برٹولٹ بریخت کے شہرہ آفاق ڈرامے "گلیلیو کی …

برٹولٹ بریخت کے شہرہ آفاق ڈرامے "گلیلیو کی زندگی" (Life of Galileo) سے منتخب اقوال
انتخاب و ترجمہ : رومانیہ نور
المعروف ''گلیلیو'' بیسویں صدی کے مشہور جرمن ڈرامہ نگار برٹولٹ بریخت کا عظیم اطالوی فلاسفر گلیلیو گلیلی کی زندگی کے مرکزی اور پیچیدہ کردار پر مبنی ڈرامے کا نام ہے جو (1936) کو جرمن زبان میں تحریر ہوا (1947-1945) کے دورانیے میں اس کا انگریزی ترجمہ منظر عام پر آیا۔
ڈرامے کے موضوعات مذہبی عقائد اور سائنسی شواہد کے مابین کشمکش ، زندگی کے علم کے حصول اور سرکاری نظریے کی طاقت کے درمیان تناؤ اور جبر کے خلاف استقامت کی اقدار کی جرح کا احاطہ کرتے ہیں۔

اس ڈرامہ کے کچھ منتخب شدہ اقوال صاحبِ ذوق احباب کی نذر:

1. سائنس کا مقصد لامحدود حکمت کے دروازے کھولنا نہیں بلکہ لامحدود غلطیوں کی حد طے کرنا ہے۔
2. آج کل جبکہ ہر کوئی جھوٹ اور جہالت کا مقابلہ کرنا اور سچ لکھنا چاہتا ہے تو اسے کم از کم پانچ مشکلات پر قابو پانا ہو گا۔ جب ہر جگہ حق کی مخالفت کی جاتی ہے تو اسے سچ لکھنے کی ہمت ہونی چاہئیے۔ سچ کو پہچاننے کی خواہش ، اگرچہ یہ ہر جگہ چھپا ہوا ہے۔ ہتھیار کے طور پر سچ کا خوش اسلوبی سے فائدہ اٹھانا۔ ان افراد کے انتخاب کا فیصلہ جن کے ہاتھ میں یہ مؤثر آلہ ہو گا اور ایسے لوگوں میں سچ پھیلانے کی دوڑ۔
3. بد نصیب ہے وہ دھرتی جسے ہیروز کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔
4. غور و فکر کرنا فطرتِ انسانی کی سب سے بڑی مسرت ہے۔
5. تمام عالم کہتا ہے '' ہاں ہم جانتے ہیں جو کچھ کتابوں میں لکھا ہے۔ لیکن اب ہمیں دیکھنا ہے جو کچھ ہماری آنکھیں ہمیں بتاتی ہیں۔ "
6. ایک شخص جو سچ نہیں جانتا وہ محض احمق ہے۔ مگر جو شخص سچ جانتا ہے اور اسے جھوٹ کہتا ہے وہ مجرم ہے۔
7. ایک بار دریافت ہو جانے پر تمام حقائق قابلِ فہم ہوتے ہیں۔ مرکزی نقطہ ان کو دریافت کرنا ہے۔
8. میں اتنے جاہل آدمی سے کبھی نہیں ملا کہ اس سے سیکھنے کو مجھے کچھ نہ ملا ہو۔
9. ریاضی وہ زبان ہے جس سے خدا نے اس کائنات کو لکھا ہے۔
10. میں اس عقیدے پر یقین رکھنے کا پابند نہیں ہوں کہ وہی خدا جو ہمیں عقل، استدلال اور دانشمندی عطا کرتا ہے وہی ہمیں ان کے استعمال سے روکتا ہے۔
English Version:
1. The aim of science is not to open the door to infinite wisdom, but to set a limit to infinite error.
2. Nowadays, anyone who wishes to combat lies and ignorance and to write the truth must overcome at least five difficulties. He must have the courage to write the truth when truth is everywhere opposed; the keenness to recognize it, although it is everywhere concealed; the skill to manipulate it as a weapon; the judgment to select those in whose hands it will be effective; and the running to spread the truth among such persons.
3. Unhappy the land that is in need of heroes
4. Thinking is one of the greatest pleasures of the human race.
5. All the world says: yes we know what’s written in the books but now let’s see what our eyes tell us.
6. A man who doesn't know the truth is just an idiot, but a man who knows the truth and calls it a lie is a crook.
7. All truths are easy to understand ince they are discovered; the point is to discover them.
8. I have never net a man so ignorant that I could not learn something from him.
9. Mathmatics is the language with which God has written the universe.
10. I do not feel obliged to believe that the same God who has endowed us with sense, reason and intellectual has intended us to forgo their use.

— with Romania Noor.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2748870825343433

جواب چھوڑیں