جلیل عالی صاحب کو جنم دن کی بہت بہت مبارکباد پورا…

جلیل عالی صاحب کو جنم دن کی بہت بہت مبارکباد
پورا نام : محمد جلیل عالی ؛ پیدائش۔ ۱۲؍ مئی ۱۹۴۵ء (ویروکے) امرتسر ،بھارت
تعلیم : ایم۔اے اُردو ۱۹۶۷ء ، ایم۔اے سوشیالو جی ۱۹۶۹ء پنجاب یونیورسٹی لاہور
پیشہ۔ تدریس ۔۔۔ ریٹائرمنٹ۔ ۲۰۰۲ء بطور صدرِ شعبہ اُردو ایف۔ جی سر سیّد کالج مال روڈ راولپنڈی
اضافی سرکاری خدمات۔
…..
یہ جو الفاظ کو مہکار بنایا ہوا ہے
ایک گل کا یہ سب اسرار بنایا ہوا ہے

سوچ کو سوجھ کہاں ہے کہ جو کچھ کہہ پائے
دل نے کیا کیا پسِ دیوار بنایا ہُوا ہے

پَیر جاتے ہیں یہ دریائے شب و روز اکثر
باغ اک سیر کو اُس پار بنایا ہُوا ہے

شوق دہلیز پہ بے تاب کھڑا ہے کب سے
درد گوندھے ہُوئے ہیں ہار بنایا ہُوا ہے

یہ تو اپنوں ہی کے چرکوں کی سلگ ہے ورنہ
دل نے ہر آگ کو گلزار بنایا ہوا ہے

توڑنا ہے جو تعلق تو تذبذب کیسا
شاخِ احساس پہ کیا بار بنایا ہُوا ہے

جاں کھپاتے ہیں غمِ عشق میں خوش خوش عالیؔ
کیسی لذّت کا یہ آزار بنایا ہُوا ہے
……
مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے
نکل گئے اپنی دُھن میں اُس کے نگر سے آگے

شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیں
نگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے

یہ دل شب و روز اُس کی گلیوں میں گھومتا ہے
وہ شہر جو بس رہا ہے دشتِ نظر سے آگے

خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے
گزر گیا رہروِ تمنا کدھر سے آگے

طلسمِ عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرضِ ہُنر سے آگے

نثار اُن ساعتوں پہ صدیوں کے سِحر عالی
جِئے ہیں جن کے جِلَو میں شام و سَحر سے آگے

…..
شاخِ بے نمو پر بھی عکسِ گُل جواں رکھنا
آگیا ہمیں عالی دل کو شادماں رکھنا

بے فلک زمینوں پر روشنی کو ترسو گے
سوچ کے دریچوں میں کوئی کہکشاں رکھنا

رہروِ تمنا کی داستاں ہے بس اتنی
صبح و شام اک دُھن میں خود کو نیم جاں رکھنا

کار و بارِ دنیا میں اہلِ درد کی دولت
سُود سب لُٹا دینا پاس ہر زیاں رکھنا

اُس کی یاد میں ہم کو ربط و ضبطِ گریہ سے
شب لہو لہو رکھنی دن دھواں دھواں رکھنا

عشق خود سکھاتا ہے ساری حکمتیں عالی
نقدِ دل کسے دینا بارِ سر کہاں رکھنا
…..
ذرا سی بات پر صیدِ غبارِ یاس ہونا
ہمیں برباد کر دے گا بہت حسّاس ہونا

مسلسل کوئی سرگوشی ہُمکتی ہے لہو میں
میسّر ہی نہیں ہوتا پر اپنے پاس ہونا

سبھی سینوں میں تیری نوبتوں کی گونج ، لیکن
تری دُھن کا کسی دل کی نوائے خاص ہونا

ہماری شوق راہوں پر کبھی دیکھے گی دنیا
تمہارے پتھروں کا گوہر و الماس ہونا

اِدھر بھی تو اُسے اک دن اٹھانی ہیں نگاہیں
ہمیں بھی تو کبھی ہونے کا ہےاحساس ہونا

کسی موسم تو اپنے بادبانوں پر بھی عالی
لکھیں گے آشنا جھونکے ہوا کا راس ہونا
……
کب ، کون ، کہاں ، کس لیے زنجیربپا ہے
یہ عقدۂ اسرارِ ازل کس پہ کھلا ہے

کس بھیس کوئی موجِ ہوا ساتھ لگا لے
کس دیس نکل جائے یہ دل کس کوپتہ ہے

اک ہاتھ کی دوری پہ ہیں سب چاند ستارے
یہ عرشۂ جاں کس دَمِ دیگر کی عطا ہے

آ ہنگِ شب و روز کے نیرنگ سے آگے
دل ایک گلِ خواب کی خوشبو میں بساہے

یہ شہرِطلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلومیں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے

ہر سوچ ہے اک گنبدِ احساس میں گرداں
اور گنبدِاحساس میں دَر حرفِ دعا ہے

یہ دید تو رُودادِ حجابات ہے عالی
وہ ماہِ مکمل نہ گھٹا ہے نہ بڑھا ہے


جواب چھوڑیں