یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے ہوا کی اوٹ بھی لے ک…

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

سفر میں اب کے یہ تم تھے کہ خوش گمانی تھی
یہی لگا کہ کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

غلافِ گل میں کبھی چاندنی کے پردے میں
سنا ہے بھیس بدل کر بھی وہ نکلتا ہے

لکھوں وہ نام تو کاغذ پہ پھول کِھلتے ہیں
کروں خیال تو پیکر کسی کا ڈھلتا ہے

رواں دواں ہے ادھر ہی تمام خلقِ خدا
وہ خوش خرام جدھر سیر کو نکلتا ہے

امید و یاس کی رت آتی جاتی رہتی ہے
مگر یقین کا موسم نہیں بدلتا ہے

(منظور ہاشمی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
4 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    بہت اعلی

  2. گمنام کہتے ہیں

    Bahot zabardaat sir, kya kehne

  3. گمنام کہتے ہیں

    Bohat khoob

  4. گمنام کہتے ہیں

    Wah

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…