یکم مئی ۔۔۔۔۔ مزدوروں کا عالمی دن آج پاکستان سمیت…

یکم مئی ۔۔۔۔۔ مزدوروں کا عالمی دن
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے ۔۔ یہ واحد دن ہے ، جس دن دنیا کی اکثریت بلا تفریق مذہب ، رنگ و نسل ،ملک ، زبان شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں چھٹی کرتے ہیں ۔۔۔ سوائے امریکہ اور کینیڈا وہاں ستمبر کے پہلے Monday کو یہ دن منایا جاتا ہے ۔۔۔۔

مزدور کی تعریف
مزدور کی تعریف مختلف اردو / انگریزی لغات میں مختلف کی گئی ہیں ۔ مختلف اداروں نے اپنے اپنے انداز میں مزدور کی تعریف کی ہے ۔۔۔ معروف معنی میں مزدور کا مطلب ہے Hard worker مختلف ماہرینِ معاشیات مزدور کی تعریف یوں کرتے ہیں ،
" ہر وہ شخص جو متعین معاوضہ اور مقررہ وقت میں اپنی ذہنی و جسمانی خدمات مہیا کرتا ہے ، مزدور ہے " ۔ بہرحال جسمانی مشقت کو ہی مزدور سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

مزدور تحریک کا پس منظر
یورپ و امریکہ میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ دار طبقہ پیدا ہوا ، جس نے مزدوروں کا استحصال کرنا شروع کر دیا ۔۔ فیکٹریوں میں کام کرنے کے اوقات متعین نہیں تھے ۔ مزدوروں سے 18 گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور کوئی چھٹی نہیں دی جاتی تھی ۔۔ اس کے علاوہ کام کرنے کی جگہوں کے حالات نہایت خراب تھے ۔۔۔ اس ظلم ، جبر ، غلامانہ طریقۂ کار سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوئی ۔۔۔۔

مزدور تحریک کا آغاز
دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی مزدور تحریک کا آغاز ہو چکا تھا ، لیکن یہ تمام ٹریڈ یونینز چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بکھری ہوئی تھیں ان میں سوشلسٹ زیادہ سرگرم تھے ۔۔۔۔
لہٰذا اکتوبر 1884 امریکہ میں مزدوروں کی ایک بہت بڑی ٹریڈ یونین قائم ہوئی جس کا نام " فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈز اینڈ لیبر یونین " تھا ۔ جس نے باقاعدہ مزدور تحریک کا آغاز کیا ۔۔۔۔
اسی لیبر یونین نے eight hour work day کے مطالبے کو منوانے کے لئے فیصلہ کیا کہ یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ کے مزدور ہڑتال کرکے کام بند کریں گے ۔۔۔۔۔

یکم مئی
یکم مئی 1886 کو تمام امریکہ میں مزدوروں نے ہڑتال کردی ۔ یہ ہڑتال نہایت کامیاب اور پرامن رہی ۔۔۔
2 مئی کو بھی اسی طرح ہڑتال کی گئی ۔۔۔۔
3 مئی کو بھی پرامن ہڑتال کی گئی لیکن اس دن پولیس ایک فیکٹری میں گھس گئی اور 6/7 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔۔۔۔۔

4 مئی ۔۔۔ شکاگو Heymarket واقعہ
مزدور تحریک کا اصل باب یہی واقعہ ہے جس کے نہایت دور رس نتائج برآمد ہوئے ۔۔۔ اس کی تفصیلات بہت طویل اور پیچیدہ ہیں جس پر بہت کتابیں لکھی گئیں ہیں ۔۔۔ واقعات کی ترتیب بہت طویل ہے ۔۔۔ مزدوروں کی پرامن ریلی ، بم پھینک کر مزدوروں پر فائرنگ ، گرفتاریاں ، مقدمے کی کارروائی ، عدالتی فیصلے ۔۔۔۔
3 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے مزدوروں کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کے لئے 4 مئی کو شکاگو میں واقع heymarket میں مزدوروں نے پرامن ریلی نکالی ۔۔۔ تمام مزدوروں کی زبان پر ایک ہی ترانہ تھا
Eight hours work day
4 مئی کی شام کو مزدور رہنماؤں نے جلسے سے تقاریر شروع کیں ۔ رات 10,30 بجے تقریر جاری تھی کہ پولیس آن پہنچی ۔۔۔ پولیس کو سرمایہ داروں نے پہلے ہی بہت زیادہ پیسوں کی فنڈنگ کر رکھی تھی لہٰذا پولیس کو بھی سرمایہ داروں کی طرف داری اور حمایت میں اپنی کار گزاری دکھانی تھی ۔۔ چنانچہ پولیس نے مزدور رہنماؤں کو اعلان کرکے کہا کہ ریلی ختم کی جائے اور جلسہ کے شرکاء واپس جائیں ۔ اسی دوران اچانک پولیس پر ایک دیسی ساختہ دستی بم یھینکا گیا ۔ جس سے فوراً ایک پولیس والا ہلاک اور چھ پولیس والے زخمی ہوگئے ۔۔۔ اس کے بعد پولیس نے مزدوروں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ۔۔۔۔۔ جس سے کئی مزدور ہلاک و زخمی ہوئے ، انہی زخمی مزدوروں میں سے ایک مزدور نے اپنی خون آلود قمیض کو ہوا میں لہرایا اور سرخ رنگ مزدوروں کا علامتی رنگ بن گیا ۔۔۔۔ اس ہنگامہ آرائی میں 6 پولیس والے اور 4 مزدور ہلاک ہوگئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلی منتشر ہوگئی ۔ پولیس نے فوری طور پر بم پھینکنے کا الزام مزدوروں پر لگا دیا لیکن پولیس کے لئے مشکل یہ تھی کہ اس الزام کو کورٹ میں ثابت کیسے کیا جائے گا ؟ بہرحال دوسرے دن سے ہی پولیس نے چھاپے مار کر گرفتاریاں شروع کر دیں ۔۔۔۔۔پولیس نے درجنوں مزدوروں کو گرفتار کیا جن میں سے 8 مزدور رہنماؤں کا چالان عدالت میں پیش کر دیا ۔۔۔

مقدمہ
8 مزدور رہنماؤں کو جج جوزف گیری کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔۔۔ جج نے مقدمے کا آغاز ہی مزدور دشمنی کے ساتھ کیا اور عدالتی کارروائی میں بے شمار بد دیانتیاں سامنے آئیں ۔۔۔ مثلاً پولیس کوئی گواہ پیش نہیں کر سکی کہ بم ملزمان ہی نے پھینکا ؟؟؟؟ یہ بات پراسرار ہی رہی کہ بم کس نے پھینکا ؟ سرمایہ داروں کے کسی ایجنٹ نے یا خود پولیس نے ؟ اور پولیس پروسیکیوشن کا تمام دار و مدار مزدور رہنماؤں کی تقاریر پر اور ان کو انارکسٹ ثابت کرنے پر رہا ۔۔۔۔

بہرحال کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باوجود 7 رہنماؤں کو پھانسی اور 1 کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ۔
اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر
کی گئی ۔ جس میں تین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا جبکہ چار رہنماؤں کی پھانسی کو برقرار رکھا گیا ۔۔۔۔۔

11 نومبر 1887 کو اینجل ، فشر ، پارسن اور اسپائز کو پھانسی دے دی گئی ۔۔۔۔
پھانسی سے پہلے اسپائز نے کہا ، غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گیں ۔۔۔۔
فشر نے کہا ، ہم خوش ہیں کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لئے جان دے رہے ہیں ۔
شاعر ، افسانہ نگار آسکر وائلڈ ، ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا ، شاعر ولیم مورس ، ناول نگار ولیم ڈین ہوویل جیسے لوگوں نے اس مقدمہ کے فیصلے کی مذمت کی ۔۔
1893 میں جب نیا ترقی پسند گورنر جان پیٹر ایلٹگیلٹ آ یا تو اس نے عمر قید والوں کی معافی دے دی بلکہ اس مقدمہ کی مذمت بھی کی ۔۔۔۔

یکم مئی منانے کا آغاز
1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا ۔۔۔۔

اثرات و نتائج
1۔ مزدوروں کے لئے 8 گھنٹے کام کے وقت کا تعین کیا گیا ۔۔۔
2۔ مزدوروں کے لئے ہفتہ وار چھٹی کا قانون بنایا گیا ۔۔۔۔
3۔ مزدوروں کو انجمن سازی یعنی ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا ۔
4 ۔ مزدوروں کو ملازمت کے تحفظ کا حق دیا گیا ۔۔۔
5 ۔ مزدوروں کے مقدمات کی سماعت کے لئے علیحدہ لیبر کورٹ قائم کی گئیں ۔۔۔
6 ۔ خواتین ورکرز کو دوران حمل خصوصی چھٹیوں کا قانون بنایا گیا ۔۔۔۔۔۔
مختصر تعارف مزدور لیڈر

1۔ آگسٹ اسپائز ۔۔۔۔ نیوزپیپر ایڈیٹر ۔۔۔ Activist

2۔۔۔ البرٹ پارسن ۔۔۔ نیوزپیپر ایڈیٹر ۔۔۔ Activist

3 ۔۔۔۔۔ جارج اینجل ۔۔۔ کھلونوں کی دکان کا مالک ۔۔۔ مزدور رہنما

4 ۔۔۔ ایڈولف فشر ۔ صحافی ۔۔ Activist


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2751854271711755

جواب چھوڑیں