سفر تمام ہوا زندگی تمام ہوئی تمہارے نام پہ ہر اک…

سفر تمام ہوا زندگی تمام ہوئی
تمہارے نام پہ ہر اک خوشی تمام ہوئی

ہماری آنکھوں کی ویرانیاں وہیں کی وہیں
ہر ایک حجتِ بے چارگی تمام ہوئی

ہمارے شہر میں دیوار پر لکھے ہوئے نام
ہر ایک گمشدہ چارہ گری تمام ہوئی

وہ اپنے گھر میں مقید ہیں کتنا عرصہ ہوا
وہ جن کے نام پر دیوانگی تمام ہوئی

کہاں تلک کیے جاتے وہ ناروائی قبول
ہم ایسے سر پھروں کی عاجزی تمام ہوئی

ہمارے ساتھ وہ اب بیٹھتے نہیں بشریٰؔ
ہمارے ساتھ وہ وابستگی تمام ہوئی

بشری بختیار خان


جواب چھوڑیں