خواب نوبل انعام یافتہ جرمن شاعر اور ادیب ہیرمان ہ…

خواب

نوبل انعام یافتہ جرمن شاعر اور ادیب ہیرمان ہیسے کی ایک نظم
Traum / Hermann Hesse / 1901

ایک ہی سا ہوتا ہے میرا خواب ہمیشہ سے
کِھلتے سرخ پھولوں والا وہ شاہ بلوط کا پیڑ
اِک باغ جو گرما کے پھولوں سے بھرا ہوتا ہے
اُن کے سامنے ایک پرانا، تنہا کھڑا مکان
وہاں، جہاں خاموشی میں گِھرا باغ ہے
ہاں وہیں، ماں میرا پالنا ہلایا کرتی تھی
مدتیں ہو چکیں اب تو، باقی بھی نہ ہوں شاید
وہ باغ، وہ گھر اور شاہ بلوط کا وہ پیڑ
شاید جاتا ہو وہیں سے کوئی رستہ کسی سبزہ زار کو اب
اور ہل اور سہاگے سے کی جاتی ہو کوئی کھیتی تیار
وطن، گلشن، گھر اور پیڑ، اُن میں سے اب
کچھ بھی نہیں بچا سوائے میرے خواب کے

(جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2750528445177671

جواب چھوڑیں