“کیا دنیا میں کوئی ایسا ذی روح بھی ہے جس کو کوئی ت…

“کیا دنیا میں کوئی ایسا ذی روح بھی ہے جس کو کوئی تکلیف نا پہنچی ہو؟ مجھے اتنی تکلیف دی گئی ہے کہ اب میں اس کا خیال ہی نہیں کرتا۔ جب لوگ ہی اس قسم کہ ہیں تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔ اگر اس کا خیال کرو تو کام میں خلل پڑتا ہے۔ اور پھر تکلیف پر دل کڑھانے سے وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہی ہے زندگی کا عالم۔ زندگی ایسے ہی گذرتی ہے میری ماں۔”

“دکھ ایک پردہ ہے۔ ہم اس کے اندر رہتے ہیں۔ ہم لوگ ایسے لباس کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس میں فخر کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہر شخص کی آنکھوں پر پٹیاں تھوڑی بندھی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ اپنی آنکھیں خود ہی بند کر لیتے ہیں۔ بات دراصل یہی ہے۔ تو اگر ہم احمق ہیں تو اسے ہنس کر برداشت کرنے کہ سوا کوئی چارہ نہیں!
ماں از میکسم گورکی۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2755397464690769

جواب چھوڑیں