ہمارے معاشرے میں اکثریت شادی سے پہلے منگیتر سے بات…

ہمارے معاشرے میں اکثریت شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرتی ہے، جب انہیں روکا جاتا ہے سمجھایا جاتا ہے تو کچھ لوگ جواب دیتے ہیں کہ کبھی کبھی کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ ہم حدود میں رہ کر بات کرتے ہیں کچھ کہتے ہیں کہ شادی سے پہلے انڈرسٹینگ ہوجاتی ہے اس لیے کرتے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ اسکے بغیر دل نہیں لگتا شادی میں دیر ہے تو بات کرکے دل بہلا لیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!

یقین جانیں یہ تمام دلائل ذرہ برابر وزن نہیں رکھتے سیدھی بات ہے ہمارا اپنے نفس پر کنٹرول ہی نہیں ہے ہم خواہشات کے غلام بنے ہوئے ہیں، جو دل کہتا ہے وہ ہم کرتے ہیں، ضمیر کی آواز ہمیں نہیں آتی
کہتے ہیں منگیتر کے بغیر دل نہیں لگتا ارے یہی تو آزمائش ہے کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی آگے کی زندگی بنانی ہے، یہی تو امتحان ہے کہ ہم اللہ کے حکم کو اوپر رکھتے ہیں یا اپنی دلی خواہشات کو جہاں 20 سے 25 سال انتظار کیا وہاں ایک دو سال انتظار کرنے میں کیا برائی ہے۔۔۔!!!

لیکن نہیں ہم تو اپنے نفس کی مانیں گے، ایک ساتھی کہنے لگا "کبھی کبھی کرتے ہیں" ارے جناب کبھی کبھی بھی کیوں کرتے ہو، یہ تمہارا کبھی کبھی کسی دن گلے میں آجائے گا پھر ساری عمر ایک دوسرے کو طعنے دیتے پھرو گے کہ شادی کے بعد بہت بدل گئے ہو۔۔۔!!!

ایک ساتھی نے کہا "انڈرسٹینڈنگ ہوجاتی ہےجیسے کوئی عربی کسی عجمی سے نکاح کرنے جارہا ہے جوانڈرسٹینڈنگ کی انہیں ضرورت ہےانڈرسٹینگ کے چکر میں گاڑی کے اپنے گیئر پھنس جاتے ہیں اور لگانے پر بریک بھی نہین لگتا نتیجہ کسی برے ایکسڈنٹ سے کم نہین نکلتاجاؤ جا کر دیکھو معاشرے میں منگیتروں کے نام پر کس قدر بے حیائی عام ہوچکی ہے
ہوٹلز ریسٹرونٹس، کافی شاپس بھرے پڑے ہیں
کون ہو ؟
جواب ملتا ہے آپ کی ہونے والی بھابھی۔ تحفے تحائف کی لین دین بڑا مہنگا اینڈرائڈ موبائل گفٹ کیا جارہا ہےکڑھائی والے سوٹ ہدیہ کیا جارہا ہےیہاں تک بات محدود نہین ہوتی بعض تو تمام حدیں پار کرجاتے ہیں کہ یہاں لکھنے میں شرم آتی ہے۔۔۔!!!

دراصل منگیتر سے بات کرنا تمام برایئوں کا زینہ ہے، پہلے بات ہوتی ہے کہیں گے صرف بات کرتے ہیں پھر دیکھنا دکھانا ہوگا، پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لیۓ گفٹ خریدے جایئں گے، بات آگے بڑھے گی ملاقات کرنے کے مواقع ڈھونڈے جایئں گے۔ بات کرتے کرتے آہستہ آہستہ انسان دوسرے گناہوں کی طرف جانے لگتا ہے۔۔۔!!!

کہتے ہیں سر آپ پرانے خیالات کے مالک ہیں ہم تو صرف موبائل پر بات کرتے ہیں، اسکا مختصر جواب یہ ہے کہ نۓ خیالات کے ذریعے آپ خود منگیتر کو اپنے ہاتھ سے خراب کر رہے ہو، ساری شرم حیا ادب و آداب تم خود اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو، نکاح کی برکتیں رحمتیں سب اپنے ہاتھ سے ختم کر رہے ہو، جو لوگ نکاح سے پپلے موبائل فون پر باتیں کرتے ہیں نکاح کے بعد انکی زندگی پر 100 فیصد اسکے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔۔۔!!!

لہذا اس چیز سے دور رہنا چاہیے اپنے نفس کر قابو پانا چاہیے، آپ کی ہی منگیتر ہے کیوں اس سے بات کرکے اسے خراب کر رہے ہو، تھوڑا سا صبر کرلو ، ابھی وہ غیر محرم ہے، اس سے بات کرنا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے، صرف نکاح والی رات بات کرو نکاح والی رات ملاقات کرو، کھل کر باتین کرو کھل کر ملاقاتیں کرو جو دل چاہتا یے

وہ کرو لیکن نکاح سے پہلے تھوڑا کنٹرول کرو اور یقین کریں جو لوگ منگیتر سے بات نہین کرتے اللہ کا حکم اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا پاس رکھتے ہیں اس عمل کو گناہ کبیرہ مانتے ہیں ایسے لوگوں پر نکاح والی رات خدا کی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں، ایسے جوڑوں کو اللہ اپنے حفظ و امان مین رکھتا ہے

جو اپنے نفس پر قابو کرتے ہوئے حکم باری تعالی کو اولین ترجیح دیتے ہیں کاش کہ یہ بات تیرے دل میں اتر جائیں*
*خواہش صرف اتنی ہےکہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پڑ جائے۔*

جواب چھوڑیں