باب نمبر 18 : میں گھر سے بھاگ گیا (آخری باب) فرا…

باب نمبر 18 : میں گھر سے بھاگ گیا

(آخری باب)

فرانسیسی ناول نگار رینے گوسینی Réné Goscinny کے ناول Petit Nicholas کے ترجمے "ننھّا نصیر" کا آخری باب ۔۔۔

ترجمہ : شوکت نواز نیازی

ایک دن میں گھر سے بھاگ گیا۔ ہوا یوں کہ میں اچھا بھلا ڈرائنگ روم میں کھیل رہا تھا۔ سکون سے بیٹھا تھا کہ اچانک امّاں اندر آئیں اور مجھے ڈانٹنے لگیں صرف اس لئے کہ ان کے نئے قالین پر غلطی سے سیاہی کی دوات الٹ گئی ۔ میں رونے لگا اور میں نے ان سے کہا کہ میں گھر سے بھاگ جاؤں گا اور سب مجھے یاد کریں گے ۔ امّاں نے کہا، "میرے پاس تمہاری باتوں کا وقت نہیں ہے، مجھے سودا سلف لینے جانا ہے۔" یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔

میں اپنے کمرے میں پہنچا کہ وہ سب سامان اکٹھا کر سکوں جس کی مجھے گھر سے بھاگنے کے دوران ضرورت پڑے گی۔ میں نے اپنا سکول کا بستہ اٹھایا اور اس میں اس میں اپنی سرخ رنگ کی کار رکھی جو خالہ عالیہ نے دی تھی، پھر میں نے اس میں سپرنگ والی ریلوے ٹرین رکھی جس کی صرف ایک ہی مال بردار بوگی بچی تھی، باقی سب ٹوٹ چکی تھیں، اور چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا جو میں نے رات کے کھانے سے بچا رکھا تھا۔ میں نے اپنی گولک بھی سنبھال لی ۔ کیا معلوم سفر میں پیسوں کی ضرورت ہی پیش آ جائے۔ اور میں گھر سے بھاگ نکلا۔

میری قسمت اچھی تھی کہ امّاں گھر پر نہیں تھیں ورنہ وہ مجھے کبھی بھی گھر سے بھاگنے نہ دیتیں۔ جب میں سڑک پر پہنچا تو بھاگنے لگا۔ امّاں اور ابّا مجھے بہت یاد کریں گے، میں جب کافی سالوں کے بعد واپس لوٹوں گا تو وہ دادی امّاں کی طرح بوڑھے ہو چکے ہوں گے اور میں بہت امیر ہو چکا ہوں گا، میرے پاس ایک بہت بڑی گاڑی ہو گی اور ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہو گا اور میرا اپنا ایک قالین ہو گا جس پر میں جب چاہوں سیاہی کی دوات الٹ سکوں گا اور وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔

یونہی بھاگتے بھاگتے میں اصغر کے گھر کے سامنے پہنچ گیا جو میرا دوست ہے اور شاید میں پہلے آپ کو بتا چکا ہوں کہ وہ بہت موٹا ہے اور ہر وقت کھاتا رہتا ہے۔ اصغر اپنے گھر کے باہر ہی بیٹھا تھا اور مصالحے والی روٹی کھا رہا تھا۔ اس نے مصالحے والی روٹی کا ایک نوالہ توڑا اور بولا، "تم کہاں جا رہے ہو ؟" میں نے اسے بتایا کہ میں گھر سے بھاگ رہا ہوں اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ میرے ساتھ آنا چاہے گا۔ "جب ہم بہت سالوں بعد واپس آئیں گے تو ہم بہت امیر ہو چکے ہوں گے اور ہمارے پاس گاڑیاں اور ہوائی جہاز ہوں گے اور ہمارے ابّا اور ہماری امّائیں ہمیں دیکھ کر اتنے خوش ہوں گے کہ پھر ہمیں کبھی نہ ڈانٹیں گے۔" لیکن اصغر میرے ساتھ چلنے پر تیار نہ تھا۔ وہ بولا، "تم تو پاگل ہو۔ میری امّاں آج شام گوشت والا پلاؤ بنا رہی ہیں۔ میں آج شام گھر سے نہیں بھاگ سکتا۔" پھر میں نے اصغر کو خداحافظ کہا اور اس نے بھی ایک ہاتھ اٹھا کر مجھے خداحافظ کہا کیونکہ وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے مصالحے والی روٹی کا ایک نوالہ اپنے منہ میں ٹھونس رہا تھا۔

میں نے سڑک کا موڑ کاٹا تو میں تھوڑی دیر کے لئے رک گیا کیونکہ اصغر کو دیکھ کر مجھے بھی بھوک لگنے لگی تھی۔ میں نے اپنا چاکلیٹ کا ٹکڑا کھایا۔ اس سے مجھے اپنے سفر کے لئے طاقت ملے گی۔ میں دور جانا چاہتا تھا، بہت دور، جیسے چین تک۔۔۔ یا پھر وہاں تک جہاں ہم پچھلے سال چھٹیاں گزارنے گئے تھے اور جو ہمارے گھر سے بہت دور تھا اور جہاں پہاڑ بھی تھے اور اونچے اونچے درخت بھی۔ لیکن اتنی دور جانے کے لئے مجھے ایک گاڑی یا ایک ہوائی جہاز خریدنا ہو گا۔ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا اور میں نے اپنی گولک توڑ ی اور اپنے پیسے گننے لگا۔ میرے پاس گاڑی یا ہوائی جہاز کے لئے پیسے تو نہ تھے اس لئے میں ایک بیکری میں گھس گیا اور ایک چاکلیٹ والا کریم رول خریدا جو واقعی بہت زبردست تھا۔

کریم رول کھانے کے بعد میں نے اپنا سفر پیدل طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں وقت تو بہت لگے گا لیکن چونکہ اب میں نے اپنے گھر واپس تو نہیں جانا تھا، نہ ہی سکول جانا تھا اس لئے میرے پاس بہت وقت تھا۔ میں نے ابھی تک اپنے سکول کے بارے میں تو سوچا ہی نہ تھا اور پھر میں سوچا کہ کل میڈم کلاس میں کہیں گی، "بیچارہ نصیر اکیلا ہی گھر سے بھاگ گیا ہے، بالکل اکیلا، اور بہت دور چلا گیا ہے۔ وہ واپس آئے گا تو بہت امیر ہو چکا ہو گا اور اس کے پاس ایک نئی گاڑی اور ایک ہوائی جہاز بھی ہو گا۔" سب لوگ میرے بارے میں باتیں کریں گے اور میرے بارے میں پریشان ہوں گے اور اصغر کو افسوس ہو گا کہ وہ بھی میرے ساتھ کیوں نہ چل دیا۔ یہ سب بہت زبردست ہو گا۔

میں چلتا گیا لیکن اب مجھے تھکاوٹ ہونے لگی تھی اور یوں بھی میں بہت تیز چل نہ پا رہا تھا کیونکہ میری ٹانگیں بہت چھوٹی تھیں، اپنے دوست مقصود کی طرح نہیں۔ لیکن اب میں مقصود سے اس کی لمبی ٹانگیں ادھار تو نہیں مانگ سکتا تھا۔ یہ سوچتے ہی مجھے ایک اور خیال آیا، میں اپنے کسی دوست سے اس کی سائیکل تو ادھار مانگ سکتا ہوں۔ عین اسی لمحے میں اپنے دوست لطیف کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ لطیف کے پاس ایک زبردست سائیکل ہے، پیلے رنگ کی چمکدار سائیکل۔ بس ایک مشکل یہ تھی کہ لطیف کسی کو اپنی چیزیں نہیں دیتا ۔

میں نے لطیف کے گھر کی گھنٹی بجائی تو لطیف نے خود آکر دروازہ کھولا۔ وہ بولا، "ارے، نصیر تم ؟ تمہیں کیا چاہئے ؟" میں نے کہا، "تمہاری سائیکل !" لطیف نے فوراً دروازہ بند کر دیا۔ میں نے دوبارہ گھنٹی بجائی اور لطیف نے دروازہ نہ کھولا۔ میں نے گھنٹی کے بٹن پر انگلی رکھ دی اور بٹن دبائے رکھا۔ گھر کے اندر سے مجھے لطیف کی امّاں کی آواز سنائی دی، "لطیف، دروازہ کھولتے ہو یا نہیں !" لطیف نے دروازہ کھولا تو مجھے ابھی تک وہاں کھڑا دیکھ کرزیادہ خوش نہ ہوا۔ میں نے اسے کہا، "لطیف مجھے تمہاری سائیکل ادھار چاہئے۔ میں اپنے گھر سے بھاگ آیا ہوں اور میری امّاں اور میرے ابّا مجھے بہت یاد کریں گے اور میں سالوں بعد واپس آؤں گا اور اس وقت تک میں بہت امیر ہو جاؤں گا اور میرے پاس ایک گاڑی اور ایک ہوائی جہاز بھی ہو گا۔" لطیف نے مجھے کہا کہ جب میں واپس لوٹ آؤں اور بہت امیر ہو جاؤں توپھر آکر اسے ملوں، اس وقت اسے اپنی سائیکل مجھے بیچنے پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ مجھے لطیف کی یہ تجویز پسند نہ آئی لیکن میں سمجھ گیا کہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور ان پیسوں سے میں لطیف کی سائیکل خرید سکوں گا۔ لطیف کو پیسے بہت پسند ہیں۔

اب میں سوچنے لگا کہ پیسے کیسے حاصل کئے جائیں۔ میں کوئی کام نہیں کر سکتا تھا کیونکہ آج جمعرات تھی۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں اپنے بستے میں موجود کھلونے بیچ سکتا ہوں۔ خالہ عالیہ والی سرخ کار اور ریلوے ٹرین کا انجن اور اس کی ایک مال بردار بوگی جو اب اکیلی ہی رہ گئی تھی کیونکہ باقی ساری بوگیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ سڑک کی دوسری جانب مجھے کھلونوں کی ایک دکان دکھائی دی۔ میں نے سوچا وہاں میں اپنی گاڑی اور ریلوے ٹرین بیچ دیتا ہوں۔

میں دکان میں داخل ہوا تو دکاندار انکل نے مسکرا کر میری جانب دیکھا اور بولے، "ہاں، میرے بچّے، کیا خریدنے آئے ہو ؟ بنٹے ؟ فٹبال ؟" میں نے انہیں بتایا کہ میں کچھ خریدنے نہیں آیا ہوں بلکہ میں تو انہیں اپنے کھلونے بیچنے آیا ہوں۔ یہ کہہ کر میں نے اپنا بستہ کھولا اور کاؤنٹر کے سامنے فرش پر اپنی کار اور ریلوے ٹرین نکال کر رکھ دی۔ دکاندار انکل نے آگے کو جھک کر دیکھا اور حیرت سے بولے، "لیکن میرے بچّے، میں تو کھلونے بیچتا ہوں، خریدتا نہیں ہوں۔" میں نے ان سے پوچھا کہ جو کھلونے وہ بیچتے ہیں وہ انہیں کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ بولے، "نہیں، نہیں، بچّے، وہ مجھے ملتے نہیں ہیں، میں تو انہیں خریدتا ہوں۔" میں نے انہیں کہا، "تو پھر میرے کھلونے ہی خرید لیں۔" اس پر دکاندار انکل پھر بولے، "نہیں، نہیں، تم سمجھے نہیں، بچّے، میں خریدتا تو ہوں لیکن تم سے نہیں خرید سکتا، تمہیں تو میں صرف بیچ سکتا ہوں۔۔۔ میں تو کھلونے ایک فیکٹری سے خریدتا ہوں اور تمہیں۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب ہے کہ۔۔۔" وہ رک گئے اور پھر بولے، "تم جب بڑے ہو جاؤ گے تو سمجھ جاؤ گے۔" لیکن انہیں سمجھ نہ آئی کہ جب میں بڑا ہو جاؤں گا تو مجھےنہ پیسوں کی ضرورت ہو گی اور نہ سمجھنے کی کیونکہ میں اس وقت بہت امیر ہو چکا ہوں گا اور میرے پاس ایک گاڑی ہو گی اور ایک ہوائی جہاز ہو گا۔ پھر میں رونے لگا۔ اس پر دکاندار انکل پریشان ہو گئے اور انہوں نے کاؤنٹر کے پیچھے کچھ تلاش کیا اور مجھے ایک چھوٹی سی کار تھما دی اور پھر انہوں نے مجھے کہا کہ اب مجھے گھر جانا چاہئے کیونکہ اب کافی دیر ہو چکی ہے اور انہیں دکان بند کرنا ہے اور سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد انہیں مجھ جیسے گاہک نہیں چاہئیں۔ میں اپنے ریلوے انجن اور دو کاروں کے ساتھ دکان سے باہر نکل آیا۔ لیکن میں بہت خوش تھا۔ خیر دیر بھی ہو رہی تھی۔ شام کا اندھیرا چھانے لگا تھا اور سڑک بھی سنسان دکھائی دے رہی تھی۔ میں بھاگنے لگا۔ جب میں گھر پہنچا تو امّاں نے مجھے دوبارہ خوب ڈانٹا کہ اتنی دیر سے وہ کھانے پر میرا انتظار کر رہی ہیں۔

اچھا، یوں ہے تو پھریوں ہی سہی۔۔۔ کل میں گھر سے دوبارہ بھاگ جاؤں گا۔ امّاں اور ابّا کو میں بہت یاد آؤں گا اور میں بہت سے سالوں بعد واپس لوٹوں گا اور میں امیر ہو چکا ہوں گا اور میرے پاس ایک بڑی گاڑی اور ایک بڑا ہوائی جہاز بھی ہو گا۔

ترجمہ : شوکت نواز نیازی، 9 مئی 2020


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2759956970901485

جواب چھوڑیں