راجدھانی کو پَرنام : دیوندر ستیارتھی

راجدھانی کو پَرنام

ناگ پھنی کے پودوں کے قریب ایک بوسیدہ مکان کے سامنے شنکربابا اپنی نیم اندھی آنکھوں سے سڑک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یا یہ کہیے کہ دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ آج شہر کی طرف سے بہت سی لاریاں پہیوں کی دندناتی ہوئی آواز کو ہوا میں اُچھالتے ہوئے گزررہی تھیں۔ اتنی لاریوں کا کیا مطلب ہے؟ یہ سوال اسے پریشان کررہا تھا۔ اچانک اسے انسانی قدموں کی چاپ سنائی دی۔
’’کون؟ —— دیپ چند؟‘‘ شنکر بابا نے تیزی سے سر گھماتے ہوئے پوچھ لیا۔ کیونکہ وہ تین دن سے دیپ چند کا انتظار کررہا تھا۔
’’پالاکن، بابا!‘‘ آنے والے نے کسی قدر جھک کر اور چہرے پر ایک شگفتہ سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔ اگرچہ بابا کی نیم اندھی آنکھوں میں اب اتنی طاقت نہیں رہ گئی تھی کہ وہ مسکراہٹ تو مسکراہٹ ، کسی کے خدوخال کا صحیح جائزہ بھی لے سکے۔
دیپ چند کی آواز پہچان کر بابا کو بہت خوشی ہوئی۔ کیونکہ تین روز سے وہ اسی کے انتظار میں سڑک کے قریب چلا آتا تھا۔ نہ جانے کیا سوچ کر وہ کہہ اُٹھا:
’’میں تو جانوں شہر گانو کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘
لیکن دیپ چند شنکر بابا کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ تو خود شہر سے آرہا تھا اور ایسی کوئی بات اس نے کسی کی زبان سے نہیں سُنی تھی۔ بظاہر وہ بولا:
’’ہم بھی انسان ہیں، ڈھور تو نہیں کہ کوئی جدھر چاہے ہانک دے۔‘‘
شنکربابا کو ہنسی آگئی جس میں نفرت کی بہت زیادہ آمیزش تھی۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ شہروالے جو چاہیں کر گزریں کیونکہ وہ اندر ہی اندر کھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے من پر قابو پاکر وہ کہہ اُٹھا:
’’تم سچ کہتے ہو دیپ چند۔ ہم ڈھور تو نہیں۔ ہمارا بھی بھگوان ہے۔‘‘
لیکن سڑک سے برابر لاریاں گزررہی تھیں ان کے پہیوں کے شور کے پس منظر میں کان کے پردے پھاڑنے والی ہارن کی آواز گونج اُٹھتی تھی۔ وہ کہنا چاہتاتھا کہ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے۔ شہر سے بھگوان ہی بچائے ہمارے گانو کو۔ ورنہ یہ جھوٹا، دغابازمکار شہر جو بھی کر گزرے تھوڑا ہے۔ گانو کو چاہیے کہ اپنی جان تک لڑا دے اور اپنی زمین سے گز برابر جگہ بھی نہ دے۔ سب دھوکا ہے دھوکا۔ یہ بات تو بھگوان کو بھی نہیں بھائے گی کہ جس دھرتی پر اَن اُگ سکتا ہے وہاں اَن اُگانے پر روک لگا دی جائے۔ یہ تو دھرتی کا اَپمان ہے۔ دھرتی یہ اَپمان نہیں سہہ سکتی۔ سوچ سوچ کر وہ کہہ اُٹھا۔
’’یہ سب دھرم کی کمی کے کارن ہورہا ہے، دیپ چند۔‘‘
’’دھرم بنا نروان کہاں؟‘‘ دیپ چند نے جیسے کسی گیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ اگرچہ وہ من ہی من میں جھینپ سا گیا۔ ابھی اگلے ہی روز شہر میں نہ جانے کون کہہ رہا تھا کہ آج نروان یا مکتی کی تلاش کی بجائے انسان آزادی کے لیے اپنی جان قربان کررہا ہے۔ اس کے دماغ کو جھٹکا سا لگا۔ اس کے دل میں تو یہ خیال شہد کی جنگلی مکھّی کی طرح بھنبھنانے لگا کہ سچ مچ دھرم کے بغیر آزادی مل سکتی ہے۔ لیکن جھٹ اُسے یاد آیا کہ اب تو جنگ بھی ختم ہوچکی ہے۔ آزادی کو تو اب آہی جانا چاہیے۔ بہت انتظار ہولیا۔ اس نے دور سڑک کی طرف نگاہ ڈالی جیسے یکایک کوئی لاری رُک جائے گی اور لاری سے اُتر کر آزادی کی دیوی سب سے پہلے اسی بوسیدہ مکان کے رستے پر چل پڑے گی۔ اس وقت اسے ناگ پھنی کے پودوں کی قطار پر بے حد جھنجھلاہٹ سی محسوس ہوئی۔ آزادی کی دیوی کے سواگت کے لیے تو کوئی نیا ہی اُپائے ہونا چاہیے۔
شنکر بابا مٹی کے چبوترے پر بیٹھے بیٹھے بچپن کی یاد میں کھوگیا جب ابھی ادھر سے یہ سڑک بھی نہیں نکلی تھی۔ کھیت سے گانو کافی دور تھا اور اس کا باپ کھلی ہوا میں رہنا زیادہ پسند کرتا تھا۔ بہت سوچ سوچ کر اس نے یہ کوٹھا بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ سال کے سال اس کوٹھے کی چھت اور دیواروں پر لپائی پوتائی کی جاتی تھی۔ اس وقت اسے ایسے ہی دوسرے کوٹھوں کا دھیان آیا جو اس سے پہلے تعمیر کیے گئے تھے اور سڑک کے بیچ میں آجانے کے سبب سے گرا دیے گئے تھے۔ اب تو محض تین چار کوٹھے ہی تھے جو سڑک کے کنارے یا اس سے کسی قدر ہٹ کر نظر آرہے تھے۔ سڑک نے بہت سے کھیتوں کو دو دو حصّوں میں بانٹ دیا تھا۔ خیر یہ تو پُرانی کہانی تھی۔ نئی کہانی تو اتنی ہی تھی کہ اب سڑک کے کنارے کسی کو نیا کوٹھا بنانے کی اجازت نہیں۔ لگے ہاتھوں یہ حکم بھی سنا دیا گیا تھا کہ کوئی سڑک کے کنارے اپنے کوٹھے کی لپائی پوتائی نہ کرے۔ اس کا مطلب صاف یہی تھا کہ یہ کوٹھے خود ہی گرجائیں گے۔
دیپ چند نہ جانے کیا سوچ کر کوٹھے میں جھاڑو دینے لگا۔ شاید اس کے ذہن کے کسی کونے میں آزادی کی دیوی کی تصویر اُجاگر ہورہی تھی۔ باربار اس کی نگاہیں سڑک کی طرف اُٹھ جاتیں۔ جیسے اسے یقین آرہا ہو کہ آزادی کی دیوی نے جیب سے پیسے دے کر لاری کا ٹکٹ لیا ہوگا اور اسے ٹھیک منزل پر اُترنے کی بات نہیں بھولے گی۔جنگ تو کبھی کی ختم ہوچکی، اس نے سوچا اب تو بہت سے فوجی بھی برخاست کردیے گئے۔ توپ بندوق سنبھالنے کی بجائے یہ لوگ پھر سے ہل چلائیں گے۔ یہ دھرتی کی جیت ہے۔ جن لوگوں کی دھڑادھڑ گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں وہ سب لمبی قیدیں کاٹ کر باہر آچکے ہیں۔ ہاں جن ماؤں کے بیٹے جنگ میں کام آئے، یا آزادی کی لڑائی میں پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ابھی تک اُداس بیٹھی ہوں گی۔ وہ شنکربابا سے کہنا چاہتا تھا کہ پت جھڑ کے بعد دوبارہ بسنت آتا ہے۔ پھاگن آئیو رنگ بھریو … وہ زیر لب گنگنانے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ پھاگن کی تعریف میں باتوں کے پُل باندھ دے۔ کیسا سہانا سماں ہے۔ نہ سردی نہ گرمی۔ سال کے سال یہ رُت آتی ہے۔ پھاگن آئیو رنگ بھریو … پھاگن کا مزہ تو گانو میں ہے۔ شہر والے پھاگن کو نہیں پہچانتے۔ اسی لیے تو آزادی کی دیوی کو شہر سے پہلے گانو میں آنا چاہیے۔ اسے دیکھتے ہی اُداس ماؤں کے چہروں پر پھر سے مسکراہٹیں تھرک اُٹھیں گی۔
شنکر بابا چبوترے سے اُٹھ کر کوٹھے کے اندر چلا آیا۔ اور آنکھیں پھیلا پھیلا کر چھت کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ چاہتا تھا کہ دیپ چند سے کہے ذرا لگے ہاتھ چھت کے جالے بھی اُتار دو ۔ کوٹھے کے اندر دھول کا بادل اُمڈآیا تھا۔ ہمدردی کے احساس سے مجبور ہوکر وہ کہہ اُٹھا:
’’ہولے ہولے، دیپ چند — بیٹا، ہولے ہولے ہاتھ چلاؤ‘‘ دھول اور پھیپھڑوں کا بیر چلا آتا ہے۔‘‘
دیپ چندسے بھی یہ بات چھپی ہوئی نہ تھی۔ لیکن اس وقت وہ یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ بولا : ’’دھول سے تو شہر والے ہی زیادہ ڈرتے ہیں، بابا گانو والے تو دھول میں جنم لیتے ہیں، دھول میں ہی ایک دن دم توڑ دیتے ہیں۔‘‘
کہنے کو تو دیپ چند نے یہ بات کہہ دی۔ لیکن وہ جھینپ سا گیا۔ جیسے اسے یہ خیال آگیا ہو کہ اگر یہ بات آزادی کی دیوی کے کان میں پڑجائے تو وہ اپنا ارادہ بدل سکتی ہے اور کرودھ میں آکر گانو والوں کے سواگت کو ٹھکرانے کا فیصلہ کرلے تو سمجھیے کہ بنا بنایا کھیل ہمیشہ کے لیے بگڑ گیا۔ ایک ہاتھ سے گریبان کا بٹن بند کرتے ہوئے اس نے جھاڑو کی رفتار ایک دم دھیمی کردی۔ کیونکہ کھلے ہوئے گریبان سے تو نئے زمانے کو نمسکار کرنا نہ کرنا ایک برابر ہوتا۔
کوٹھے کے ایک کونے سے لمبا سا بانس اُٹھاکر بابا نے اس کے سرے پر اپنا انگوچھا باندھ دیا اور ہولے ہولے اس جھاڑن کو چھت پر گھمانے لگا۔ جیسے ماں اپنے ننھے کی پشت پر تھپکیاں دے رہی ہو۔ وہ چاہتاتھا کہ ایک بھی جالا باقی نہ رہ جائے۔ اس وقت اسے اپنی کمزور نگاہ پر غصّہ آرہا تھا۔ لیکن وہ دیکھی اَن دیکھی جگہ پر جھاڑن گھمائے جارہاتھا اور وہ بھی کچھ اس انداز میں جیسے کوئی کسی کو غصّہ تھوکنے پر رضامند کرتے ہوئے یہ دلیل دیتا چلاجائے کہ میں نے کچھ قصور کیا ہو تو بھی معاف کردو اور قصور نہ کیا تو بھی۔
دیپ چند جھاڑو دے چکا تو اس نے بابا کے ہاتھ سے جھاڑن لیتے ہوئے کہا: ’’میرے ہوتے تم کشٹ کرو، بابا!یہ تو مجھے شوبھا نہیں دیتا۔‘‘
بہت سے جالے تو پہلے ہی جھاڑن سے لپٹ چکے تھے۔ اب رہے سہے جالے بھی دوچار بار اِدھر اُدھر جھاڑن گھمانے سے لپٹ گئے ، یوں ہی جھاڑن جالوں والا سرا نیچے زمین کی طرف کیا گیا۔ دیپ چند کے جی میں تو آیا کہ بابا سے کہے، جھاڑن کیا ہے، یہ تو کسی گندی سی بھیڑ کے جسم کی یاد دِلا رہا ہے، جسے سو سو آندھیوں کی دھول نے میلا کر رکھا ہو۔ یہ خیال آتے ہی دوبارہ اس کے ذہن کوجھٹکا سا لگا۔ آزادی کی دیوی تو صاف ستھری چیزوں کو پسند کرتی ہوگی۔
دھوتی کو کمر کے گرد کس کر اور کدال اُٹھا کر وہ چبوترے سے نیچے رکھے ہوئے مٹی کے ڈھیر پر کھڑا ہوگیا اور بیچ میں ایک گڑھا سا بنانے لگا تاکہ جب اس پر پانی ڈالا جائے تو بیکار باہر نہ نکل جائے۔
کوٹھے کی بغل میں کنواں تھا۔ ڈول بھربھر کر وہ مٹی پر پھینکنے لگا۔ بابا بولا:’’کہو تو میں مدد دوں، دیپ چند۔‘‘
’’تمھارا ہی تو آسرا ہے بابا‘‘ دیپ چند نے کنوئیں میں ڈول پھینکتے ہوئے کہا ’’جہاں جہاں سے کوٹھے کی دیواریں خراب ہورہی ہیں وہاں وہاں آج ہی مٹی لگانے کا کام ختم کردینا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مٹی میں ملانے کے لیے لید میں نے تیار کررکھی ہے، کل تم نہ آئے تو میں نے سوچا خالی بیٹھے رہنے سے تو کچھ کام کرتے رہنا اچھا ہے۔‘‘ بابا نے بازو پھیلا کر کہا۔
لوہے کے تسلے میں ہاتھ سے مل کر باریک کی ہوئی لید بھربھر کر بابا مٹی پر پھینکنے لگا۔ دیپ چند کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بابا کوٹھے کی مرمت میں بہت دلچسپی لے رہا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ بابا سے صاف صاف کہہ دے کہ اگر کوٹھے کی مرمت کرنے کے جُرم میں کوئی اسے پھانسی پر بھی لٹکا دے تو اسے رنج نہ ہوگا کیونکہ یہ تو ناممکن تھا کہ کوئی گندے سے کوٹھے کے سامنے بیٹھ کر آزادی کی دیوی کا انتظار کرے۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ لنگوٹی کس کر مٹی کے ڈھیر پر چڑھ گیا اور زور زور سے پانو چلاکر مٹی اور لید کو ملانے لگا۔ یہ فن اسے ورثہ میں ملا تھا — دلدل نما مٹی میں پانو چلانے کا فن۔ پانو چلانے سے عجیب سی آواز نکلتی تھی۔ جس سے اس کے کان مانوس تھے۔ وہ یوں پانو چلارہاتھا، جیسے کوئی نرتکی موسیقی کے تال پر وجد کا سماں باندھ دے۔
بابا نے چبوترے کے ساتھ ساتھ رکھے ہوئے تینوں کے تینوں گھڑوں کو بیک نظر غور سے دیکھا جن میں کافی مقدار میں چکنی مٹی ڈال دی گئی تھی۔ بولا: ’’پہلے دس بیس ڈول پانی ان گھڑوں میں ڈال دو دیپ چند۔‘‘
دلدل سے نکل کر دیپ چند پھر کنوئیں کی منڈیر سے سٹ کر کھڑا ہوگیا۔ اس وقت وہ بھوؤں کی محرابوں کے نیچے جہاں پھاگن کا آنند تھرک رہا تھا، آزادی کے کل تصور کو مرکوز کرتے ہوئے پانی نکالنے لگا اور یونہی پانی چکنی مٹی والے گھڑوں میں پھینکا جانے لگا۔ ایک سوندھی سوندھی سی خوشبو اُٹھی اور اس کے پیش نظر اسے مٹی اور لید کی دلدل سے آنے والی بو پر شعوری طور پر شدید غصّہ آنے لگا۔ لیکن یہ سوچ کر کہ ہر چیز کی اچھائی بُرائی کا فیصلہ محض بو پر نہیں چھوڑا جاسکتا اسے کسی قدر تسلی محسوس ہوئی۔
بابا بولا : ’’جیسے درزی پھٹے ہوئے کپڑے پر نئے جوڑ لگا دیتا ہے ویسے ہی جہاں جہاں دیواریں مرمت مانگتی ہیں لیڈ مٹی لگانے کا رواج بہت پرانا ہے۔‘‘
’’ہاں، ہاں‘‘ دیپ چند نے گھڑے میں آخری ڈول ڈالتے ہوئے کہا۔
دیواروں کی خراب جگہوں پر پانی چھڑکنے کے لیے لے دے کر وہی تسلا نظر آرہاتھا۔ بابا نے رُخ سمجھتے ہوئے ڈول کی رسّی سنبھال کر کہا میں پانی نکالتا ہوں تم اسے جھٹ جھٹ وہاں وہاں جھڑکتے چلے جاؤ جہاں جہاں مٹی کی ٹاکی لگاؤگے۔‘‘
دیپ چند نے نہیں نہیں کی رٹ لگاتے ہوئے بابا کے ہاتھ سے رسی تھامتے ہوئے کسی قدر جھنجھلاکر ڈول کو کنوئیں میں پھینک دیا۔ اس سے ایک احمقانہ سی آواز پیدا ہوئی جس سے کان کے پردوں پر ایک چپت سی لگی۔ وہ دائیں ہاتھ سے رسی تھام کر بائیں ہاتھ سے بائیں کنپٹی کھجلانے لگا۔ ایک لمحہ کے لیے باپ کی یاد نے اس کے دل و دماغ کو گھیر لیا۔
پانی زمین سے اتنا دور کیوں ہے۔ وہ بابا سے پوچھنا چاہتا تھا۔ ایک بے تاب سی نگاہ سڑک کی طرف ڈالتے ہوئے اُسے خیال آیا کہ جیسا کہ لوگوں میں مشہور تھا کہ اُس کا باپ ابھی تک زندہ ہوگا۔ آج سے دس برس پہلے جب اس کی ماں اسی کوٹھے میں موت کی گود میں سوگئی تھی، اس کے باپ کے دل پر کچھ ایسی چوٹ لگی کہ وہ گھر چھوڑ کر چلاگیا تھا۔ پانچ سال تک تو جیسے کوئی بھیڑ میں گم ہوجائے کسی کی زبان سے اس کے بارے میں کچھ بھی سننے کو نہ ملا۔ پھر شہر سے یہ خبر آنے لگی کہ رانا جی یعنی اس کا باپ وہاں رہتا ہے۔ اور لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ وہ تو اب کوی بن گیا ہے۔ اور ایسے ایسے گیتوں کی رچنا کرتا ہے کہ سننے والوں کے سامنے نئے زمانے کی تصویر آجاتی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ آزادی کی دیوی کے آنے سے پہلے اس کا باپ ہی یہاں آپہنچے وہ جلدی جلدی ڈول نکالنے لگا۔
تسلے میں پانی انڈیلتے ہوئے اسے بڑی شدت سے یہ خیال آیا کہ بابا سے کہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب وہ اپنے بیٹے رانا جی کے سر پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیر سکے گا۔
’’ایک ڈول بھرکر رکھ لو‘‘ بابا نے کانپتی ہوئی آواز سے کہا۔ جس پر خواہ مخواہ پتنگ کی ڈور کا گمان ہوتا تھا جس پر سے وقت کے مسلتے ہوئے ہاتھوں نے رہے سہے مادے کے آخری نشانات تک اُتار نے شروع کردیے ہوں۔
دیپ چند کے دل و دماغ پر ایک چوٹ سی لگی۔ کیونکہ وہ ڈول یا پانی کی بجائے راناجی کی یاد میں اُلجھ گیا تھا۔ لیکن اس نے خود کو ایک ڈول بھر رکھنے پر مجبور پایا۔ اب کے اس نے رسّی کو زور سے تھام کر ایک دم ڈول کو کنوئیں میں پھینک دیا، جیسے وہ اس دیوانی ، چیخ نما آواز سے اپنی پوشیدہ حسرت کا اظہار کیا چاہتا ہو۔ ڈول کھینچتے ہوئے اسے خیال آیا کہ کیوں نہ ڈول کو کنوئیں میں پھینک کر شہر کی طرف چل دے اور اب کے راناجی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوکر رہے۔ اگر رانا جی مل جائے تو وہ اپنے بیٹے کی درخواست کو ٹھکرا نہیں سکے گا۔ وہ سوچنے لگا کہ بابا سے ایسی کون سی غلطی سرزد ہوگئی تھی کہ رانا جی نے ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک بار بابا نے اسے بتایا تھا کہ اس نے تو محض اس خیال سے کہ ننھا دیپ چند پل جائے گا ، راناجی کا دوسرا بیاہ رچانے کا پربند شروع کردیا تھا۔ لیکن راناجی کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی۔ وہ اپنے ننھے کو سوتیلی ماں کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتاتھا۔
بھرا ہوا ڈول کنوئیں کی منڈیر پر چھوڑکر دیپ چند نے پانی والا تسلا اُٹھا لیا۔ وہ چاہتاتھا کہ پانی کی ایک بھی بوند زمین پر نہ گرنے پائے وہ کوٹھے کی طرف جارہا تھا۔ بابا بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ آلے سے نکال کر ایک کوزہ دیپ چند کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بابا بولا: ’’لو بیٹا اس کوزے سے پانی چھڑکو۔ پانی تھوڑا خرچ ہوگا۔
کوزہ لیتے ہوئے دیپ چند نے کسی قدر جھنجھلاکر بابا کی طرف دیکھا۔ وہ کہنا چاہتاتھا کہ تم ذرا ذرا سی بات کی اتنی فکر رکھتے ہو، تو بتاؤ تم نے راناجی کو کیسے بھلا دیا۔ اگر وہ لوگوں کا حوالہ دے کر بابا سے کہتا کہ رانا جی شہر میں رہتا ہے تو اسے یقین ہی نہ آتا اور آج بھی وہ یہی جواب دیتا کہ لوگ صرف اسے دِق کرنے کے لیے اس قسم کی باتیں کہہ چھوڑتے ہیں کہ انھوں نے شہر میں راناجی کو دیکھا ہے۔ اگر سچ مچ رانا جی گانو سے اس قدر قریب شہر میں رہتا ہوتا تو کیا کبھی کبھار اس کا جی اپنے بوڑھے باپ اور جوان بیٹے کو دیکھنے کے لیے تڑپ نہ اُٹھتا۔
دیوار پر ایک مرمت طلب جگہ پر کوزے سے پانی چھڑکتے ہوئے دیپ چند نے کہہ تو دیا: ’’میں نے تو شہر میں رانا جی کو نہیں دیکھا۔ لیکن جب دوسرے لوگ گانو سے شہر جاتے ہیں اور واپس آکر ہمیشہ یہ ہی کہتے ہیں کہ انھوں نے رانا جی کو دیکھا ہے تو میرا دل اُداس ہو اُٹھتا ہے۔
’’آسمان پھاڑ کر ٹھِگلی لگانے والی عورت کی طرح یہ لوگ جھوٹ موٹ کہہ چھوڑتے ہیں‘‘ بابا نے چھکڑے کے بوڑھے بیل کی طرح جو آگے بڑھنے کی بجائے اُلٹا پیچھے کی طرف ہٹنا شروع کردے، ہزار بار کہی ہوئی بات ایک بار پھر دُہرا دی۔
کوٹھے کے اندر باہر جہاں جہاں دیواریں مرمت چاہتی تھیں دیپ چند نے جلدی جلدی پانی چھڑک دیا۔ تسلا خالی ہوجانے پر وہ اسے پھر سے بھرلایا۔ زینے کی مدد سے اس نے اونچی جگہوں پر بھی پانی چھڑک دیا۔ پھر اسی تسلے میں لید مٹی بھربھر کر وہ ان جگہوں پر پیوند لگاتا چلا گیا۔
بابا باہر مٹی کے چبوترے پر جابیٹھا۔ اس کی پیٹھ شہر کی طرف تھی یہ اس کا خاص انداز تھا۔ جیسے وہ یہ سمجھتا ہو کہ اس بڑھاپے میں بھی اس میں اتنی طاقت موجود ہے کہ بڑھتے ہوئے شہر کو یہیں روکے رکھے۔
پیوند لگانے کے کام سے فارغ ہوکر دیپ چند دیواروں پر اندر باہر چکنی مٹی کی تہہ چڑھانے لگا۔ وہ اس کام سے ترت نپٹ لینا چاہتا تھا۔ جھٹ سوچا پٹ کیا، انداز میں اس کے ہاتھ جلدی جلدی حرکت کررہے تھے اور اس جلدبازی میں اسے یہ پروا نہ تھی کہ اس کے کپڑوں پر چکنی مٹی کے دھبے پڑ رہے ہیں۔ اسے ایک بار پھر راناجی کا خیال آگیا۔ آج وہ یہاں آنکلے تو اپنے بیٹے کے کام کی تعریف ضرور کرے۔ رانا جی تو کوی ہے، گیتوں کی رچنا کرتا ہے۔ اپنے بیٹے کے کام سے خوش ہوکر وہ ضرور کوئی نیا گیت رچ ڈالے گا۔ آزادی کا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ خوشی تو کسی کوی کو ہی ہوسکتی ہے۔ وہ بابا سے کہنا چاہتا تھا کہ کیوں نہ ہم دونوں شہر جاکر راناجی کو ڈھونڈ لائیں۔ کیا گانو میں رہ کر گیت نہیں رچے جاسکتے؟ بھگوان نے چاہا تو ہمیں راناجی ضرور نظر آجائے گا۔ یہ کوٹھا تو ایک کوی کو ضرور بھائے گا۔ ہم گانو والے مکان میں رہیں گے۔ آج وہ بابا کو اپنے دل کا بھید بتانا چاہتا تھا کہ مہینے کے مہینے وہ صرف راناجی کی تلاش ہی میں شہر جایا کرتا ہے۔ اگرچہ یہ بات کبھی کھل کر نہیں بتائی تھی۔ آج وہ یہاں تک کہہ دینا چاہتاتھا کہ ایسے باپ بھی ہیں جو بیٹوں کو بھول جاتے ہیں جیسے بابا راناجی کو بھول گیا اور رانا جی نے دیپ چند کو بھلا دیا۔ لیکن ایسے بیٹے بھی ہیں جو اپنے باپ کی یاد کو کبھی نہیں بُھلاسکتے۔
دوپہر ڈھل گئی تھی۔ سڑک پر لاریاں برابر آجارہی تھیں۔ چھکڑے بھی گزررہے تھے۔ نہ جانے کیا سوچ کر بابا کہہ اُٹھا:
’’میں نے تو سنا ہے کہ سرکار یہ حکم دینے والی ہے کہ اس سڑک سے چھکڑے نہ گزراکریں۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ دیپ چند نے کوٹھے کے دروازے کی باہر کی دیوار پر چکنی مٹی کا پردلا پھیرتے ہوئے کہا۔
بابا کی تسلی نہ ہوئی اس نے ایک سہمی ہوئی لرزتی ہوئی آواز میں کہا: ’’شہر کی نیت اچھی نہیں، دیپ چند۔ شہر کی ٹھگ وِدیا کو تم سے زیادہ میں سمجھتا ہوں، بیٹا!‘‘
دیپ چند کا جی اُکتا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ تھک چکے تھے۔ لیکن وہ کپڑے کے پردلے کو چکنی مٹی میں بھگو بھگو کر دیوار پر پھیرتا رہا جیسے کوئی ہوشیار کاریگر سفیدی کی کوچی پھیرتا ہے۔ چکنی مٹی کی خوشبو اس کی لرزتی ہوئی روح کو سہارا دیے جارہی تھی۔ تازہ پوتی ہوئی دیوار کے قریب ہوکر وہ اسے سونگھنے کی کوشش کرتا۔ وہ کہنا چاہتاتھا کہ بھلے ہی شہر میں بیٹھی ہوئی سرکار یہ حکم نکال دے کہ اس سڑک پر چھکڑے نہیں گزرسکتے ۔ لیکن وہ ایسا کوئی حکم تو نہیں نکال سکتی کہ گانو والے چکنی مٹی کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکیں۔ یہ خیال آتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ وہ بابا سے کہنا چاہتا تھا کہ اگرچہ سرکار نے تو یہ حکم دے رکھا ہے کہ کوئی سڑک کے کنارے اپنے کوٹھے کی مرمت تک نہ کرے، ہم نے سرکار کا حکم توڑ ڈالا۔ اب ہم دیکھں گے کہ اِس جرم میں ہمیں کیسے پھانسی پر لٹکاسکتی ہے۔
پردلا پھیرنے سے نبٹ کر دیپ چند کنوئیں سے ڈول نکال کر ہاتھ منھ دھونے لگا۔ اس کے پانو بے حد بوجھل ہورہے تھے۔ یہ سوچ کر کہ اب گانو کا ڈیڑھ کوس فاصلہ طے کرنا ہوگا، وہ اپنے اوپر جھنجھلارہا تھا۔ اس نے مڑ کر بابا کی طرف دیکھا جو چبوترے پر بت بنا بیٹھا تھا۔ وہ بابا سے کہنا چاہتا تھا کہ تمھاری انگلی پکڑکر گانو جانے کی بجائے اکیلے جانا کہیں آسان ہوگا۔ لیکن بابا، یہ تم کب ماننے لگے۔ اس نے من ہی من میں فیصلہ کرلیا کہ وہ بابا کو ساتھ تو لے جائے گا۔ لیکن اسے بے سر پیر کی باتیں کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔آخر اس کا بھی کیا فائدہ کہ بات بات میں شہر کو کوسا جائے۔ شہر میں بھی انسان بستے ہیں۔ شہر میں رانا جی رہتا ہے۔ اگرچہ ہم ابھی تک اس کا پتہ نہیں چلاسکے۔ لیکن رانا جی کب تک چھپا رہ سکتا ہے۔ ہم اس کا پتہ چلاکر چھوڑیں گے۔
معاً کوٹھے کے پیچھے سے بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کی ٹن ٹن گونج اُٹھی۔ دیپ چند نے دوڑ کر چھکڑے والے کو آواز دی۔ ارے رُک جائیو بھیّا!
چھکڑا رُک گیا۔ دیپ چند نے دور ہی سے پہچان لیا کہ یہ نروتم کا چھکڑا ہے، جسے وہ اُڑن پکھیرو کہہ کر پکارتاتھا۔
وہ لپک کر بابا کے پاس آیا۔ اور بولا : ’’اُٹھو بابا ، گانو چلیں گے۔‘‘
بابا نے جیسے خواب سے چونک کر پوچھا: ’’پیدل؟ ارے دیپ چند بیٹا، مجھ سے تو پیدل نہیں چلا جائے گا۔‘‘
دیپ چند کے جی میں تو آیا کہ بابا کا ہاتھ چھوڑ کر اکیلا چھکڑے پر جا بیٹھے۔ لیکن من ہی من میں اپنے اس حقیر خیال پر لعن طعن کرتے ہوئے وہ کہہ اُٹھا!’’پیدل کیوں بابا، چھکڑا ہے — نروتم گانو جارہا ہے۔ میں نے کہا ہمیں بھی ساتھ لیتے جائیو۔‘‘
اس وقت بابا کی زبان سے نروتم کی تعریف میں کئی اچھے اچھے جملے نکل گئے، جیسے کوئی نقیب اپنا فرض بجا لارہا ہوں۔ دراصل نروتم سے کہیں زیادہ وہ گانو کے گن گارہاتھا اور وہ گانو کے مقابلے پر شہر کی بُرائی کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتاتھا۔ شہر میں تو کوئی کسی کو راستہ تک نہیں بتانا چاہتا۔ کسی کو اتنی فرصت ہی نہیں، لیکن گانو کی اور بات ہے۔ گانو میں تو لوگ چھکڑا روک کر بغیرعوضانہ لیے پیدل چلنے والوں کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے ہیں۔
’’پالاگن بابا‘‘ نروتم نے بابا کو نزدیک آتے دیکھ کر کہا۔
’’جُگ جُگ جیو بیٹا‘‘ بابا نے آشیرباد دیتے ہوئے کہا۔ لیکن اس وقت نروتم سے کہیں زیادہ وہ گانو کو آشیرباد دے رہا تھا۔ ٹھیک ہی تو تھا۔ شہر لاکھ کوشش کرے کہ گانو اُجڑجائے۔ لیکن گانو کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے۔ گانو زندہ رہے گا۔
بابا اور دیپ چند چھکڑے پر بیٹھ گئے۔ نروتم نے بیلوں کو ہانکتے ہوئے پیچھے مُڑکر بابا کی طرف دیکھا۔ بولا: ’’تم کہو تو چھکڑے کو موٹر بنادوں بابا!‘‘
بابا اور دیپ چند ہنس پڑے اور اُن کی ہنسی میں نروتم کا قہقہہ بھی چینی کی ڈلی کی طرح گھل گیا۔ چھکڑا موٹر نہیں بن سکتا، یہ سب جانتے تھے شاید نروتم یہ کہنا چاہتا تھا کہ گانو کے کچے رستے پر تو موٹر کی طبیعت بھی بگڑجاتی ہے۔ اور بگڑی ہوئی طبیعت والی موٹر پر تو چھکڑا بھی بازی لے جاسکتا ہے۔
بیلوں کے گلے میں گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ دیپ چند کو یہ متواتر تھکا دینے والی ٹن ٹن بہت ناگوار گزری۔ لیکن وہ اتنی ہمت بھی تو نہیں دِکھاسکتا تھا کہ چھکڑا روک کر پہلے بیلوں کے گلے سے گھنٹیاں اُتار لے اور پھر نروتم سے کہے کہ اب تم چھکڑا چلاسکتے ہو۔
نروتم کہہ اُٹھا: ’’میں جانوں دیپ چند آج تم نے کوٹھے کی لیپائی پوتائی کر ڈالی۔ یہ تمھارے کپڑوں پر چکنی مٹی کے نشان صاف بتا رہے ہیں۔‘‘
’’ہاں سرکار‘‘ دیپ چند نے جواب دیا۔ جیسے وہ نروتم سے یوں مخاطب ہوکر اپنے جرم کی تلافی کررہا ہو۔
’’سرکار بھی کیسے کیسے حکم نکالتی ہے‘‘ نروتم نے بیلوں کی پشت پر زور سے کوڑے کا وار کرتے ہوئے کہا۔ ’’تم نے بھی سرکار کا حکم توڑ کر کے گانو کی لاج رکھ لی۔‘‘
’’ہاں سرکار!‘‘ دیپ چند نے اپنا لہجہ قائم رکھتے ہوئے کہا جیسے وہ سرکار کے سامنے جواب دہی کی مشق کررہا ہو۔
بابا بولا: ’’میں سرکار سے کہوں گا کہ اپنے کوٹھے کی لیپائی پوتائی میں نے کی ہے۔ اس کی سزا مجھے دو۔‘‘
نروتم کو بھی جوش آگیا۔ بولا:’’تم دونوں خاموش رہنا۔ میں سرکار سے کہوںگا کہ کوٹھے کی لیپائی پوتائی دراصل میں نے کی ہے۔‘‘
بابا دیپ چند کا کندھا جھنجھوڑکر کہنا چاہتا تھا کہ جب تک گانو میں ایسے لوگ زندہ ہیں، گانو کبھی نہیں مٹ سکتا۔ چاہے شہر لاکھ جتن کرلے۔ نروتم نے نہ جانے کیا سوچ کر پوچھ لیا: ’’تم شہر گئے تھے دیپ چند! کہو کیا خبر لائے۔ کہو تم نے رانا جی کو بھی کہیں دیکھا یا نہیں، کیا کم سے کم کسی کو اس کے بارے میں بات کرتے بھی نہیں سنا؟‘‘
’’نہیں تو‘‘ دیپ چند نے ہارے ہوئے سپاہی کے لہجہ میں جواب دیا۔‘‘
’’لوگ تو کہتے ہیں راناجی شہر میں رہتا ہے اور دیش بھگتی کے گیت رچتا ہے‘‘ نروتم نے زور دے کر کہا جیسے وہ کہنا چاہتا ہوکہ کیا تم دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اتنے ہی بدھو ہو کہ نہ تم نے راناجی کو دیکھا نہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ کہتے سنا۔
بابا نے سرد آہ بھرکر کہا: ’’کون جانے راناجی کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ لوگ تو باتیں بناتے ہیں۔ اگر راناجی سچ مچ شہر میں ہوتا تو کیا کبھی بھول کر بھی گانو میں نہ آتا؟‘‘
نروتم نے ہنس کر کہا: ’’راناجی کوی ہے۔ اور کوی وہیں رہتا ہے جہاں لوگ اس کی کویتا سنتے ہیں اور اس کی کویتا کی قدر کرتے ہیں۔‘‘
دیپ چند کہہ اُٹھا:’’میں راناجی سے ملنا چاہتا ہوں۔ پہلے بیٹے کے ناطے، پھر کوی کی کویتا سننے کی خاطر۔‘‘
بابا بولا: ’’جتنی خوشی ایک بیٹے کو یہ سوچ کر ہوسکتی ہے کہ اس کا باپ ایک کوی ہے تو اس سے بھی زیادہ خوشی ایک باپ کو یہ سوچ کر ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا کوی ہے۔‘‘
نروتم نے شہ دی : ’’رانا جی کا نام آتے ہی سارے گانو کا سر بڑے ابھمان کے ساتھ اونچا اُٹھ جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں ایسے بیٹے گھر گھر جنم لیں۔ دھنیہ ہے اِس ماں کی کوکھ جس نے راناجی کو جنم دیا۔‘‘
بابا کی زبان سے اک دبی دبی سی آہ نکل گئی۔ وہ کہنا چاہتاتھا کہ کاش آج راناجی کی ماں زندہ ہوتی اور وہ اپنے کانوں سے لوگوں کو اپنے بیٹے کی تعریف کرتے سنتی۔
کھیتوں کے بیچو ں بیچ جانے والے راستہ پر گرد کا بادل امڈ رہا تھا ۔ نروتم بیلوں کو اُڑائے لیے جارہا تھا۔ کبھی ڈرادھمکا کراور اکثر پچکار کر وہ بیلوں کی ہمت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
دیپ چند بولا : ’’اتنی کیا کسی کی بارات چڑھنے کی جلدی ہے، نروتم!‘‘
بابا نے شہ دی:’’بیل اور انسان کی ذات میں بہت بڑا انتر تو نہیں ہے، بیٹا۔ میں تو جانوں نروتم کے بیل خوش ہوکر آپ ہی آپ اُڑے چلے جارہے ہیں۔
نروتم نے اپنی تعریف سن کر بیلوں کو بڑی گرمجوشی سے پچکارا۔ آج وہ سچ مچ چھکڑے کو موٹر بنا دینے پر تُلا ہوا نظر آتا تھا۔ اگرچہ دنیا ترقی کرتے کرتے موٹر بلکہ ہوائی جہاز تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن نروتم کو بھی اپنے چھکڑے پر ناز تھا۔ چھکڑے پر بیٹھ کر وہ یہ سمجھنے لگتاتھا کہ یہ گانو بھی کسی راجدھانی سے کم نہیں بلکہ وہ تو من ہی من میں یہ تصور قائم کرلیتاتھا کہ اس راجدھانی کا مہاراجہ وہ خود ہی ہے۔ حالانکہ یہ سوچ کر کہ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ نہ تو اس کے نام کا سکّہ چلتا ہے اور نہ لوگ اس کا حکم بجا لانے کے لیے مجبور ہیں۔ اسے اپنے اوپر غصّہ آنے لگتا۔ اس وقت وہ لے دے کر بیلوں ہی میں اپنی پرجا کی تصویر دیکھنے لگتا۔ راستہ سیدھا ہو یا ٹیڑھا، صاف اور برابر ہو، یا اوبڑکھابڑ، بیلوں کو تو اپنے مہاراجہ کا حکم ماننا ہی پڑتاتھا۔
ٹن ٹن — ٹن ٹن، بیلوں کے گلے کی گھنٹیاں مہاراجہ ادھیراج کی سواری کا نقشہ باندھ رہی تھیں۔ دور سے گانو کے کوٹھے نظر آرہے تھے۔ ذرا اور قریب جانے پر معلوم ہوا کہ گانو کی سرحد پر بہت سے لوگ جمع ہورہے ہیں۔ گویا مہاراجہ نے اپنے راج پاٹ میں بغاوت کے خطرے کا احساس کرتے ہوئے پکارا: ’’بڑھے چلو بیٹو!‘‘
بابا بولا: ’’شہر اس بھاشا کا مرم نہیں پہچان سکتا۔ شہر کی بھاشا اور ہے گانو کی اور۔‘‘
دیپ چند نے جیسے بابا کی بات پر حاشیہ چڑھاتے ہوئے کہا: ’’بابا، تمھارا یہی مطلب ہے نا کہ شہر کے لوگ گانو والوں کی طرح مویشیوں کے ساتھ یہ ایکتا کا بھاؤ انوبھو نہیں کرسکتے۔‘‘
’’ہاں بیٹا!‘‘ بابا نے جیسے دیپ چند کو شاباشی دیتے ہوئے کہا ’’روپ میں شہر بڑا ہے گُن میں گانو۔‘‘
جوں جوں گانو قریب آتا گیا، سب کی توجہ گانو کی سرحد پر جمع ہونے والے لوگوں پر مرکوز ہوتی گئی۔ بابا بولا:’’میرا ماتھا ٹھنک رہا ہے۔‘‘
’’تم تو ہمیشہ یونہی ڈرجاتے ہو، بابا۔’’دیپ چند نے مصنوعی جرأت دِکھاتے ہوئے کہا۔
’’بڑھاپے اور ڈر کا پُرانا میل ہے۔‘‘ نروتم نے بیلوں کی پشت پر زور سے کوڑا لگاتے ہوئے کہا ’’بابا، ہمارے ہوتے تمھیں کوئی ڈر نہیں۔‘‘
گانو کی سرحد پر راستہ کو بہت بڑے ہجوم نے روک رکھا تھا۔ چھکڑا ایک کنارے چھوڑ کر دیپ چند ، بابا اور نروتم ہجوم میں گھس گئے۔
’’ہوئی نہ وہی بات‘‘ بابا نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہا۔ ’’ضرور گانو پر آفت آنے والی ہے۔‘‘
دیپ چنداور نروتم نے بابا کی بات کا کچھ جواب نہ دیا۔ اگرچہ انھیں پہلی ہی نظر میں پتہ چل گیا کہ شہر سے بڑا حاکم گانو کو سمجھانے کے لیے آیا ہے۔
بیچ کی کرسی پر بڑا حاکم بیٹھا تھا۔ اس کے دائیں طرف علاقے کا تھانیدار اور بائیں طرف تحصیلدار نظر آرہا تھا۔ تحصیلدار کے ساتھ والی کرسی پر ایک شخص بیٹھا تھا جس کے سر پر لمبے لمبے بال جھکے پڑتے تھے۔ اس نے لمبا سا انگرکھا پہن رکھاتھا اور اس کے ہاتھ میں بڑی بڑی گانٹھوں والا پہاڑی لکڑی کا ڈنڈا تھام رکھا تھا، جس سے صاف پتہ چلتاتھا کہ وہ کوئی غیرسرکاری شخص ہے اور یونہی گانو دیکھنے کی غرض سے بڑے حاکم کے ہمراہ چلا آیا ہے۔
تھانیدار کے منع کرنے پر بھی لوگوں کا شور برابر اُبھر رہا تھا۔ یہ گڑبڑ لاؤڈسپیکر کے خراب ہوجانے کی وجہ سے ہورہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اب یہ بیٹری سے چلنے والا لاؤڈسپیکر کام نہیں دے گا۔
بابا نے دائیں بائیں نروتم اور دیپ چند کو ٹہوکادے کر آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ سمجھانے کا جتن کیا کہ یہ بھی اچھا ہوا کہ ہم موقع پر آگئے ہم کوئی اَن ہونی بات نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن نروتم اور دیپ چند تو اس بات پر حیران ہورہے تھے کہ پاس والے گانو کے لوگوں کو کون بلاکر لایا ہے اور اس کھلی کچہری کی بات کب طے ہوئی تھی۔
دیپ چند نے آہستہ سے کہا: ’’میں جانوں پاس والے گانو کے لوگ ہماری مدد کریںگے۔‘‘
نروتم نے شہ دی :’’ آخر وہ ہمارے پڑوسی ہیں۔ مدد نہ کرنی ہوتی تو وہ آتے ہی کیوں؟‘‘
بابا بولا: ’’بھگوان بھلا کریں گے۔ بھگوان تو حاکم سے بھی بڑے ہیں۔‘‘
پاس والے گانو کے مُکھیا نے کھڑے ہوکر کچھ کہنا چاہا۔ لیکن کسی نے اس کا بازو کھینچ کر اسے بٹھا دیا۔ جیسے وہ یہ سمجھانا چاہتا ہو کہ پہلے اِس گانو والوں کو جواب دے لینے دو۔
لوگوں کا شور بڑھ رہا تھا۔ تھانیدار نے دو تین مرتبہ لوگوں کو خاموش رہنے کی تلقین کی۔ لیکن معلوم ہوتاتھا کہ لوگوں کو چپ کرانا آسان کام نہیں۔
بابا نے کھڑے ہوکر کہا: ’’ہمارا گانو بہت پرانا ہے۔ یہ تو مہابھارت کے سمے سے چلا آتا ہے۔‘‘
پاس والے گانو کے مکھیا نے جھٹ شہ دی: ’’اور ہمارا گانو رامائن کے سمے سے چلا آتا ہے۔‘‘
تھانیدار نے کھڑے ہوکر کہا: ’’رامائن اور مہابھارت کا سمے تو کبھی کا بیت گیا… حاکم کے فرمان کے بعد آپ لوگ اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔‘‘
تحصیلدار نے کھڑے ہوکر کہا: ’’جو نیائے رامائن اور مہابھارت کے سمے سے چلا آتا ہے اس کے سمبندھ میں آج آپ حاکم کا فرمان سنیںگے۔‘‘
شام کے سائے لمبے ہوتے جارہے تھے۔ لیکن لاؤڈسپیکر ٹھیک نہ ہوا۔ اب مزید انتظار فضول تھا۔ شہر کے بڑے حاکم نے کسی قدر جھنجھلا کر لاؤڈسپیکر کا انتظام کرنے والوں کی طرف دیکھا۔ جیسے وہ کہنا چاہتا ہو کہ تم مفت کی تنخواہ پاتے ہو۔ کیونکہ تمھارا کام دیکھا جائے تو تمھیں ایک بھی نمبر نہیں دیاجاسکتا۔
تھانیدار نے موقع کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے کھڑے ہوکر لوگوں سے کہا کہ ہرکوئی خاموش ہوجائے اور کان کھول کر حاکم کا فرمان سن لے۔
بڑے حاکم نے جلدی جلدی چہرہ گھماتے ہوئے دائیں بائیں، پیچھے اور سامنے ایک طویل نگاہ ڈالتے ہوئے اُٹھ کر کہنا شروع کیا:
’’بھائیو!‘‘ یہ تو تم سب سن ہی چکے ہو کہ دیس میں آزادی آرہی ہے اور آزادی کا سواگت کرنے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ آزادی قربانی کے بغیر نہیں آتی۔ قربانی میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔
’’بھائیو!‘‘
’’آزادی آنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دیس کی راجدھانی کا رنگ روپ نکھرجائے اور اس کا سمّان بھی بڑھ جائے۔ یہ تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ بڑے دیس کی راجدھانی بھی بڑی ہونی چاہیے۔ کیا آپ میری رائے میں رائے ملانے کے لیے تیارہیں؟‘‘
بابا نے دائیں بائیں نروتم اور دیپ چند کو ٹہوکا دیا جیسے وہ ان سے کہنا چاہتا ہو کہ ہم اس رائے میں کیسے رائے ملاسکتے ہیں۔
دیپ چند نے آہستہ سے کہا: ’’پہلے بھی تو راجدھانی بہت سے دیہات کو نگل چکی ہے۔‘‘
نروتم بولا: ’’یہ راجدھانی نہ ہوئی کوئی ڈائن ہوئی جس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔‘‘
چاروں طرف سے کھسرپھسر کی آوازیں بلند ہوئیں۔ لیکن کسی میں اتنا حوصلہ نہ تھا کہ کھڑا ہوکر بلند آواز سے گانو کی رائے کا اظہار کرے۔
بابا کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا، ایک جارہا تھا۔ اس نے دائیں بائیں نروتم اور دیپ چند کے چہروں کا جائزہ لیا اور اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ بولا: ’’ہم اپنا خون دے سکتے ہیں لیکن اپنی زمینیں نہیں دے سکتے۔‘‘
تھانیدار نے اُٹھ کر کہا: ’’ابھی بیٹھ جاؤ چودھری پہلے حاکم کی بات پوری طرح سن لو۔‘‘
بڑے حاکم نے تھانیدار کو منع کرتے ہوئے کہا:’’چودھری کو اپنی رائے دینے دو۔ میں چودھری کی بات مانتا ہوں۔ زمیندار کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنی زمین دے ڈالے۔ کیوں چودھری یہی بات ہے نا!‘‘
بابا کے چہرے پر خوشی دوڑ گئی۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ اگر گانو کو اپنی جگہ پر آباد رہنے دیا جائے تو ہم راجدھانی کی بڑی سے بڑی خدمت کرنے کو تیار ہیں۔
لیکن اگلے ہی لمحے بڑے حاکم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’بھائیو!‘‘
’’مجھے اپنا حاکم مت سمجھو میں نے سیوا کرنے کے ارادے سے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ آزادی آرہی ہے۔ دیس صدیوں کی نیند تیاگ کر آنکھیں کھول رہا ہے۔ راجدھانی کی نس نس میں نیا خون دوڑ رہا ہے —اور آج راجدھانی گانو کی مدد چاہتی ہے۔
’’میرے دیس باسیو!‘‘
’’آپ میں سے کون ایسا شخص ہوگا جو دیس کے بھلے پر اپنا بھلا کرنے کو تیار نہیں ہوجائے گا۔ آپ خون دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن راجدھانی خون نہیں مانگتی راجدھانی کو تو تھوڑی زمین چاہیے۔ آج ایک بہت بڑا زراعتی کالج قائم کرنے کے لیے راجدھانی اپنی جھولی گانو کے سامنے پھیلاتی ہے۔‘‘
ایک بار پھر چاروں طرف کھسرپھسر ہونے لگی۔ بابا نے کھڑے ہوکر کہا: راجدھانی کا آدر ستکار کرنا گانو کا دھرم ہے۔ لیکن کیا آپ چاہتے ہیں کہ گانو اپنی جگہ سے ہٹ جائے؟
بڑے حاکم نے اپنے لہجہ میں بڑی کوشش سے خلوص کا عنصر پیش کرتے ہوئے کہا:
’’بھائیو ! رامائن اور مہابھارت کے سمے سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ اور سچ پوچھو تو میں بھی مجبور ہوں۔ جیسے درخت بڑا ہونے پر زیادہ جگہ گھیرتا ہے راجدھانی بھی ترقی کرتے کرتے زیادہ جگہ گھیرتی چلی جاتی ہے۔ میں خود زمیندار ہوں مجھے خود تمھارے جذبات کا احساس ہے۔ لیکن ہونی کو تو میں بھی نہیں روک سکتا۔ ہونی تو ہوکر رہے گی۔ لیکن میں آپ کو یقین دِلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے رہنے کے لیے کوئی دوسرا بندوبست ضرور کیا جائے گا۔‘‘
پاس والے گانو کا مُکھیا نے کھڑے ہوکر کچھ کہنا چاہا لیکن تحصیلدار نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا:
’’اب میں دیس کے مہا کوی راناجی سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ وہ اپنے بھاشن سے آپ لوگوں کو ترپت کریں اور انت میں اپنا کوئی نیا گیت بھی سنائیں۔‘‘
راناجی کا نام سنتے ہی گانو والے دنگ رہ گئے۔ بابا نے نروتم اور دیپ چند کو ٹہوکا دے کر کہا:
’’بھگوان! تیری مہما اَپرم پار ہے ۔ کیسے سمے پر راناجی کو ہمارے پاس بھیجا۔‘‘
نروتم بولا: ’’رامائن اور مہابھارت کے سمے کا نیائے کیسے مٹ سکتا ہے؟‘‘
دیپ چند نے شہ دی: ’’سینکڑوں راج آئے اور چلے گئے۔ لیکن ہمارا گانو اپنی جگہ پر قائم رہا۔ اب رانا جی کی کِرپا ہوگئی تو اسے کوئی بھَے نہیں …‘‘
لوگوں کا شورابھررہا تھا۔ سبھا کا رنگ بدلنے لگا۔ جیسے تالاب کی سطح پر اَن گنت لہریں پیدا ہوجائیں۔ بابا بولا: ’’راناجی کا دھرم تو یہی ہے کہ جنم بھومی کی سہائتا کرے، جس دھرتی کا اَن کھایا ہے اس کی لاج رکھے۔‘‘
ایک لمحہ کے لیے بڑا حاکم بھی ڈر گیا کہ کہیں رانا جی کوئی اُلٹی بات نہ کہہ ڈالے۔ معلوم ہوتا تھا کہ ایک پوٹلی کی طرح گانو راناجی کے ہاتھ میں آچکا تھا اور اب یہ اس کے ادھیکار میں ہے کہ اسے کس کے ہاتھ میں تھمائے ، تحصیلدار بھی سہم گیا۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ راناجی اسی گانو کا رہنے والا ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ آخری لمحہ آنے پر راناجی کو یہ خیال آجائے کہ اس نے تو گانو ہی کا نمک کھایا ہے اور نیائے کا پلڑا گانو ہی کے حق میں بھاری دکھانا چاہیے۔
دھیرے دھیرے شور کچھ کم ہوا۔ اور رانا جی نے کھڑے ہوکر کہنا شروع کیا!
’’میںکوی ہوں۔ میرا کام ہے نئے نئے گیتوں کی رچنا کرنا۔ آزادی آرہی ہے۔ آپ تیار ہوجائیے۔ دیس کی عزت، دیس کی دولت ، دیس کی حکمت سب گانو کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے وِشواس ہے کہ آزادی کی دیوی کو آزاد آب و ہوا ہی پسند آسکتی ہے۔‘‘
چاروں طرف سے شور پھر اُبھرا اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ بابا نے نروتم اور دیپ چند کو ٹہوکا دیا۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ رانا جی نے گانو کی لاج رکھ لی۔
شور آہستہ آہستہ دبنے لگا۔ رانا جی نے کہنا شروع کیا:
’’ایک کوی اپنی بات گیتوں ہی میں کہہ سکتا ہے۔ میں آپ کے سامنے اپنا ایک نیا گیت رکھتا ہوں۔‘‘
معلوم ہوتا تھا کہ کوی اس سبھا کا رنگ بدل کر رکھ دے گا۔ لوگوں کے چہروں پر آس امید کی جھلکیاں تھرکنے لگیں۔
رانا جی نے گانا شروع کیا۔
آواز دے رہی دلّی رے
دلّی کا نقشہ بدل گیا!……
گیت کے بول فضا میں تحلیل ہورہے تھے۔ ڈوبتے ہوئے سورج کی شعاعیں بُجھتے ہوئے دِیے کی طرح آخری سنبھالے کے انداز میں کسی قدر تیز نظر آنے لگیں۔ گانو والوں نے دیکھا کہ ان کا کوی بھی بِک چکا ہے اور بازی ان کے ہاتھ سے نکلی جارہی ہے۔
دھرتی کا ذرّہ ذرّہ راجداھانی کو پرنام کرنے پر مجبور تھا۔
بشکریہ : عبدالسمیع اور ادبی دنیا

جواب چھوڑیں