کیا سعودی عرب یمن میں بری طرح پھنس چکا ہے؟۔۔ڈاکٹر ندیم عباس


یمن کی عوام نے بڑی جدوجہد کے بعد صنعا پر عوامی حکومت قائم کی۔ عوام نے بڑی تعداد میں اس حکومت کو سپورٹ کیا اور پہلے سے موجود انتظامیہ سعودی عرب فرار ہوگئی۔ یہاں سے خطے میں ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی، کیونکہ ایک ایسا خطہ جہاں عوامی حکومت کی کوئی مثال نہیں اور ہر طرف بادشاہتیں قائم ہیں، وہاں عوام کی حکومت کسی صورت قابل قبول نہیں۔ سعودی قیادت نے فوری طور پر درجنوں ممالک پر مشتمل ایک اتحاد قائم کیا گیا، جس نے دن رات یمن کے نہتے عوام پر شدید ترین بمباری کی۔ امریکہ اور مغرب ویسے تو انسانی حقوق کا نعرہ اپنے مقاصد کے لیے بلند کرتے ہیں، انہیں قحط کا شکار اہل یمن کی ناکہ بندی نظر نہ آئی اور انہوں نے دھڑا دھڑ اپنا اسلحہ سعودی عرب کو بیچا، جس نے اسے یمن کی سول آبادی پر استعمال کیا۔ یمنی عوام کی حمایت سے حوثی اور ان کی اتحادی قوتیں یمن میں مستحکم ہوچکی ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں۔

ایس ٹی سی یعنی ساودرن ٹرانزیشنل کونسل جسے سعودی عرب اور عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے، اس نے یمن میں الگ ملک کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ریاض میں سعودی عرب کی سرپرستی میں ہونے والی میٹنگ میں یمن میں منصور ہادی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ختم کر دیا۔ انہوں نے ساحلی شہر عدن اور متصل دیگر صوبوں میں خود مختاری کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ یمن کے انتہائی اہم علاقے ہیں، عرب امارات کی یہاں دلچسپی کی وجہ یہاں کی بندرگاہ ہے، جس پر کنٹرول کے لیے یہاں بھاری انویسٹمنٹ کی ہے۔ ہادی حکومت کے وزیر خارجہ محمد الھدرامی نے اس اعلان کو ایس ٹی کا دہشتگردی کی طرف پلٹنا قرار دیا اور معاہدے کی خلاف ورزی کہا۔ دونوں فریقوں نے گذشتہ سال نومبر میں اختلافات کے بعد اختیارات کے بٹوارے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جسے اقوام متحدہ نے یمنی خانہ جنگی ختم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔

علیحدگی پسندوں نے سعودی سرپرستی میں قائم ہادی حکومت کو کرپٹ اور نااہل قرار دیا۔ ایس ٹی سی کے ترجمان سلیمان نے کہا کہ ہم نے اس لیے کنٹرول سنبھالا ہے، کیونکہ حکومت لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے بجلی، پانی اور دیگر سول سروسز نہیں آرہیں۔ اب دو سعودی اتحادیوں میں جنگ ہوگی، کیونکہ پاور شیئرنگ کا جو معاہدہ نومبر میں ہوا تھا، وہ عملی طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ یہ معاہدہ بھی اگست میں ہادی اور ایس ٹی سی فورسز کے باہمی خانہ جنگی کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس خانہ جنگی میں اس وقت درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ عدن کتنا اہم ہے؟ عدن انتہائی اہم یمنی شہر ہے، اس کی اہمیت کی ایک وجہ تو اس کا ساحلی شہر ہونا ہے، جہاں یمن کی اہم بندرگاہ ہے، جس کے ذریعے یمن دنیا بھر سے کاروبار کرتا ہے۔ اس پر قبضہ دنیا سے تجارت کے راستے پر قبضہ ہے۔ اس پر آغاز میں یمن کی عوامی افواج نے 2015ء میں قبضہ کیا تھا، بعد میں اس پر ہادی حکومت اور علیحدگی پسندوں کا قبضہ ہوگیا اور عدن کو دارالحکومت قرار دیا گیا۔

ایس ٹی سی نے الگ حکومت کا اعلان کیا ہے، یہ کوئی نئی ریاست نہیں کہ پہلی بار اس کا اعلان کیا جا رہا ہے، بلکہ یہ جنوبی یمن کی سابقہ جمہوریہ ہے، جو 1967ء سے 1990ء تک موجود تھی۔ عدن پر 1839ء پر برطانیہ نے قبضہ کیا تھا، جو 1967ء تک جاری رہا۔ پھر عدن اور کچھ دیگر علاقوں نے ملکر ساوتھ یمن کے نام سے ایک نیا ملک بنا لیا۔ 1990ء میں دونوں حصے دوبارہ اکٹھے ہوگئے اور ایک یمن معرض وجود میں آیا۔ البتہ 1994ء میں علیحدگی کی ایک کوشش ضرور ہوئی، جو اگرچہ کامیاب نہ ہوسکی، مگر یہ اس بات کی عکاس تھی کہ ایسے عناصر موجود ہیں، جو علیحدگی چاہتے ہیں۔ دونوں خطوں میں ایک بنیادی فرق یہ بھی تھا کہ عدن پر سوویت نواز حکومت قائم ہوگئی تھی، جو کیمونسٹ پارٹی کی طرز کی تھی۔

متحدہ عرب امارات 2016ء سے ایس ٹی سی کی ملٹری سپورٹ کر رہا اور انہیں تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت نوے ہزار تربیت یافتہ ایس ٹی سی فائٹرز یمن میں موجود ہیں۔ اتنی بڑی فوجی قوت کے ساتھ ساتھ ان کے پاس عوامی حمایت بھی ہے، جس کا اظہار مختلف مواقع پر یہ لوگ کرتے رہتے ہیں۔ یمنی صدر نے 2017ء میں عدن کے گورنر الزبیدی کو برطرف کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ الزبیدی علیحدگی پسند نظریات رکھتا تھا۔ اس کے برطرف ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی عدن میں شدید احتجاج دیکھنے کو آیا، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ اس بات کا عکاس تھا کہ یہ لوگ عوامی سطح پر نفوذ رکھتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں سعودی عرب بہت بری طرح سے پھنس چکا ہے، ایک طرف اسے خود حوثیوں کے مقابل میں شکست کا سامنا ہے اور اب وہ خود سے جنگ بندی کی اپیلیں کر رہا ہے۔ اندرونی طور پر کرونا اور تیل کی کم قیمتوں نے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اب اس کے دو اہم اتحادی جو زمین پر اس کی کل قوت تھے، باہم دست و گریبان ہوچکے ہیں۔ ہادی حکومت اور ایس ٹی سی ہر دو یہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ان کی حمایت کرے، جو بظاہر سعودی عرب کے لیے بہت مشکل لگ رہا ہے۔ ان دونوں کی خانہ جنگی یمن کی اصل قوتوں کے لیے راستہ صاف کر دے گی اور بیرونی حمایت پر اپنوں سے لڑنے والے شدید نقصان اٹھائیں گے۔ یمنی امور کے ماہر شخدام لندن نیکسٹ فاونڈیشن میں یمن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے درست تجزیہ کیا کہ ہادی گورنمنٹ کی اگر کوئی قانونی حیثیت تھی تو وہ بھی اب ختم ہوچکی ہے اور اب سعودی عرب کے پاس یمن میں موجود آپشن مزید محدود ہوگئے ہیں اور سعودی عرب یمن میں بری طرح پھنس چکا ہے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں