دیکھتے ہی دیکھتے نایاب ہوجاؤں گا میں ایک دن تیرے…

دیکھتے ہی دیکھتے نایاب ہوجاؤں گا میں
ایک دن تیرے لیے بھی خواب ہوجاؤں گا میں
….
قیصر صدیقی سمستی پوری کا یومِ وفات
September 04, 2018

فن پاروں کا سودا کرنا ، قیصر کی مجبوری ہے
غربت سے مجبور ہے قیصرؔ، قیصرؔ سے کیا کہتے ہو
…..
تشنگی یوں ہی بجھالیں گے ، ترے شہر میں ہم
خونِ دل اپنا اچھالیں گے ترے شہر میں ہم
تیری مرضی کو نہ ٹالیں گے ترے شہر میں ہم
اپنی میت بھی اٹھالیں گے ترے شہر میں ہم
جس کو دیکھو وہ نصیحت ہی کئے جاتا ہے
خود کو دیوانہ بنالیں گے ترے شہر میں ہم
اجڑا اجڑا ہے ترے شہر کی راتوں کا سہاگ
درد کا چاند نکالیں گے ترے شہر میں ہم
….
عالم بے چہرگی میں کون کس کا آشنا
آج کا ہر لفظ ہے مفہوم سے ناآشنا
کون ہوتا ہے زمانے میں کسی کا آشنا
لوگ ہونا چاہتے ہیں خود زمانا آشنا
سوچتا ہوں کون سی منزل ہے یہ ادراک کی
ذرہ ذرہ آشنا ہے، پتا پتا آشنا
چاٹ جاتی ہے جنہیں سورج کی پیاسی روشنی
کاش ہوجائیں کسی دن وہ بھی دریا آشنا

ان کا اصل نام ’’افتخار احمد ‘‘ تھا ، قلمی نام ’’قیصر سمستی پوری‘‘ سے مشہور ہوئے ۔ ان کی پیدائش’’ ڈوبتے سورج کا منظر ‘‘ کے مطابق 19مارچ 1937 میں ہوئی تھی ۔ ان کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’صحیفہ‘‘ کے نام سے 1983میں شائع ہوا تھا ۔


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
4 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Thank you اردو کلاسک

  2. گمنام کہتے ہیں

    ارے جناب کیا خوب کہا ھے واہ واہ

  3. گمنام کہتے ہیں

    Excellent

  4. گمنام کہتے ہیں

    Aala

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…