آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے کل …

آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
کل کی ہے بات کہ آباد تھے دِیوانوں سے

لے چلی وحشتِ دِل کھینچ کے صحرا کی طرف
ٹھنڈی ٹھنڈی جو ہوا آئی بیابانوں سے

پاؤں پکڑے نہ کہِیں کوچۂ جاناں کی زمِیں
خاک اُڑاتا جو نکل آؤں بیابانوں سے

تنکے چُن جا کے کسی کوچے میں او دستِ جنُوں
کیوں اُلجھتا ہے عبث چاک گریبانوں سے

آج ہی کل میں ہے چلنے کو نسیمِ وحشت
تنگ آنے لگے دِیوانے گریبانوں سے

لڑکھڑا کر ذرا کاندھے پہ سہارا ہو کیا
ہاتھ کٹوائے ہیں ظالم نے مِرے شانوں سے

چُور تھے نشّے میں اور رات بھی آئی تھی بہت
ہو گئے اور وہ غافل مِرے افسانوں سے

زمزوں سے مِرے ہِل جائے نہ صیّاد کا دِل
چوٹ آئے نہ کہِیں درد کے افسانوں سے

چارہ گر قابلِ مرہم نہیں اب زخمِ جِگر
بس مِرے دوست میں باز آیا اِن احسانوں سے

جام لبریز ہُوا ہے کسی مہجور کا آج
بُوئے خُوں آتی ہے ساقی مجھے پیمانوں سے

نہیں معلُوم، اُن آنکھوں کا اشارہ کیا تھا
جنگ پر تُل گئے کفّار مُسلمانوں سے

چلتے چلتے تو گلے شمع سے مِل لیں اُٹھ کر
اب سَحر ہوتی ہے کہہ دے کوئی پروانوں سے

آنکھ اُٹھا کر نہ کسی سمت قفس سے دیکھا
موسمِ گُل کی خبر سُتے رہے کانوں سے

کیا کوئی پُوچھنے والا بھی اب اپنا نہ رہا
دردِ دِل رونے لگے یاسؔ جو بیگانوں سے

مرزا یاسؔ، یگانہؔ، چنگیزی

المرسل: فیصل خورشید


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
4 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Amazing.

  2. گمنام کہتے ہیں

    ھوکیے اور وہ غافل میرے افسانوں سے واہ واہ بہت اچھا جناب

  3. گمنام کہتے ہیں

    Nice

  4. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…