الٰہی رحم فرما ۔۔۔ہما جمال


الہی ضبط ٹوٹا ہے
تو بے ربط سی
فریاد کرتے ہیں
الٰہی ملتمس ہیں
رحم کی فریاد کرتے ہیں
الہی کرتے رہے برباد
خودی نفس کے ہاتھوں

پڑے تھے غفلتوں میں

اڑے تھے مستیوں میں

ہاں یہ اقرار کرتے ہیں،

الہی ہاتھ بندھے ہیں اب

گھمنڈی  ہر اس انساں کے

کہ جس کی حیثیت

تونے بتائی گندا پانی ہے
الہی جانتے ہیں
تھے بھول چکے
جباریت تیری
الہی معاف کردے
ہے التجا صدقے
اب رحمانیت تیری
الہی مرض لاعلاج
کرکے عیاں کردیا تونے
بس تو ہی کافی ہے
تو ہی شافی ہے
الہی ملتمس ہیں رحم کر
مخلوق پر اپنی
الہی قہاریت سے تیری
خوف لرزاں ہے
وقتی قہاروں پر
الہی ملتمس ہیں رحم کر
اپنے بنائے خاکساروں پر
الٰہی دیکھ تیرے
عرش کے نیچے
فرش پر
بکھری پڑی

آہیں،
صدائیں ہیں
الہی مرگ سے

خوف سے

بھوک سے

افلاس سے

گھائل
ہوائیں ہیں
الہی کھل چکی
ہر اک حقیقت،
نہیں تیرے سوا کوئی
الہی تجھ میں تو پنہاں
ستر مائیں ہیں
جتادے اپنی ممتا اب
کہ تیرے بندے پریشاں ہیں
الہی ملتمس ہیں رحم فرما
رحم فرما، رحم فرمادے۔
آمین ۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں