تجھے ہم دو پہر کی دھوپ میں دیکھیں گے۔۔آصف محمود


صبح کے حسن اور شام کے حزن پر بہت لکھا گیا ، دوپہر جانے کیوں نظر انداز کر دی گئی۔ حالانکہ گرمیوں کی دوپہر میں وہ حسن ہے ، آئینہ حیرتی ہو جائے۔شہری زندگی ایک ناگزیر المیہ ہے ، یہاں صبح اور شام کی خبر نہیں ہوتی ، دوپہر کا حسن کوئی کیا جانے۔یہاں صبح کا دم گھٹ چکا ہے ، شام بال کھولے رو رہی ہے اور دوپہر کاروبار کے روپ میں اترتی ہے۔ گھڑیوں سے لوگ اٹھتے ہیں اور گھڑیاں ہی انہیں سلا دیتی ہیں۔صبح دم کہیں مرغان سحر کی اذان ہے نہ شام کے ساتھ کہیں جگنو اترتے ہیں۔مشین میں نصب کسی پرزے کی طرح انسان بھاگ رہے ہیں۔کچھ خبر نہیں سورج کب طلوع ہوا اور کب غروب ہو گیا۔ ہاں ،میری طرح جن کا پچپن کسی گائوں میں گزرا ہو ، ان پینڈوئوں کو چلتے چلتے ماضی آواز دیتا ہے اور قدم پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ پھر ناسٹیلجیا ہاتھ تھامے ادھر ادھر لیے پھرتا ہے۔ کبھی جھیل کے پانیوں پر صبح کی پہلی کرن کسی دعا کی صورت اتر رہی ہوتی ہے اور کبھی مرغزار کے پہلو میںکہیں ڈوبتا سورج سارے جنگل کو اداس کر جاتا ہے۔کبھی پت جھڑ میںراستوں پر بکھرے پتے آواز دیتے ہیں اور کبھی بہار رت میں چہچہاتے پرندے بھی اپنی طرف بلاتے ہیں ، کبھی درختوں کی ٹہنیوں سے لپٹا ساون آواز دیتا ہے تو کبھی جنگل کے جاڑے کی شام دامن سے لپٹ جاتی ہے۔ کبھی مرغ سمیں کی موسیقی دل کے تار ہلا دیتی ہے اور کبھی کوئل کی کوک وجود میں سوز بھر دیتی ہے۔دوپہر کا حسن مگر سب سے جدا ہے اور دوپہر تو صرف گرمیوں کی ہوتی ہے۔شوکمار بٹالوی نے کہا تھا: شکر دوپہر سر تے ، میرا ڈھل چلیا پرچھاواں۔ حسرت موہانی فوت ہو چکے اور غلام علی خان بتاتے ہی کچھ نہیں کہ وہ کون تھا ، اصرار کیا جائے تو بس مسکرادیتے ہیں، ہم جیسوں کے لیے البتہ یہی کافی ہے کہ ان کے بلانے کے واسطے ننگے پائوں جو کوئی بھی آیا تھا ، دوپہر کی دھوپ میں آیا۔ گائوں میں گزری بچپن کی دوپہریں آج بھی دیوار دل سے لگی ہیں۔شاعری میں دوپہر کا ذکر بہت کم ہے۔ شاید شعراء گرمی سے گھبراتے ہوں۔اکبر الہ آبادی کی طرح جو گرمی سے نہیں ، اس کے ذکر سے ہی دل تنگ کر بیٹھتے تھے: ’’ پڑ جائیں مرے جسم پہ ، لاکھ آبلہ اکبر پڑھ کر جو کوئی پھونک دے ، اپریل مئی جون‘‘ اپنا معاملہ مگر یہ ہے کہ اپریل مئی جون کا کوئی ذکر کرے تو یہ سندیسہ لگتا ہے کہ جنگل میں دوپہر اتر چکی ۔اسلام آباد کا حسن یہ ہے یہاں جنگل میں منگل اور منگل میں جنگل ہے۔گرمیوں کی دوپہر البتہ ہر جگہ اچھی نہیں ہوتی۔ گرمی کی دوپہر میں آدمی یا تو اپنے گائوں میں ہو یاپھر اسلام آباد ، گائوں میں نہر ہے ، یہاں ٹریل فائیو۔ گائوں کے دوست تو اب جانے کیا ہوئے ، سالوں سے ملاقات نہیں ہوئی ، ٹریل فائیو سارے حسن کے ساتھ موجود ہے۔پچھلے سال اپریل کے یہی دن تھے ، شکر دوپہر کے سناٹے میں،ٹریل فائیو پر جنگل میں دور تک چلے جانا ایک معمول سا لگتا تھا۔ اب کورونا نے گھروں تک محدود کر دیا ہے تو وہ دن خواب لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگل میں سناٹا ہوتا ہے اور گرمیوں کی دوپہر میں یہ سناٹا آپ سے باتیں کرتا ہے۔ٹریل فائیو پر آپ جنگل میں اندر تک چلتے جائیں تو دو کلومیٹر کے بعد ایک چشمہ آتا ہے۔ اس کے ساتھ انجیر کا ایک قدیم درخت لگا ہے ۔یہ چشمہ اب اس طرح رواں نہیں ہے البتہ خشک بھی نہیں ہوا ۔یہ عرفان ذات کا مقام ہے۔آپ کچھ نہ کریں ، بس چپ چاپ بیٹھے رہیں ، بیٹھے بیٹھے آپ شانت ہو جائیں گے۔ گرمیوں کی کتنی ہی دوپہریں میں نے یہاں گزاری ہیں۔ اس چشمے کے کنارے بیٹھ کر میںنے ’’ تنہائی کے سو سال‘‘ کا کافی حصہ پڑھا ہے۔ ایک دوپہر میں تھک کر یہاں لیٹاتو میری آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو میرے سامنے ایک ناقابل یقین منظر تھا ۔قدیم زمانوں پر بنی فلموں جیسا۔انجیر کے درخت کے اس پار مجھے سے قریبا پندرہ فٹ کے فاصلے پر لومڑی پانی پی رہی تھی۔ ایک جنگل میں آزاد لومڑی کو یوں دیکھنا، یہ منظر نہیں یہ ایک سحر تھا۔ چند لمحے میں لیٹے لیٹے اس خوابناک منظر کو دیکھتا رہا۔یوں لگ رہا تھا میں صدیوں کا سفر کر کے کہیں ماضی میں جا پہنچا ہوں۔ پھر خیال آیا کہ ویڈیو بنا لوں۔ موبائل اٹھایا تو لومڑی بھاگ گئی۔ میں نے یہ واقعہ لکھا تو دوستوں نے حیرت سے کہا ہم نے تو کبھی جنگل میں لومڑی نہیں دیکھی۔ عرض کی کہ صاحب جس وقت آپ جاتے ہیں اس وقت ٹریل فائیو مال روڈ بن چکا ہوتا ہے، لومڑی کہاں ملے گی اس وقت تو مرغ سیمیں بھی نظر نہیں آتا۔ جنگل کی مخلوق دیکھنی ہے تو یہاں گرمیوں کی دوپہر گزاریے۔ اب کرونا کی وجہ سے ٹریل فائیو پر انسانی آمدو رفت محدوود ہوئی ہے تو جانور بے باک ہو کر کافی نیچے تک آ رہے ہیں۔ وائلڈ لائف کی جاری کردہ ویڈیو میں ٹریل فائیو پر ایک لومڑی پلاسٹک کی بوتل منہ میں لیے جا رہی ہے۔ حضرت انسان سمجھے تو یہ ویڈیو ایک بے زبان جانور کا احتجاج ہے کہ پلاسٹک کا یہ عذاب ہمارے گھروں میں مت ڈالیے۔کیا انسان اس بے زبان احتجاج کی زبان سمجھنے کو تیار ہے؟لوگ یہاں شاپر پھینک جاتے ہیں جو جنگلی حیات کی موت ہیں۔ معلوم نہیں انسان کب انسان بنے گا؟ یہاں سے دو راستے نکلتے ہیں اوریہاں سے آگے بہت مشکل اور تھکا دینے والا، چڑھائی کا سفر ہے اور پھر آگے ’’ بوہڑی کا چشمہ ‘‘ آتا ہے جو پوری قوت سے رواں ہے ۔ آپ بوہڑی کے رواں چشمے کے پہلو میں بوہڑ کے درخت تلے گرمیوں کی ایک دوپہر گزار کر دیکھیے۔جنگل آپ سے باتیں کرے گا ، وہ آپ کوموسیقی سنائے گا ، وہ آپ کو لوری دے گا، وہ آپ کو تنائو اور ٹینشن سے آزاد کر دے گا، وہ آپ کی روح کو شانت کر دے گا۔ رمضان المبارک کے بعد جب گرمیاں عروج پر ہوں گی ، انشاء اللہ ہم کرونا سے نجات پا چکے ہوں گے، ہم شکر دوپہر ٹریل فائیو پر مارگلہ کے جنگل میں دور تک جایا کریں گے، ہم تپتی دوپہر میں بوہڑی کے چشمے کا ٹھنڈا میٹھا پانی پئیں گے ۔اللہ نے چاہا تو ہم ٹریل فائیو کو ایک بار پھر دوپہر کی دھوپ میں دیکھیں گے





بشکریہ

جواب چھوڑیں