تقدیر کے اوراق پہ ہم نقش کہن ہیں جو حوصلہ ہاریں ب…

تقدیر کے اوراق پہ ہم نقش کہن ہیں
جو حوصلہ ہاریں بهی تو کاغذ کا بدن ہیں

آندهی کی کبهی زد میں، کبهی سیلِ بلا کی
ہم شاخِ بریدہ ہیں، مگر مثل ِ پون ہیں

آ بیٹھ کبهی پاس تو معلوم ہو ہم لوگ
اک بار جو بهڑکیں ، نہ بجهے ایسی اگن ہیں

لفظوں میں پروتے ہیں ہم لوگ غمِ دل کو
گو طفلِ سخن ہیں، مگر اسلوبِ سخن ہیں

اے دوست ! بهلانا ہمیں آسان نہیں ہے
جو روح میں بس جائے،کہ ہم ایسی لگن ہیں

سیدہ فاطمہ رضوی


جواب چھوڑیں