ظفرؔ اِقبال بُھول بیٹھا تھا، مگر یاد بھی خود مَیں…

ظفرؔ اِقبال

بُھول بیٹھا تھا، مگر یاد بھی خود مَیں نے کِیا
وہ محبّت! جسے برباد بھی خود مَیں نے کِیا

نَوچ کر پھینک دِیے، آپ ہی خواب آنکھوں سے
اُس دَبی شاد کو، ناشاد بھی خود مَیں نے کِیا

جال پَھیلائے تھے جِس کے لیے چاروں جانب
اُس گرفتار کو، آزاد بھی خود مَیں نے کِیا

کام تیرا تھا مگرمارے مُروّت کے، اُسے!
تُجھ سے پہلے بھی، ترے بعد بھی خود مَیں نے کِیا

شہر میں کیوں مِری پہچان ہی باقی نہیں رہی
اِس خرابے کو تو، آباد بھی خود مَیں نے کِیا

ہر نیا ذائقہ، چھوڑا ہے جو اَوروں کے لیے
پہلے اپنے لیے، ایجاد بھی خود مَیں نے کِیا

اِنکساری میں مِرا حُکم بھی جاری تھا ظفرؔ!
عرض کرتے ہُوئے، ارشاد بھی خود مَیں نے کِیا

ظفرؔ اِقبال


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
1 تبصرہ
  1. گمنام کہتے ہیں

    خوب

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…