کورونا وائرس، حقیقت کیا ہے؟۔۔۔تحریر و ترجمہ: دانش بیگ

حال ہی میں ایک وبا ووہان میں پھیلی جو سنٹرل چائنہ کا ایک شہر ہے اس وبا کی وجہ نوول کرونا وائرس ہے۔ آج کل میڈیا پر یہ ایک ہاٹ ٹاپک بن چکا ہے کرونا وائرس کے متعلق بعض جگہ غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔کرونا وائرس کو ایک بے حد خطرناک اور مہلک وائرس کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے آئیے دیکھتے ہیں کہ حقائق کیا ہیں۔ کیا یہ واقعی بہت مہلک وائرس ہے؟ کیا ماضی قریب میں ہمارا اس سے خطرناک وائرسز سے پالا نہیں پڑا؟

نوول کرونا وائرس کیا ہے؟

یہ ایک نیا وائرس ہے اس قدر نیا کہ ابھی تک اس کا کوئی نام بھی نہیں ہے.
یہ وائرس وائرسز کی ایک فیملی کرونا وائرس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس بیماری کی علامات خاصی جانی پہچانی ہیں جیسا کہ خشک کھانسی، بخار اور سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا, بہت سے لوگوں میں یہ علاقات معتدل ہوتی ہیں اور ایسے لوگوں کو ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں پڑتی صرف کچھ لوگ شدید وائرل نمونیا کا شکار ہوتے ہیں ,ایسے لوگ ہسپتالوں  میں جاتے ہیں اور اموات بھی انہی لوگوں میں رپورٹ کی گئی ہیں۔

یہ نیا کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کا سورس ووہان میں واقع سمندری خوراک کی مارکیٹ ہے جہاں جنگلی جانور بھی بیچے جاتے ہیں۔ ابھی تک ہمیں جو معلوم ہے اس کے مطابق اس کے تمام کیسز ووہان سے ہی آئے ہیں۔ ہم کچھ لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جو جاپان اور تھائی لینڈ وغیرہ میں ہیں اور ان میں اس بیماری کی علامات پائی جاتی ہیں لیکن یہ بیماری انہیں وہاں نہیں لگی، بلکہ وہ ووہان میں انفیکٹ ہوئے اور پھر انہوں نے ان ممالک کا سفر کیا۔

چائنہ میں جہاں اس بیماری کے زیادہ تر کیسز ہیں وہاں یہ وائرس زیادہ تر بوڑھے لوگوں، جن کی عمر عموماً  چالیس سے زیادہ ہوتی ہے، کو متاثر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس بیماری کے سب سے کم عمر شکار کی عمر 13 یا 14 سال تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وائرس چھوٹے بچوں کو متاثر نہیں کرتا۔ جن لوگوں کی اس بیماری کی وجہ سے موت ہوئی ہے ان کی صحت کی  کنڈیشنز نارمل لوگوں کی نسبت کمزور تھیں یہ لوگ یا تو دل کی بیماریوں کا شکار تھے یا انہیں پہلے سے کینسر وغیرہ تھا ان کا ایمیون سسٹم اتنا مضبوط نہیں تھا کہ وائرس کا مقابلہ کر سکتا۔

پھیلاؤ:
شروع میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ وائرس صرف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جیسا کہ سارے کورونا وائرس کرتے ہیں لیکن اب ہم یہ جانتے  ہیں  کہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں بھی منتقل ہوتا ہے۔
جس مارکیٹ سے یہ وائرس پھیلا تھا اسے سیل کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود ان لوگوں میں بھی اس وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں جو کبھی اس مارکیٹ کے نزدیک بھی نہیں گئے۔

علاج:
فی الحال ہمارے پاس اس وائرس کا کوئی علاج نہیں یہ ایک نیا وائرس ہے اینٹی بائیوٹکس اس پر کام نہیں کریں گی وہ صرف بیکٹیریا پر کام کرتی ہیں تو اس سے نمٹنے کے لئے ہمیں اینٹی وائرل طریقوں کی ضرورت ہے۔ ہم نے فلو وائرس کے خلاف کچھ ڈرگز بنائی ہوئی ہیں لیکن وہ بھی اس پہ کام نہیں کریں گی ،کیونکہ فلو وائرس کورونا وائرس سے خاصا مختلف ہے۔

یہ وبا کس قدر خطرناک ہے؟

یہ بات تھوڑی ڈراؤنی ہے ،کیونکہ یہ ایک نیا وائرس ہے، ہم نہیں جانتے کہ آگے اس کا رویہ کیا ہو گا ،لیکن ہم اس کا ماضی کی کچھ بیماریوں سے موازنہ کر کے پیشین گوئی ضرور کر سکتے ہیں۔ افریقہ میں ایبولا نامی ایک بیماری پھیلی تھی جس میں متاثر شدہ لوگوں کی 50فیصد تعداد مر جاتی تھی۔سارس جو کہ اسی کی طرح ایک نوول کورونا وائرس تھا اس نے 2002 میں خاصی تباہی پھیلائی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا اس کا ڈیٹھ ریٹ 10فیصد  تھا، موجودہ کورونا وائرس کے کیس میں ڈیٹھ  ریٹ صرف 2فیصد  ہے، جو کہ خاصا کم ہے ،اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مرنے والے اکثر خراب صحت کے مالک تھے، ان کے امیون سسٹم عام لوگوں کی نسبت کمزور تھے ،اور ان کے فلو وائرس سے بھی مرنے کے اتنے ہی چانسز تھے۔
یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ماضی قریب میں ہمارا اس سے خطرناک وائرسز سے بھی واسطہ پڑ چکا ہے اور اس وائرس کو میڈیا پر خوامخواہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
نیچے دیئے گئے چارٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گزشتہ سالوں میں ہمارا جن وائرسز سے سامنا ہوا ہے ان میں سے ووہان وائرس کی شرح اموات سب سے کم ہے۔

سورس:
https://youtu.be/aerq4byr7ps





بشکریہ

جواب چھوڑیں