کتاب "ہم اور اقبال" سے اقتباس جسے ایران …

کتاب "ہم اور اقبال" سے اقتباس جسے ایران کے مشہور مفکر اور مصنف ڈاکٹر علی شریعتی نے تحریر کیا اور اس کا اردو ترجمہ جاوید اقبال قزلباش نے کیا اور یہ کتاب ترجمہ کے ساتھ ١٩٩٦ میں اسلام آباد سے شائع ہوئی۔

اس کتاب کی چند منتخب سطور جو بہت خوبصورتی سے علامہ اقبال کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہیں پیشِ خدمت ہیں۔

———————————————————————–_
اقبال نے اپنے زمانے کے تمام فلسفیانہ اور روحانی منزلوں کو اپنی بصیرت، ایمان اور عرفان اسلامی کی سمت یابی کے ذریعے طے کیا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک مہاجر مسمان ہیں جو ہندوستان کے پراسرار اوقیانوس سے اٹھا اور یورپ کے پر اقتدار بلند کوہستان کی چوٹیوں کے اوپر پہنچ گیا، لیکن وہاں رہا نہیں ، ہمارے درمیان لوٹ آیا، تاکہ اپنے حیرت انگیز سفر سے لائے ہوئے تحفے کو اپنی ملت کو عطا کرے اور میں اس شخصیت کو دیکھتا ہوں کہ ایک بار پھر اس نے اپنی پریشان، خودآگاہ اور دردمند نسل کے لئے بیسویں صدی میں اسلام کی "نمونہ سازی" کی ہے۔

وہ اُن قدامت پرستوں اور رجعت پرستوں میں سے نہیں ہیں کہ جو بغیر پہچانے ہر شے سے جو جدید ہو اور جدید تمدن اور مغرب سے ہو، بلا سبب دشمنی کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ ان کی مانند بھی نہیں کہ جو بغیر تنقید و انتخاب کی جراءت رکھتے ہوئے مغرب میں کھو جاتے ہیں۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2748319368731912

جواب چھوڑیں