جے ماتا جے۔۔۔حبیب شیخ | مکالمہ


درمیانے قد اور بھاری وزن کے ڈاکٹر شرما نے الٹراسونک کمرےسے نکل کر دفتر کی طرف مڑ کر زورسے کہا۔ “جے ماتا جے ” اور سب گھر والوں کے چہرے لمبے ہو گئے ۔ میرے سسر کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں ۔ مجھے بتایا گیا کہ بچہ صحیح نہیں تھا اور حمل گرانا ضروری تھا۔ پھر نرس نے مجھے ایک گندے اور اندھیرے کمرے کی طرف لے جانا شروع کر دیا اور میرے اندر کی جیتی جاگتی ہستی کو، میرے جسم کے ایک ٹکڑے کو باہر نکال کر کوڑے میں پھینک دیا گیا۔

یہ قیامت مجھ پر ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آئی۔ جے ماتا جے کی آواز، غم و غصہ اور میرے اندر چیر پھاڑ۔ میں شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو گئی۔ یہ قصور میرا ہی تھا کہ میں ایک صحت مند بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھی۔ میری آنکھیں ہر وقت شرمندگی سے جھکی رہتیں اور میں ڈری رہتی کی کہیں میرا شوہر یا اس کے ماں باپ مجھے گھر سے نہ نکال دیں۔ میں بس یہی سوچتی کہ کیا میں اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے لئے منحوس عورت ہوں۔ کیا مجھے یہاں سے چوری چھپے بھاگ جانا چاہیے، لیکن کہاں؟ میرے ماں باپ مجھے قبول نہیں کریں گے۔ ان سب کی نظریں مجھے زندہ کھائے جارہی تھیں۔ مجھ سے کوئی بات تک نہیں کرتا تھا۔ اپنے سسر کا چہرہ دیکھ کر مجھے وہ چمگا نامی بھوت یاد آجاتا جس کی بچپن میں کہانی سن کر میں کئی دنوں تک اپنے ہی گھر میں ڈرتی رہی تھی۔
میرے ماں باپ نے بھی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا۔ کئی مرتبہ میں نے خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگانے کے بارے میں سوچا لیکن پھر میں رک جاتی کہ  شاید اگلی مرتبہ صحت مند بچہ پیدا ہو جائے، میں زندہ رہنے کی امید کو اپنی اگلی امید سےہونے پر لگا دیتی۔

جب میں تیسری بار حاملہ ہوئی تو دن رات شگن کرتی رہی کہ اس بار میرا بچہ میرے اندر صحیح پھلے پھولے اور جب میں ڈاکٹر شرما کے پاس جاؤں تو وہ میرے گھر والوں کو ایک خوش خبری سنائے۔ اور میں ایک تندرست بچے کو جنم دوں، تو میرا شوہر مجھ سے کبھی دو باتیں کر لیا کرے اور شاید وہ دن بھی واپس آجائیں جب میرا سسر پیار سے مجھے بیٹی کہہ کر پکارے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو میں خود کو مار ڈالوں گی، ہاں مار ڈالوں گی۔

جیسے ہی میری ساس کو پتا چلا کہ میں اُمید سے ہوں تو پہلے کی طرح میری ساس نے دعائیں مانگنا شروع کردیں کہ بھگوان اس کو ایک پوتا دے گا اور میں سوچتی رہ جاتی کہ اگر لڑکی پیدا ہوگئی تو کیا میرا سسرال اس کو قبول کر لے گا۔ اگر نہیں تو میرا اور میری بچّی کا کیا ہو گا؟

دو دن بعد مجھے پھر اسی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ میں کانپ رہی تھی میرے کانوں میں جےماتا جے کے نعروں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ میرے شوہر ساس سسر سب کی نظریں ایک سوالیہ نشان کی طرح تھیں اور میرے پاس ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

الٹرا سونک کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر نے دروازہ کھول کر دفتر کی طرف منہ کرکےجے ماتاجےکا صور پھونکا اور میں زمین کے اندر زندہ غرق ہو گئی۔ میں نے آنکھیں بند رکھیں کہ میں ان میں کسی سے بھی آنکھیں ملانے کے قابل نہیں تھی۔

اب پھر مجھے اس گندے اور اندھیرے کمرے کی طرف لے جایاجا رہا تھا۔ کمرے کا دروازہ زور سے بند ہوا تو اس سخت چہرے والی نرس نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ میں اس کی بات سن کر پاگل ہو گئی۔ میں اپنے اندر اس صحت مند ہستی کو ہر صورت میں بچاناچاہتی تھی۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگنا شروع کر دیا۔ میرے پیچھے پیچھے میرے گھر والے اور ملازم بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا لیکن میرے اندر لاوا ابل رہا تھا۔ ان سب کے پکڑے  جانے کے باوجود میں ان کے قابو سے باہر تھی۔ میرے چہرے سے آگ برس  رہی تھی آنکھوں سے شعلے اور حلق سے چیخیں بلند ہو رہی تھیں ۔ آج میں شاید چمگا بھوت بن گئی تھی۔ میں ایک جنونی کی طرح گرد و نوا ح سے بے خبر دوڑتی رہی ،جب تک کہ میں اپنی اکلوتی سہیلی کے گھر نہ  پہنچ گئی اور اس کے دروازے کو پیٹنا شروع کر دیا۔ دروازے کا ایک پٹ کھلا تو فوراً اسے اندر سے بند کر کے چٹخنی لگا دی اور ٹھنڈے فرش پر ڈھیر ہو گئی۔
اب میں اپنی ننھی منی صحت مند بیٹی کے ساتھ ایک با مشقت مگر پُرسکون زندگی گزار رہی ہوں۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں