ناراضی قبول مگر اب کسی کے کام نہیں آنا۔۔اے وسیم خٹک


اگر دوستی کسی غرض کے لیے نہیں تو میری جانب سے بھی دوستی پکی سمجھو، اگر اس میں کہیں بھی غرض کا عنصر شا مل ہے تو خدارا   مجھ سے دور  ہو جائیے، کیونکہ میر ے پاس غرض کی دوستی کے لئے کوئی جگہ اور وقت نہیں ہے ۔اور آج کے بعد میں نے کسی کا کام کرکے اپنے اوپر کوئی احسان بھی نہیں لینا ۔ کیونکہ میں کوئی اتنا بڑاآدمی نہیں ہوں کہ ہر کسی کا کام کرتا پھروں ۔ میں اگر آپ کی کوئی مدد کرتا ہوں تو یہ میں کسی اورکا احسان اپنے سر پر لیتا ہوں ۔ اور مجھے یہ پتہ ہے کہ اس احسان کے بدلے میں مَیں بھی پھر اُسی کا کوئی کام کروں گا جو کہ کبھی کبھار ناجائز بھی ہوتا ہے ۔ اب تک نجانے میں کتنے دوستوں اور لوگوں کے کام آیا ہوں اس کا میں اندازہ نہیں لگا سکتا کہ میں کن کن کے جائز اور ناجائز کام کیے ہیں۔ ان کاموں کے کرنے کے بعدمجھے کوئی فائدہ نہیں ملا ، البتہ نقصان ملا ہے کیونکہ اسی کام کے بدلے میں پھر میں نے اُسی بندے کا دوسرا کام کردیا ہے اب تک اپنی زندگی میں کبھی اپنے فائدے کے لئے نہیں سوچاہے۔ ہمیشہ دوسروں کا فائدہ اور اپنا نقصان کیا ہے ۔اب تک میں اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھ چکا ہوں اور ان چالیس بہاروں میں میں بہت سے لوگوں کے کام آیا ہوں ۔ بہت سے دوستوں کے کام کیے ہیں ۔ بہت سے رشتہ داروں کے کام کیے ہیں ۔

میرے کہنے پر میرے یار دوستوں کو ملازمتیں ملی ہیں اُن کے پیپرز پاس ہوئے ہیں ۔اگر چہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ بس پتہ نہیں کیوں لوگوں کو مجھ سے امیدیں ہوتی ہیں ۔ اور وہ فون کھڑکادیتے ہیں ۔اور پھر انہیں ثمر بھی مل جاتا ہے کہ اُن کا کام ہوجاتا ہے حالانکہ میں وسیلہ ہوتا ہوں کام اللہ کراتا ہے ۔ میں کسی کو کام کرنے کے لئے انکار کر نہیں سکتا۔ گھر میں ایسی تربیت ہوئی ہے کہ جھوٹ بول نہیں سکتے ۔ جب کوئی کام کرنے کا کہہ دیتا ہے کہ کوئی مسئلہ کسی ادارے میں پیش آیا ہے کوئی جاننے والا ہے کہ نہیں تو ذہن پر زور ڈال کر کوئی نہ کوئی بندہ فرینڈ لسٹ میں نکل آتا ہے ۔اور پھر جگاڑ چل جاتا ہے ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو اتنی معلومات کیسے ہوجاتی ہیں مجھے بھی یہ معلوم نہیں ہوتا مگر جن کا کام ہوتا ہے اُن کو سب معلومات ہوتی ہیں کہ اُس بندے کے ساتھ میرا کوئی تعلق ہے ۔شاید کام کرانے کے لئے یہ کام نکلوانے والے لوگ معلومات اکٹھی کرتے ہیں ۔ اور پھر ایک واردات کے طور پر حملہ کردیتے ہیں ۔ چکنی چپڑی باتوں ، درد بھری کہانیوں سے ، جذباتی قصوں سے ماحول کو ایسا دردنا ک بناتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بندے کا دل پسیج جاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی آپ سوچنے لگتے ہیں، کہ اس کا کام کردینا چاہیے۔ میرے ساتھ یہ ایک دفعہ نہیں بارہا ہوا۔جب ہم نے مجبور ہوکر کسی کا کام کروایا ہے حالانکہ ابھی تک اپنے کسی بھی جائز کام کے لئے میں نے کسی کا سہارا نہیں لیا ،نہ ہی میں نے کسی کو اپنے اور اپنے خاندان کے کسی فرد کے لئے یا کسی کو ملازمت دینے کے لئے کوئی بات کی ہے کہ میرا یہ کام کردیں۔البتہ اپنے جائز کا م کے لئے کئی ایک دوستوں کو درخواستیں کی ہیں کیونکہ وطن عزیز میں کسی بھی ادارے میں جاؤ تو پیسوں کے بغیر کام نہیں ہوتا ۔ اور ہم رشوت دینے کو کفر سمجھتے ہیں اس لئے ہمارا جائز کام بھی نہیں نکلتا۔ مجبور ہوکر ہم کسی نہ کسی دوست کا سہارا لے لیتے ہیں ۔ دوسروں کے لئے سنگ پارس ہیں مگر اپنے لئے کوئی کام نہیں نکال سکتے۔اپنے حق کے لئے آواز اُٹھائی ہر در کھٹکھٹایامگر کام ندارد ۔ کبھی کبھار جب دوست احباب کو کال کرتے ہیں تو پہلے سوال یہ ہوتا ہے۔ کوئی کام ہے کیا جو اتنے دنوں بعد یاد کیا۔جو کہ ہمارے لئے گولی ہوتی ہے ۔ اور جب ہمیں کوئی بہت دنوں بعد کال کرلیتا ہے تو ہمارا بھی کبھی کبھار یہی سوال ہوتا ہے ۔ کہ بولیں جی کیا خدمت کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ اب فون کال بھی ضرورت کے لئے ہوگئی ہے ۔اب رابطے بھی صرف کام کے لئے ہوگئے ہیں ۔ میرا حلقہ یاراں بہت وسیع ہے اس لئے لازمی ہے کہ دشمن بھی زیادہ ہوں گے۔ اور جو صاف گو ہوتا ہے ویسے بھی دنیا ساری اُسکی دشمن ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ دنیا جھوٹوں کی ہے ۔ اور سچ بولنے والے یہاں زیر عتاب ہوتے ہیں ۔کسی سے بات کرلیں تو وہ گرویدہ بن جاتے ہیں ۔ دوبارہ ملنے کی آس لے کر بندہ چلا جاتا ہے۔ اور پھر رابطے میں رہتا ہے۔ مجھے ایک اور بات سمجھ نہیں آتی کہ جب لوگ نزدیک آتے ہیں تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ا س بندے کی کوئی حاجت تھی اس لئے یہ اتنا نزدیک ہوا تھا۔ اور جب کام مکمل ہوا تو وہ بندہ ایسا غائب کہ جیسے جانتا ہی نہ ہو۔ جب صحافت میں تھے تو لوگوں کی خبریں چھاپا کرتے تھے ۔ہمارا فون ہر وقت بزی جایا کرتا تھا۔ اس بات پر ہمارے باس کو بھی ٹینشن ہوا کرتی تھی کہ تمھیں زیادہ فون آتے ہیں جبکہ میں ادارے کا سربراہ ہوں مجھ سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا۔ بات رابطے کی نہیں تھی ۔ لوگوں کے کام آنا تھا۔ ان کی خبریں چھاپنا مقصود تھا۔ جب صحافت چھوڑی تو یہ فون بھی کم ہوگئے۔ٹیچنگ میں آئے تو علامہ اقبال یونیورسٹی کے ٹیوٹر بنے اورپھر نہ ختم ہونے والی کالیں آئیں کہ بندے کو پاس کردیں ۔ کسی نہ کسی ریفرنس سے کوئی نہ کوئی آتا۔ حتی کہ میرے اپنے اساتذہ جنہوں نے نقل کرنے سے روکے رکھا تھا انہوں نے بھی حکم دیا کہ یہ بندہ پاس کروانا ہے ۔ اور یوں ہم نے ٹیوٹر شپ چھوڑ دی جب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تو بھی یہی سلسلہ چل نکلا مگر اصول بنالیا کہ اس کام میں کسی کی مدد نہیں کرنی ۔ جو بھی ہو نقل نہیں چھوڑنی۔ دوست احباب ناراض ہوتے ہیں تو ناراض ہوجائیں ۔مگر کیا کریں مجبوری ہے کبھی کسی نہ کسی کے سامنے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ مگر اب ایک فیصلہ کرلیا ہے کوئی ناراض ہو ، کسی کا دل دکھے اب کسی کا کوئی بھی کام نہیں کرنا کیونکہ اوروں کے احسان لیتے لیتے تھک چکا ہوں مجھے اس حوالے سے معاف ہی کردیں تو مہربانی ہوگی ۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں