یکجا نعتیہ کاوش- سمیعہ نازؔ اس دم ہُوئے توق…

یکجا نعتیہ کاوش- سمیعہ نازؔ

اس دم ہُوئے توقیر مآب اور زیادہ
پایا ہے جو نزدیک وہ باب اور زیادہ

لب پر تھا مِرے اسمِ نبی خواب میں پیہم
آکاش سے برسے تھے گلاب اور زیادہ

جب بارِ دگر آئی مجھے یادِ مدینہ
پھر جھوم کے آئے تھے سحاب اور زیادہ

لوٹی ہوں اگرچہ میں اسی شہر سے لیکن
دیکھے ہیں درِ شاہ کے خواب اور زیادہ

عُشّاقِ نبی پائیں گے محشر میں شفاعت
ہر گز نہیں پائیں گے عذاب اور زیادہ

کرتے ہی رہے ذکرِ نبی ذکرِ خدا جو
صد شکر ملا ان کو ثواب اور زیادہ

جب ذکرِ محمد سے درخشاں ہوئی محفل
آنکھوں میں بھی در آیا تھا آب اور زیادہ

جب مدح و ثنا ان کی ہوئی میری زباں سے
مہکا یہ سدا دل کا گلاب اور زیادہ

سوچا ہے درِ شاہ کو جب بھی مرے دل نے
ناز ؔآیا عقیدت پہ شباب اور زیادہ


جواب چھوڑیں