نعت رسول مقبول – ثمینہ سید روشنی اور خوشبووُں کا …

نعت رسول مقبول – ثمینہ سید

روشنی اور خوشبووُں کا ایک منظر ہو گیا
نعت جب کہنے لگی تو گھر معطر ہو گیا

اسم احمد ؐکی صدائیں آرہی ہیں دم بدم
ہر گلی کوچہ درودوں سے منور ہو گیا

دفعتا" لب پہ جلا کیا اسم احمد ؐکا چراغ
اک چھناکے سے اجالا دل کے اندر ہو گیا

اُن ؐکی رحمت سے دئیے صحراوُں میں جلنے لگے
اُنؐ کی رحمت سے ہر اک قطرہ سمندر ہو گیا

گنبد خضری کو دیکھا ہے جو دل کی آنکھ سے
نور کی کرنوں سے جل تھل سارا پیکر ہو گیا

نام لکھا جائے گا اپنا ثناخوانوں کے بیچ
فخر سے اونچا ثمینہؔ اپنا یہ سر ہو گیا


جواب چھوڑیں