ایدھی صاحب! آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ شاہکام جمال

عبدالستار ایدھی جنہیں بیرونِ پاکستان فادر ٹریسا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اپنے فلاحی کاموں کی ابتدا ایک سوزوکی سے کی، اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس اس ملک کو فراہم کردی۔ ایدھی صاحب بے گھروں کے لئے سایہ بنے، یتیموں کے سرپرست، بوڑھوں کا آسرا، ذہنی و جسمانی معذوروں کا سہارا، کون سا ایسا شعبہ ہے جس پر ایدھی صاحب کی نظر کرم نہ پڑی ہو۔

لیکن ایدھی صاحب کے لیے ایک ہی زندگی میں یہ سب کچھ کرلینا کیسے ممکن ہوا؟ یہ سب فلاحی کام ایدھی صاحب مخیر حضرات کے تعاون سے کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ایدھی صاحب نے اس ملک کے غریب سفید پوش لوگوں سے ایک ایک روپیہ چندہ جمع کیا۔  جو صاحب حیثیت تھے وہ لاکھوں، کروڑوں میں تعاون کرتے رہے۔ اپنے صدقات، اپنی زکوٰۃ اور بھی بہت کچھ اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہوئے ایدھی صاحب کے معاون بنتے رہے۔

لیکن اس سب نے ہماری قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا!

کیسے؟ وہ اس طرح کے ایدھی صاحب کے اس عمل سے ہمارے حکمران اس قوم کے بگڑے ہوئے لاڈلے بن گئے اور کبھی پوری طرح اس قوم کی ذمہ داری نہ اٹھا سکے۔

ان کی نظریں مشکل وقت میں ہمیشہ ایدھی صاحب اور مخیر حضرات پر مرکوز رہیں۔  جب جب اس قوم پر مشکل وقت پڑا، اس قوم کو جذباتی نعرے دیئے گئے۔  65 کی جنگ ہو یا 2005 کا زلزلہ اس قوم نے فلاحی کاموں میں اس قدر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کہ مشکلات بھی ان کے عزم و ہمت کا مقابلہ نہ کرسکیں۔

کبھی اس قوم سے ملکی قرضے سے نجات حاصل کرنے کیلئے چندہ جمع کیا گیا جو چڑھنے کی وجہ وہ نہیں حکمرانوں کی عیاشیاں تھیں، کبھی اس قوم سے ان کی بنیادی ضروریات، ہسپتالوں کیلئے چندے جمع کئے گئے، کبھی اس قوم سے پانی دینے کے وعدے پر چندے لئے گئے۔ اس چاند ستارے والی قوم کو چندے کے نام پر حکمران ہمیشہ ماموں بناتے رہے۔

ایدھی صاحب کو مشعل راہ مانتے ہوئے اس قوم کے ایک کے بعد ایک نوجوان فلاحی کاموں کیلئے خود کو صرف کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت میں مشغول ہوئے تو انہیں بھی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے مخیر حضرات کے تعاون کی ضرورت پیش آئی۔

آج کرونا صورتحال کے پیش نظر اس قوم پر وہ برا وقت آن پڑا ہے کہ روپیہ روپیہ جو ایدھی کو دیتے تھے وہ کمانے تک کی اجازت نہیں۔ نوکری پیشہ اور دیہاڑی دار طبقے کے روپیے کی اہمیت مخیر حضرات کے لاکھوں روپے میں آج اس طرح واضح ہورہی ہے کہ جو روپیہ دینے والے تھے وہ مانگنے والے نہیں تھے اس لئے کبھی مخیر حضرات اور فلاحی اداروں پر اتنا بوجھ نہیں پڑا۔

آج جب پورا پاکستان ایک بیماری کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے اپنے گھروں میں بیٹھنا چاہتا ہے تو کیا اب یہ حکومت صرف ایدھی کے پیروکاروں اور مخیر حضرات سے امیدیں لگائی بیٹھی ہے؟

ایک الیکشن پر یہ حکومتیں اربوں خرچ کردیتی ہے، ایک یوم دفاع کا بجٹ بے تحاشہ ہے۔  حکمران ایک اقتدار کی کرسی کیلئے پیسہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں، تو کیا چند دن اس قوم کو عزت کی روٹی نہیں دے سکتے؟

کیا آج اپنے عیش و آرام سے کوئی ذاتی گھر ذاتی گاڑی یا تنخواہ عوام پر قربان نہیں کرسکتے؟

عمران خان اس وقت اپنی بھیک مانگنے کی عادت سے اس قوم کو سبق دے رہے ہیں کہ ساری زندگی بھیک مانگنے کی جو عادات سیکھی ہیں” میں اس عادت سے اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا “۔

کیا عمران خان کی اتحادی ایم کیوایم اور دیگر جماعتیں اقتدار کی ہوس میں اتنی گرچکی ہیں کہ اپنے تئیں خیلفہ وقت پر سوال اٹھائیں بھی تو کرسیوں پر چمٹے ہوئے، منمناتے ہوئے ؟
رہے اتحادیوں کو اتحاد مبارک!

اپوزیشن اس مشکل وقت میں محض لفاظی کے بجائے اس حکومت شغلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کیوں نہیں کرتی؟

سب کے اپنے مفاد وابستہ ہیں۔  اگر اس قوم سے اس ملک سے انسانیت سے ذرا بھی جذباتی وابستگی ہوتی تو ملک میں بلدیاتی نظام موجود ہے اور اس بلدیاتی نظام کی موجودگی میں کسی اسپیشل ٹاسک فورس کی ضرورت پیش نہ آتی۔  ہر شہر ،ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر یوسی کا ناظم، کونسلر اپنی اپنی عوام کی خبر گیری کرتا۔ اب بھی اگر چاہیں تو اس بحران کا سب سے بڑا حل صرف اور صرف حکومت اور اس کے نظام بلدیات کے پاس ہے لیکن یہ ایدھی صاحب کے بگڑے ہوئے لاڈلے اب بھی صرف چندہ مانگیں گے  اور ان فلاحی اداروں اور مخیر حضرات کی کوششوں پر نظریں رکھیں گے جو پہلے بھی اس بحران سے نمٹنے کیلئے رات دن ایک کررہے ہیں۔

البتہ یقین جانیے کہ  اگر لاک ڈاؤن کی صورتحال کرونا کی وجہ سے جاری رہی تو تمام مخیر حضرات ،تمام فلاحی ادارے ہار جائیں گے اور اس ملک میں بھوک سے ترسے ہوئے لوگ ایسی لوٹ مار کریں گے کہ جن کے اثرات بڑے جرائم کو جنم دیں گے ۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں