حکیم دانشؔ لکھنوی بہت غربت میں زندگی بسر کی لیک…

حکیم دانشؔ لکھنوی
بہت غربت میں زندگی بسر کی لیکن وضعداری میں فرق نہ آنے دیا۔ آخر عمر میں نا بینا ہو گئے تھے۔ اسی عہد کا یہ شعر ہے

دیکھ سکتا ہوں نہ ساقی کو نہ میخانے کو
آخری دور ہے، بھر دے کوئی پیمانے کو
….
پیش نظر تھی تفرقہ پردازیِ فلک
تم کو کبھی گلے بھی لگایا تو آہ کی

دکھوں میں ترا جلوہ کس جا نظر آتا ہے
آنکھ اٹھتی ہے جس جانب پردا نظر آتا ہے
….
میخانے کا دروازہ کیوں بند ہوا اے واعظ
ہر وقت در تو بہ جب وا نظر آتا ہے


2 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    wah-Lackhnow ka naam aate hi tehzeeb O tammadun,rakh rakhao or saliqa mandi ke tassawar dil main aa jata he.

  2. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast

جواب چھوڑیں