عوام سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔۔عبدالرؤف


ڈیوٹی سے گھر لوٹا تو سب سے پہلے بچے میری طرف لپکے ,انہیں بڑی مشکلوں سے خود سے دور کیا اور   سمجھایا کہ بیٹا فی الحال اک دوسرے سے دور رہنے میں ہی بہتری ہے، لیکن بچے تو بچے ہی ہیں ،وہ اک دم سے کہاں سمجھنے والے ہیں، انہیں تو الگ سے بٹھا کر بار بار اس بات پر زور دینا پڑے گا کہ اپنوں سے دور رہیں، رشتےداروں کے گھر کچھ عرصے کے لیے نہ جائیں،  ابھی  یہ باتیں   سوچ ہی رہا تھا کہ وہ چھوٹی بیٹی جسے بڑی مشکل سے خود سے  الگ کیا تھا پھر سے مجھ سے  لپٹ گئی ۔

گھروں میں محبت کے یہ مظاہرے عام بات ہے۔لیکن آج کل کرونا وائرس  کی وجہ سے  جہاں بچوں کو سمجھانا مشکل ہوا پڑا ہے،وہیں پوری قوم اس مخمصے  کا شکار  ہے ،ہمارے معصوم  لوگ اس بیماری کو بیماری سمجھنے کو ہی تیار نہیں ،ان کے خیال میں یہ امریکہ کی سازش ہے،اس کی چال ہے، چین کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے کیمیائی  ہتھیاروں کا استعمال کیا  گیا ہے،جس سے یہ وباء پھیلی ہے، کچھ نادان دوستوں کا خیال ہے کہ یہ مسلمانوں کو  ان کی  عبادت گاہوں سے دور  کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔یہ قوم بھی عجیب ہے کبھی بھی کسی مسئلے کو سنجیدہ نہیں لے گی، پوری دنیا اس وقت اس بیماری کی لپیٹ میں ہے اور ہم اب تک ایک پیج پر  ہی نہیں آسکے۔

چوبیس گھنٹے مسلسل قوم کو پوری دنیا  کے حالات سے باخبر رکھا جارہاہے، لیکن اس کے باوجود   ہم ٹک ٹاک ، فیسبک  اور دیگر  سوشل میڈیا سائٹس پر اس آفت کا مذاق بنا رہے ہیں ۔یہ لمحہ ء فکریہ ہے۔قوم ابھی تک اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

اب بھی وقت ہے ،سنجیدگی اختیار کیجیے،خود کو اور اپنے پیاروں کو اس ہلک وبا سے محفوظ رکھنے کےلیے اقدامات کیجیے۔یہ وقت کھیل تماشے کا  نہیں بلکہ ہمیں اک اچھے  اور ذمہ دار شہری  ہونے کا ثبوت دینا ہے،اور   بحیثیت مسلمان ہمیں نمازوں کا اہتمام، دعاؤں اور وظیفوں کا ورد،  نفلی عبادات  کا اہتمام کرنا ہوگا ۔کیوں کہ کسی بھی مشکل و پریشانی سے اللہ کی مدد کے بغیر نہیں نکلا جاسکتا ۔
اس کے علاوہ ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ جہاں اس وباء کی وجہ سے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے وہیں بہت سارے ایسے لوگ جو دہاڑی دار مزدور ہیں جو ٹھیلے لگاتے ہیں، یا روزانہ کی اجرت پر کام کرتے ہیں وہ گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے ہیں وہ وقتی طور پر بے روزگار ہوگئے ہیں، ہمیں ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، اور وہ صاحب حیثیت شخص جس پر زکوٰۃ، خیرات فرض ہے یا وہ دوسرے افراد جو برسر روزگار ہیں اور اپنے مال میں سے دوسروں کو بھی کھلا سکتے ہیں ،وہ  اس مشکل   گھڑی میں اپنے ان غریب مزدور بھائیوں کو نہ بھولیں۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں