عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سان…

عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آ گرا ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے
سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے بہت تعریف کی کہ بہترین چاول پکاۓ بہت مزہ آیا

سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکاۓ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ جو چاول پکے تھے کمال کا ذائقہ تھا
اب ساس کا جلال کچھ مدھم پڑ چکا تھا اور عورت راز کا بوجھ بھی کب تک اٹھاۓ پھرتی سو بتا ہی دیا

کہ اس میں سانپ گرا تھا جسے میں نے اس میں پکا دیا تھا

یہ سننا تھا کہ سب گھر والے بے ہوش ،
ایک کو دل کا دورہ پڑا اور وہیں مر گیا
اب یہ اثر سانپ کے زہر کا تھا
یا سانپ کے خوف کا؟

آگے چلیں

امریکہ میں موت کے سزا یافتہ ایک قیدی پر ایک عجیب تجربہ کیا گیا، اسے بتایا گیا کہ آپ کو نہ پھانسی دی جائے گی نہ گولی ماری جائے گی نہ ہی زہر کا انجیکشن

بلکہ سانپ سے ڈسوایا جائے گا اس کے خیالات پر سانپ چھا گیا پھر سانپ اس کے سامنے لایا گیا اسے یقین ہو گیا کہ اس سانپ نے مجھے ڈسنا ہے
پھر اس کی آنکھوں پر ایک پٹی باندھی گئی اور دو کامن پنیں اسے چبھوئی گئیں
جس سے اسے پکا یقین ہو گیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے

تھوڑی دیر بعد اس کی موت واقع ہو گئی
اس کے خون کے ٹیسٹ ہوئے تو خون میں سانپ کا زہر موجود تھا

اب اس شخص کو سانپ نے چھوا تک نہیں لیکن اس کے باوجود اس کی موت بھی واقع ہوئی

یہ کیا تھا ؟ خوف

یقین جانئیے
آج جتنی اموات ہو رہی ہیں اس میں 80 فیصد خوف کے زیر اثر ہو رہی ہیں
اور اس قتل میں ہر وہ شخص برابر کا شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے

اس لئے احتیاط کی ترغیب دیجیئے آگاہی عام کیجیئے

لیکن دھشت نہ پھیلائیں
حوصلہ دیجیئے..

رحمٰن اور رحیم پر بھروسہ رکھیے

جواب چھوڑیں