شگفتہ شفیق رحمتوں سے گھر سجانے ماہ رمضاں آگیا سی…

شگفتہ شفیق

رحمتوں سے گھر سجانے ماہ رمضاں آگیا
سیدھے رستے پر چلانے ماہ رمضاں آگیا

اس کی رونق اور بہاریں دیکھتے ہیں چار سو
بے کلی اور دکھ مٹانے ماہ رمضاں آگیا

روزے کی برکت کا یارو ماجرا ہی اور ہے
خیر کے لے کر خزانے ماہ رمضاں آگیا

گونجتی ہیں ہر طرف قرآن کی ہی آیتیں
نیکیوں میں دن بتانے ماہ رمضاں آگیا

دل کی اپنی سب مرادیں پیارے رب سے مانگ لو
کھل گئے رب کے خزانے ماہ رمضاں آگیا

مسجدیں آباد ہیں مومنو ں کے دم سے یوں
رب کو اپنے پھر منانے ماہ رمضاں آگیا

دل شگفتہؔ کا تڑپ کے کہہ رہا ہے آج یہ
رنج و غم جی سے بھلانے ماہ رمضاں آگیا


جواب چھوڑیں