قرۃالعین حیدر(عینی آپا)کی یاد میں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

قرۃالعین حیدر(عینی آپا)کی یاد میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عینی آپا نے جس دور میں اپنے لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا اور مشنری سکولوں کے نئے نویلے یونیفارم، ٹوتھ پیسٹ اور ہندی وکٹورین طرز تعمیر کی جدید راہداریوں سے ہوتی ہوئیں علیگڑھ سے شملہ و نینی تال اور پھر لندن و پیرس کیطرف محوِ پرواز ہوئیں تو برطانوی نوآبادیاتی تسلط ہندوستان پر اپنی عسکری فتحیابی کے بعد اپنی تہذیبی بالادستی کا رنگ بھی گہرا کر چکا تھا۔۔اسکا نظام تعلیم و عدالت، نغمہ و ساز، علم و ادب اور نشست و برخاست آکسفورڈ تا کلکتہ و علیگڑھ اور بمبئ تا لاہور اور پشاور یہاں نئی تعلیم یافتہ مقامی اشرافیہ gentry کو اپنا گرویدہ بنا کر کلب، سوڈا وسکی اور وکٹورین طرز و آداب کو انکی دیسی زندگی میں داخل کر چکا تھا ۔۔عینی آپا بنیادی طور پر اسی طبقے کی آرٹسٹک ترجمان تھیں۔۔

آپکی خوبصورت اور حساس مشرقی روح کے اندر مغربی طرز تمدن کا پیانو جب دھیرے دھیرے "والز"کی دھن بجاتا زندہ ہوا اور ڈرائنگ روم کے آتش دان کے پاس ہلتی "روکنگ چئر"اور کہیں پاس ہی گراموفون ریکارڈ پر لہکتی سیکسوفون کی المناک صدا اور پولکا ڈانس کی "ٹپ ٹو"جب جاگی تو اس باکمال لڑکی کے میٹھے من میں ایک انوکھے فسوں کا ارتقاء ہوا۔۔ھندوستان بھر کے اہل درد و لطف مچل اٹھے۔۔مشرق و مغرب کا اتنا بھرپور اور گہرا ادراک کسی دیسی روح میں یوں کم کم ہی لہکا ہو گا۔۔۔

لفظوں کا عجیب سا اسرار تھا جو قاری کے قلب کو کسی گہری مغربی سمفنی کی لۓ پر رکھکر گنگا جمنی جنگلوں میں چھیڑے بھیرو راگ کا لطف بھی دے جاتا تھا۔۔عینی کے ھیروز ایٹن، آکسفورڈ اور علیگڑھ کے تِرشے،فرفر انگریزی بولتے اور شستہ اردو کے چٹکلے داغتے ھینڈسم لوگ تھے۔۔ لاؤنج سُوٹوں،دوشالوں،ٹراؤزرز اور نظر فریب ساڑھیوں میں ملبوس خوبصورت مرد و زن۔۔شملہ اور مسوری کے خوابناک پہاڑی مقامات کے انگلش کلبوں اور بادلوں میں گھرے جدید بنگلوں میں زبان و بیان اور انوکھے رومانس کی جوت جگاتے۔۔ایسے کرارے اور دلربا کہ قاری مسکراتا بھی تو اسکے دُور اندر لطف اور آنسو کا جھرنا بھی چپ چاپ بہے جاتا۔۔انکے ہاں کچھ بھی ہلکہ، فروعی یا بدمزہ نہیں ملتا۔۔ہر شے گہری،پرلطف اور باوقار۔۔۔

انکا گرد و پیش اور خود اپنی ذات چونکہ انگریزی کلچر کی زبردست بوچھاڑ میں تھی اسلئے اسکی سچی نمائندگی کیلئے انہیں ایک نیا لہجہ اور تحریری اسلوب دریافت کرنا پڑا جو گہرے انگریزی لفظوں اور اردو کا دلچسپ مرکب تھا۔۔اسے اگر ہم جدید اینگلو انڈین اردو کا نام دیں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔۔یہ اور بات کہ عینی آپا کا دریافت کردہ یہ مخلوط یا پھر hybrid اسلوب ہماری جدید نظم و نژ کا ایک باقاعدہ لہجہ اور حصہ بن بیٹھا اور آج ایک عجیب و غریب کلیشے کی شکل اختیار کر کے اپنا رعب جماتا ہے مگر اصلاًنا چیز یہ عینی آپا ہی کی تھی جو انہی کو جچتی تھی۔۔

وہ ایک لامکاں قسم کی کائناتی روح تھیں جنکو یہ لہجہ زیبا تھا انکے انگریزی اور اردو کلچر کے دونوں متضاد پلڑے برابر تول پر تھے۔۔۔وہ جب ایک زبان کا لفظ دوسری زبان کی لوح پر مرکب کرتی تھیں تو دونوں زبانوں کا تہذیبی اور تاریخی کلاسیکل ادراک ہاتھ جوڑ کر بیک وقت انکے ساتھ ساتھ چلتا تھا اپنے تمام تر ملوک اور میٹھے aesthetic پس منظر کےساتھ۔۔اور پھر انکا لگایا یہ لفظ یا تاثراتی پیوند، صوتی اور روحانی سطح پر ایک بھرپور بوسے کیطرح قاری کو لزت اور لطف کا انوکھا ذائقہ دے ڈالتا۔۔مرکب الفاظ و تراکیب کا یہ آفاقی ادراک کوئی "آگ کا دریا" تا "آخر شب کے ہمسفر" اور دیگر تحاریر میں بس دیکھا کرے۔۔۔

کیا میرے وطن کا جدید شاعر اور لکھاری اپنے دیس اور بدیس کی مٹی میں پوشیدہ ان نازک اور نفیس رگوں کا شناور ہے جو عینی آپا کا فطری خلاصہ تھا؟ اگر نہیں تو اسے عینی آپا کا ہی امتیاز رہنے دیجئے۔۔
( یہ چند لفظ میں نے عینی آپا کی برسی اور یاد کے موقع پر، مری کی دلکش فضاؤں میں انکے شملے اور مسوری کے خوابناک انگلش ہل سٹیشنوں کو سامنے رکھکر لکھے اور انوکھے لطف سے سرشار ہوا)۔۔۔۔۔۔۔ (احمد شیر رانجھا)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2759735857590263

جواب چھوڑیں