کیفی اعظمی کی وفات May 10, 2002 آج مقبول شاعر او…

کیفی اعظمی کی وفات
May 10, 2002

آج مقبول شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی کی برسی ہے۔
کیفی اعظمی (ولادت 19 فروری 1925ء، وفات 10 مئی 2002ء) کا پورا نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں ہوئی۔ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں شاعری شروع کر چکے تھے۔ ان کی پہلی نظم اس طرح تھی:

مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر
جی خوش تو ہوگیامگر آنسو نکل پڑے
اک تم، کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے

کیفی اعظمی جنہوں نے ترقی پسند شاعری اور فلمی گیتوں کی وجہ سے ایک منفرد مقام پایا 19جنوری1919ء کو اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زمانہ طالبعلمی یعنی گیارہ سال کی عمر میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ انہوں نے جب ایک مشاعرہ میں اپنی پہلی غزل ’’اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے‘‘پیش کی تو صدر مشاعرہ مانی جیسی نے خوب داد دی اس پر بعض شعراء خاص کران کے والد نے کہا کہ یہ غزل انہوں نے ضرور اپنے بڑے بھائی سے لکھوائی ہے لیکن جب بڑے بھائی نے انکار کیا تو پھر ان کے والد اور منشی نے ان کا امتحان لینے کی ٹھانی۔ انہوں نے کیفی کو ایک مصرع دیا او رکہا کہ اس بحر وزن اور قافیہ میں غزل لکھو چنانچہ کیفی نے ان کا چیلنج قبول کرتے ہوئے غزل لکھ دی۔

بعد ازاں یہی غزل بیگم اختر نے گاکر اسے نقش دوام بخش دیا۔ 1942ء کی انڈیا چھوڑ وتحریک کے دوران انہوں نے فارسی اور اردو کی تعلیم کو خیرباد کہہ دیا اور فل ٹائم مارکسسٹ کارکن بن گئے۔1943ء میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کرلی۔اس طرح وہ لکھنؤ سے ترقی پسند مشہور شعراء کی نظروں میں آگئے۔ وہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے بھی معترف ہوگئے۔ انہوں نے ان کو فطری شاعر پاکر ان کی خوب حوصلہ افزائی کی جس کی بنا پر انہیں ترقی پسند رائٹرز کی تحریک کا رکن منتخب کر لیا گیا۔24سال کی عمر میں وہ کانپور کے صنعتی علاقے کی ٹریڈیونین میں حصہ لینے لگے اور ایک اچھے کارکن کی حیثیت سے کام کرنے لگے جبکہ ان کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔
کیفی اعظمی نے فلمی گیت، مکالمے اور کہانیاں لکھنے کے علاوہ بطور اداکار بھی کام کیا انہوں نے1952ء میں عصمت چغتائی کی کہانی پر تیار کی گئی فلم ’’بزدل‘‘ کے گیت لکھے۔ اس فلم کے ہدایت کار عصمت کے شوہر شاہد لطیف تھے۔1956ء میں فلم یہودی کی بیٹی1957ء میں پروبن1958ء میں پنجاب میل اور عید کا چاند جیسی فلمیں لکھیں۔
انہوں نے کہرا، انوپما، اُس کی کہانی، پاکیزہ،ہنستے زخم، ارتھ، رضیہ سلطان، سات ہندوستانی، شعلہ اور شبنم، باورچی اورنسیم جیسی فلموں کے گیت لکھے۔ نسیم کی کہانی بھی انہوں نے خود ہی لکھی تھی۔یہ فلم بابری مسجد کو منہدم کرنے والے واقعہ 2دسمبر1992ء پر لکھی گئی تو جسے ہندو توا کے انتہا پسند ہندوؤں نے گرادیا تھا۔ نسیم ایک بچی ہے جس کا دادا اس واقعہ کا صدمہ جھیل نہیں پاتا اور مرجاتا ہے۔ دادا کا کردار کیفی اعظمی نے خود ہی کیا تھا۔

کیفی اعظمی 10مئی 2002ء کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔ انہوں نے اپنے گاؤں کو ایک مثالی گاؤں بنادیا تھا اور اس علاقہ میں لاتعداد سوشل ورک بھی کیا تھا۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد

دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گۓ
ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد

ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ
ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد

غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد

اعلان حق میں خطرہء دار و رسن تو ہے
لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیۓ دو گز کفن کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں

تو اپنے دل کی جواں دھڑکنوں کو گن کے بتا
مری طرح ترا دل بے قرار ہے کہ نہیں

وہ پل کہ جس میں محبت جوان ہوتی ہے
اس ایک پل کا تجھے انتظار ہے کہ نہیں

تری امید پہ ٹھکرا رہا ہوں دنیا کو
تجھے بھی اپنے پہ یہ اعتبار ہے کہ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا جانے کس کی پیاس بھجانے کدھر گئیں
اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں

دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں

اب جس طرف سے چاہے گزر جاۓ کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے
غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں

پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے
اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں


جواب چھوڑیں