھ دیر تو پھُوٹا ہے لہُو میری جبیں سے
کُچھ دیر تو چمکے گا ترا سنگِ حَرَم بھی

اِک عُمر جِسے ذہن نے پُوجا ہے بہر طور
محسؔن وہ ستم کیش، خُدا بھی تھا صَنَم بھی

محسنؔ نقوی

المرسل: فیصل خورشید


4 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Wah zabardast

  2. گمنام کہتے ہیں

    بہت خوب

  3. گمنام کہتے ہیں

    Bohat khoob

  4. گمنام کہتے ہیں

    واہ

جواب چھوڑیں