نعتِ رسولِ مقبول ﷺ – سحر علی کہاں پہنچ تھی مری، ذ…

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ – سحر علی

کہاں پہنچ تھی مری، ذات کے دفینے تک
تری تلاش مجھے لے گئی مدینے تک

نہیں ہے اس میں ذرا عیب و شک کی گنجائش
پہنچ ہی جائے گا دل ایک دن مدینے تک

کرم جو آپ ؐ کا ہوگا تو ہے یقیں مجھ کو
رسائی پائیں گے منجدھار سے سفینے تک

جمالِ رُخ کے تصدق کہ اُنؐ کے جلوؤں سے
چمک کے ماند ہوئے پل میں آبگینے تک

دلِ حزیں میں طلب اب کہاں کسی شے کی
ہے اختیار سحرؔ صرف اشک پینے تک


جواب چھوڑیں