بستر کے نیچے اوریجنل ٹاءٹل مونسٹر انڈر دی بیڈ w…

بستر کے نیچے

اوریجنل ٹاءٹل
مونسٹر انڈر دی بیڈ

writteen by kronos

انگریزی سے ترجمہ

فراز احمد

امی، امی،
سدھا کمرے میں داخل ہوئی ، کیا ہے ڈئیر
اس کا چھ سال کا بیٹا کمرے میں اپنے بستر پر بیٹھا ہوا تھا، اس کی آنکھوں میں خوف نمایاں تھا، اس کی بڑی بڑی سرخ آنکھیں ایسی ہولناکی کی کہانیاں سنا ررہی تھیں ، جس کا سدھا کے ذہن کو کبھی ادراک نہیں ہو سکتا تھا ۔ سدھا اور اس کا شوہر کل ہی اس نئے مکان میں شفٹ ہو ئے تھے ،مگر انجانے خوف کی بنا پر اس کا بیٹا پوری رات ایک لمحہ بھی نہیں سو سکا تھا ۔
میرے بستر کے نیچے کچھ ہے;بچہ چیخ اٹھا ۔
کچھ نہیں ہے،سدھا بولی اور اپنے شوہر کو آوازیں دینے لگی،اس نے سوچا شاید وہ باتھ روم گیا ہوگا،وہ دوبارہ اپنے بیٹے کے بیڈ روم کی جانب بڑھی ، کمرے میں پہنچ کر اپنے بیٹے سے مخاطب ہوئی، بیڈ کے نیچے کچھ نہیں ، تم نے ضرور برا خواب دیکھا ہو گا،نہیں میں جانتا ہوں ، وہاں کچھ ہے،بچے نے یقین کے ساتھ جواب دیا،
;ٹھیک ہے ، اگر میں بستر کے نیچے چیک کروں اور کچھ نہیں ملا تو پھر تو تم دوبارہ سو جاو گے نا
شاید
ٹھیک ہے ، میں ذرا ٹارچ لے آوں ، رکو
وہ کمرے سے باہر نکلی اورپھر اپنے شوہر کو آواز دی، مگر اسے کوئی جواب ملا،، نہ ہی اسے کہیں ٹارچ دکھائی دی،
اسی وقت اسے کمرے سے اپنے بیٹے کی آواز سنائی دی،
امی
سدھا بھاگ کر اس کے کمرے میں گئی،ڈیڈی ٹارچ کے ساتھ بستر کے نیچے چلے گئے،
کیا کب ، ہاں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ،وہ ٹارچ کے ساتھ میرے بستر کے نیچے چلے گئے ہیں ،وہ ضرور وہیں ہوں گے،
ہلکی سی حیرت چہرے پر لیے وہ بستر کے نیچے جھک گئی، جہاں اسے کچھ چمکتا ہوا سا دکھائی دے رہا تھا، اس نے ہاتھ بڑھایا،مگر وہ چمک اس سے کچھ اور دور ہوگئی ،ساتھ اسے اپنے ہاتھ ہر کچھ چپچپاہٹ سی محسوس ہوئی،اس نے اپنا ہاتھ باہر کھینچ لیا،
اس نے اپنے بچے کی طرف دیکھا اور بولی کیا تم نے بستر سے کچھ نیچے گرایا تھا، ایک چاکلیٹ ، بچے نے بستر پر بیٹھے بیٹھے جواب دیا،
ڈیڈی کہاں ہیں ، تمہارے،
وہ اب بھی بستر کے نیچے ہیں ،بیٹے نے جواب دیا
سدھا حیرت سے پھر بستر کے نیچے جھک گئی ، دور اسے ٹارچ پڑی نظر آئی ، وہ اور رینگتی ہوئی آگے بڑھی ، اس سے پہلے کہ وہ اسے اٹھا کر آن کرتی اسے ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے اس کا ہاتھ پکڑلیا ہو، اس کی ایک چیخ سی نکل گئی ،مگر اب اس کے ہاتھ پر گرفت اور سخت ہوگئی، وہ پھر چیخی ، مگر اب کسی نے اس کا گلا پکڑ لیا، اس کی آواز گھٹتی ہوئی مدھہم ہو نے لگی او ردم گھٹنے سے جسم ترپنے لگا،کچھ دیر بعد اس کے جسم کی حرکت بند ہوگئی، وہ ساکت ہوگئی، اور اس کا دم نکل گیا ۔
بچہ بستر سے اترا اور نیچے اتر کر بستر کے نیچے جھانکنے لگا اور دھیرے سے مسکرا کر بولا
کیا آپ ابھی بھی بھوکے ہو ۔

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2747870432110139

جواب چھوڑیں