سب دیکھ رہے ہیں، میں جدھر، دیکھ رہی ہوں جادوئی نگ…

سب دیکھ رہے ہیں، میں جدھر، دیکھ رہی ہوں
جادوئی نگاہوں کا اثر، دیکھ رہی ہوں

گذرا ہے ترے ہونٹوں کو چھو کر کوئی بھنورا
اے پھول! ترا رنگِ دگر دیکھ رہی ہوں

اک وہ ہے کہ منزل کی طرف دیکھ رہا ہے
اک میں ہوں کہ بس، رختِ سفر دیکھ رہی ہوں

ہر پات کے چہرے پہ ہے تسکینِ بہاراں
ہر شاخ پہ پھولوں کی سحر،دیکھ رہی ہوں

دروازے پہ، دستک ہے نہ چلمن پہ کوئی آنکھ
کیا بات ہے ،جو جانبِ در دیکھ رہی ہوں

یہ کور نگاہی مری دکھلائے گی کیا کیا
کس پار کنارہ ہے ،کدھر دیکھ رہی ہوں

اب عکس نہیں کوئی بھی دیوار پہ رقصاں
آئینے میں کیا بارِ دگر دیکھ رہی ہوں

کب تم کو سحر دیکھا ہے دشمن کی نظر سے
میں خود کو محبت سے اگر دیکھ رہی ہوں

شائستہ سحرؔ


جواب چھوڑیں