آن لائن تعلیم: رابطہ ٹوٹنے نہ پائے – فارینہ الماس

وبا کے یہ دن جہاں نوع انسانی کےلئے ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان کا باعث بن رہے ہیں، بہت ممکن ہے کہ آنے والے وقتوں میں انسان کو ان کے ہاتھوں بہت سا تہذیبی و تمدنی نقصان بھی اٹھانا پڑے۔ وہ تہذیب جو ہمارے ہاں پہلے ہی شکستگی کا شکار ہے۔ جو ہمیں وراثتی طور پر بھی انتہائی کمزور اور لاغر حالت میں میسر ہوئی ہے۔ تہذیبی تشکیل، بہت حد تک کسی بھی قوم کے تعلیمی نظام اور تعلیمی اداروں پر انحصار کرتی ہے۔ آج کے وبائی حالات میں یہ بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے، کہ ممکن ہے ہمارے بچو ں کا یہ تعلیمی سال برباد ہو جائے۔ اسی لئے تعلیمی ادارے انٹر نیٹ کے ذریعے تعلیمی ترسیل کو ممکن بنانے کی جستجو میں جتے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ تعلیمی کاوشیں ہیں کیا؟ پہلے مرحلے میں بچوں کے واٹس ایپ بنوائے گئے، پھر انہیں سکول کے گروپ میں شامل کیا گیا۔ اور پھر دھڑا دھڑ روزانہ کی بنیاد پر کام سامنے آنے لگا۔ ۔ ۔ لکھے لکھائے نوٹس، کتابوں سے نشان زدہ صفحات یا لکھے گئے صفحہ نمبر کی تصویریں۔ مقصد بچوں تک کام پہنچانا بھی ہے تاکہ ان کے دماغوں میں کئی کئی گھنٹوں کی محنت سے لگائی گئی رٹہ فیکٹریاں کہیں اس لاک ڈاؤن میں زنگ آلود نہ ہوجائیں۔ مقصد یہ بھی ہے کہ کہیں والدین بچوں سے ادارے کا تعلق منقطع ہوجانے کے باعث فیسوں کی ادائیگیوں سے منکر ہی نہ ہو جائیں، اور مقصد یہ بھی ہے کہ اساتذہ کو ادا کی جانے والی تنخواہوں کو حلال کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ادارے والدین کو وقتاً فوقتاً پیار سے، احترام سے، انہی گروپوں میں ایسے پیغامات بھیجتے رہے کہ فیس کی ادائیگی ان کا اخلاقی فرض ہے یا یہ کہ فیس کی فراہمی سے ہی غریب اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن بنائی جا سکے گی تاکہ اس وبا ئی بحران میں ان کے بھی چولھے جل سکیں۔ اور پھر مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد دھمکی آمیز پیغامات کی ترسیل بھی جاری ہونے لگی۔ اس بات کا لحاظ کئے بغیر کہ شاید کچھ والدین ایسے بھی ہوں جن کا روزگار یہ وبا نگل چکی ہو۔

ابتدائی دنوں میں جب کہ ابھی اداروں کی آن لائن تعلیمی ترسیل کا آغاز نہ ہوا تھا ان دنوں کچھ والدین بچوں کو اپنے طورپر پڑھانا شروع کر چکے تھے۔ شاید یہی وہ دن تھے جب ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ تعلیمی ادارے ان کے بچوں تک جو تعلیم کئی کٹھن مراحل سے گزر کر پہنچا رہے تھے بلکل ایسی ہی بلکہ بعض حالات میں اس سے بھی کہیں بہتر تعلیم وہ خود اپنے بچوں کو گھر میں بنا کسی مدد کے دے سکتے ہیں۔ کچھ اس طور کہ ہر مہینے کی کسی سخت اداراتی، امتحانی آزمائشی بلا کا سایہ ان کے بچوں کے وجود کو جکڑ نہ سکے۔ وہ بلا جو ان کی راتوں کی نیند تک کو یو ں دبوچ لیتی ہے کہ بچے ناکامی کے بھیانک خوابوں کی اثر میں اکثر راتوں کو چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ اداروں کی طرف سے، تادیبی مظاہر کا انجانا خوف جو بچوں کی آزاد فکر و خیال کو نیست و نابود کر کے ان کی شخصیتی اٹھان کو مجروح کئے رہتا ہے۔ جو ان کے جذبات و اعتماد سے دیمک کی طرح لپٹ جاتا ہے۔ امید تھی کہ جس طرح اس وبا کی آمد سے انسان خدا کے قریب ہوجائے گا، بچے اپنے ماں باپ کے قریب ہو نے لگیں گے لیکن اس امید کا شائبہ بھی جاتا رہا جب ہر روز تھوڑے تھوڑے وقفے سے واٹس ایپ کا الارم بجنے لگا۔ اور موبائل کی سکرین پر یہ پیغامات گرنے لگے، اس وقت بچوں کو یہ لکھوائیں، یہ کروائیں اس وقت انہیں یہ سرگرمی دیں یا وہ ورک شیٹ تھمائیں۔ ۔ ۔ جو بچے گھر سے سکول اور سکول سے گھر تک کے لئے گدھے بنا دئیے جاتے تھے وہ اک بار پھر خود پر بے تحاشہ کتابیں لادے ہوئے گدھے دکھائی دینے لگے۔ یہ ادارے اس وقت بھی جب بچے سکول جاتے تھے انہیں اپنی من پسند سرگرمیوں میں مصروف رکھتے تھے۔ بنا یہ سمجھے کہ کس بچے کو کس طرح کی تربیت درکار ہے۔ کون سے بچے کی دماغی استعداد اور جذباتی و فطرتی رحجان کیا ہے یا اس کی کس منفی عادت کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔ اور اس کی کس صلاحیت و عادت کو حوصلہ افزائی درکار ہے۔ اگر وہ کارکردگی دکھا نہیں پاتا تو اس کے ساتھ کیسا برتاؤ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی کمزوری کو دور کرسکے ؟ اور اب جب وہ سکول نہیں جا رہا یا گرمیوں کی چھٹیوں کی طرح اسے ڈھیروں ڈھیر اسائنمنٹس ہاتھ میں تھما کر رخصت نہیں کیا گیاتو بھی اس کے والدین کو اتنا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ یہ کچھ دن اپنے بچوں کو ان کی بے فکری میں پرکھ سکیں۔ ان کے قریب رہ سکیں اور اپنے طریقے سے ان کی تربیت کر سکیں۔ ان کے مسائل کو جان سکیں اور سمجھ سکیں۔ آپ اسے گدھے سے انسان بننے دینا ہی نہیں چاہتے۔ اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ کاغذوں کے صفحے کالے کرے، وہ کتاب کے پورے پورے اسباق کو مختصر سوالوں میں اور طویل سوالوں کے نشانات کے ساتھ رٹ ڈالے۔ ۔ ۔ اور پاکستان کا کبھی بھی فخر نہ بن سکے۔ پاکستان کی تعلیم جو نوجوانوں کو اندھا، بہرہ، گونگا بناتی ہے، دنیا میں اس تعلیم کا یہی امیج جاتا رہے۔ اس کی یونیورسٹیاں کبھی بھی دنیا کی پہلی پانچ سو تو کیا پہلی ہزار بہترین یونیورسٹیوں میں بھی اپنا نا م نہ بنا سکیں۔ کیونکہ ان سے فارغ التحصیل نوجوان کبھی بھی تنقیدی و معروضی نقطہءنظر اپنانے کے قابل نہ ہوسکیں گے۔

آپ سے یہی امید ہے کہ آپ اپنی روٹین ٹوٹنے نہ دیں۔ بچوں کو اپنی غیر مرئی انگلی تھمائے رکھیں۔ اس کی مصروفیت کا انتخاب اپنے ہی ہاتھوں میں رکھیں۔ اسے اس کی دنیا آپ اپنی ہی نظر سے دیکھانے پر مجبور کئے رکھیں۔ اپنے ہر حکم کے تابع رکھیں تاکہ وہ زندگی کے مسائل پر خود سے کوئی فیصلہ سازی کرنے یا قدم اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ اسے سوالو ں کے جوابات رٹنے کی ایسی عادت ڈالے رکھیں کہ وہ کبھی بھی علم کی سچی اور بے ساختہ جستجو نہ کر سکیں۔ وہ اپنے ذہن کو تخیل سے محروم اور دماغ کو تھکن کا عادی رکھیں۔ والدین کو یہ موقع اور وقت کبھی نہ دیں کہ وہ انہیں کھیت میں کام کرنے والے دہقان، یا بھٹی میں لوہا پگھلانے والے آہنگر کی کہانی سنا سکیں۔ انہیں بے شمار اخلاقی کہانیاں سناسکیں یا انہیں بتا سکیں کہ ریشم کا کیڑا ریشم کیسے بناتا ہے یا جولاھا کھڈی پر کپڑا کیسے بنتا ہے۔ کیونکہ جب وہ دن بھر میں رٹہ لگانے کی تین یا چار گھنٹے کی دماغی مشقت سے فراغت پائیں گے تو پھر ان پر یہ کہانیاں اثر انداز نہ ہوسکیں گی۔ ہمارے انداز تعلیم نے انہیں کہانی سننے اور کہنے کے فن سے محروم کر دیا ہے۔ مطلب تخلیق اور تحریک دونوں سے ہی محروم رہ جانے والی نسل۔ دنیا اپنی نوجوان نسل کو روبوٹ تخلیق کرنا سیکھا رہی ہے اور ہم اپنی نسل کو ہی روبوٹ بنا رہے ہیں۔ یہ بھی تو کمال کا فن ہے۔

آج وبائی مسائل ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ شاید اب آنے والے وقت میں ہمارے لئے، اپنی حیاتیاتی ترجیحات کا ازسر نو تعین کئے بغیر زندگی کا بار اٹھانا ممکن نہ رہے۔ ہمارے لئے سانس لینے اور زندہ رہنے کے لئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا محاسبہ کرنا ناگزیر ہو جائے۔ اسی طرح تعلیم کا کاروبار کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ بھی ایسی کسی دواساز کمپنی کی طرح ہی کام تو نہیں کر رہے جو دوا کے جھانسے میں زہر بیچ رہی ہے۔ سوچیں کہ آپ پر نسل انسانی کو سنوارنے کی پیغمبرانہ ذمے داری ہے اور آپ اسے کس طور نبھا رہے ہیں۔

وبا کے اس بھیانک نزول سے زندگی رک گئی ہے لیکن سفر ختم نہیں ہوا۔ ٹھہر کر سانس لیں اور سوچیں۔ بلکہ خود بھی سوچیں اور والدین کو بھی سوچنے کا موقع دیں۔ کہاں پر آپ غلط ہیں اور کہاں پر والدین غفلت برتتے رہے ہیں۔ اپنے نصابی صحیفے زبردستی اساتذہ اور بچوں پر لاگو کرنے کی بجائے یہ جانچیں کہ یہ صحیفے آج کے وقت میں کارآمد ہیں بھی یا نہیں۔ یہ بچوں کی سوچ معروضی اور سائنسی بنا بھی رہے ہیں یا نہیں۔ ان میں اخلاقی انقلاب لانے کا باعث بنیں گے بھی یا نہیں۔

کوئی فرق نہیں پڑتا اگر اس روایتی تعلیمی سال کا ایک برس ضائع بھی ہوجائے تو۔ ہاں فرق پڑتا ہے جب تربیت کا ایک لمحہ بھی ضائع ہوجائے۔ وہ تربیت جس سے ہمارے بچے محروم ہیں یا محروم کر دئے جاتے ہیں۔ وہ تربیت جو آپ کی اور والدین دونوں ہی کی ذمے داری تھی۔ جس کی آپ کے تدریسی نظام میں کبھی گنجائش پیدا کی ہی نہیں جاتی۔ وہ تربیت جسے تعلیمی ادارے اور فرسودہ تعلیمی نظام کھا گیا۔ جسے آپ کے فرسودہ نظام تعلیم میں فرض کردی گئیں تعلیمی اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹرز چاٹ گئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

جواب چھوڑیں