حکمرانوں کی اوقات اور وبا کا علاج۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پیرا سٹا مول کی چند گولیا ں خریدنے کے لئے آپ کو دس بارہ کلومیٹر  کا سفر پیدل طےکرنا پڑے لیکن یقین پھر بھی نہ ہو کہ وہاں سے دوائی ملے گی بھی یا نہیں ۔ اور جب آپ تھکا دینے والا سفر کرکے مطلوبہ جگہ پہنچیں اورقسمت یاوری نہ کرے ۔ خالی ہاتھ لوٹنا پڑے تو بوجھل قدم کیسے آپ کا ساتھ دیں گے۔ مریض کو واپس جا کر کون سا دلاسہ دے پائیں گے۔
جی ہاں آج بھی اس کرّہ ارض کے بعض ایسے حصے ہیں جہاں لوگ دنیا کی تمام تر ترقیات سے ماوراء ایسی زندگی جینے پر مجبو رہیں ۔بیماری کی صورت میں ان کی واحد امید نسل در نسل چلتے آرہے دیسی علاج ہی ہوتے ہیں ۔ کام کر جائے تو ٹھیک ورنہ کام تمام تو ہونا ہی ہے۔

ملیریا ہو، ٹائیفائیڈ آئے، ایبولا ہو کہ کورونا ۔۔ ان کے لئے اپنے دیسی علاج اوّلین ترجیح ہیں ۔ اس غیر متوازن دنیا میں وہ اعتبار کریں بھی تو کس کا کریں ،کہ معلوم ہی نہیں پڑتا کہ صحت کے شعبے میں مدد کے نام پر آنے والی دوائیں واقعی مدد کے لئے ہیں یا ہیومن لیباٹری ٹیسٹ کے لئے بھیجی گئی ہیں ۔ جہاں تک کچھ دوا دارو پہنچ جاتا ہے صبر شکر کر کے لے لیتے ہیں ۔ اگر نہیں پہنچ پاتا تو اللہ کی رضا سمجھ کر دفنا دیتے ہیں ۔

حالیہ وبا نے جہاں بڑے بڑوں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں وہاں افریقہ کے،ہر حال میں الحمد اللہ کہنے والے ،باشندے مست ہیں۔ انہیں پتا ہے کہ جو دوا سال ڈیڑھ سال میں بننی ہے اسے ہمارے تک پہنچنے میں نامعلوم کتنے سال لگیں گے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اہل افریقہ کی بڑی تعداد موجودہ کورونا وائرس کا علاج بھی اپنے طریقے سے تلاش کرنے میں لگی ہے ۔ افریقہ کے دیسی حکیموں کا خیال ہے کہ جو علامات کرونا وائرس کی ہیں اس سے ملتی جلتی علامات کا علاج ہم روز مرہ زندگی میں دیسی دوائیوں سے کرتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس وائرس کا علاج ان دوائیوں سے نہ ہو سکے۔ مقامی طور پر ملیریا اور دیگر مقامی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء میں نیم کے پتے ، پپیتہ اور اس کے پتے ، Artimicia کا پودا اور Kongo bololoکے علاوہ اور بہت ساری جڑی بوٹیاں استعمال ہوتی ہیں۔ بہت حد تک غریب علاقوں میں صدیوں سے چلتے آرہے یہ روایتی علاج واحد امید کی کرن ہیں۔

جب سے کورونا ئرس کی وبا شروع ہوئی ہے دیسی اور روایتی حکیم اس کا علا ج بھی انہی دوائیوں میں  بتا کر عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں مگن ہیں ۔ اس وقت افریقہ کے بیشتر ممالک کے بازاروں میں نول کورونا وائرس کے قسم ہا قسم کے دیسی علاج موجو دہیں ۔ ہر کوئی اپنی دوکان سجائے بیٹھا ہے اور کورونا کا شرطیہ علاج کرنے کی نوید سناتا ہے۔

ڈگاسکر مشرقی افریقہ ک ے  جزیرے  پر مشتمل چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کے صدر مملکت نےمقامی ٹی وی پر ایک پروگروم میں کہا کہ ان کے ماہرین نے کورونا وائرس کے علاج کی دیسی دوائی بنا لی ہے۔انہوں نے نہ صرف اس دوا کی تشہیر کی ہے بلکہ سکول جانے والے سب بچوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اس ٹانک کے گھونٹ وقفے وقفے سے لیتے رہیں ۔ تاہم ان کے اعلان کے بعد عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دوا کورونا کے لئے مؤثر ہے ۔
اس دوا کے اجزا میں افریقہ میں پایا جانے والا پودا Artemisia اور بعض دیگر جڑی بوٹیاں استعمال کی گئی ہیں ۔Artemisia کے پودے سے ملیریا کی دوائی بنتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ کورونا کے علاج کے لئے کوئی شارٹ کٹ موجو دنہیں ہے ۔ عالمی سطح پر اس کی ویکسن بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بعد ازاں ایک ٹویٹ کے ذریعہ صدر نے کہا کہ بے شک ہمیں دوا کے استعمال کے لئے عالمی ادارہ صحت کی منظوری حاصل نہیں لیکن ہمیں خوشی ہے کہ دیگر ہمسایہ ممالک ہماری کوشش کو سراہتے ہوئے ہماری حوصلہ افزائی کررہے ہیں انہوں نےخاص طور پر عوامی جمہوریہ کونگو کے صدر کا شکریہ اد اکیا جنہوں نے ان کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔
ہو سکتا ہے ان کی دوا کام کر جائے اور ممکن ہے فائدہ مند ثابت نہ ہو ۔تاہم جس اعتماد کے ساتھ وہ اسے پیش کررہے ہیں ا س سے یہ ظاہر ہے کہ وہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اور اپنی سی کوشش ضرور کر رہے ہیں ۔

آج ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ اس بحران کے پار نکل کر جو کھڑے ہوں گے وہی مڑ کر دیکھ پائیں گے کہ کتنے جواں مرد ثابت قدم رہے باقی تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کی نذر ہو چکے ہوں گے۔ اس کورونا وائرس نے جو سب سے بڑی بات اب تک انسان کو سمجھا دی ہے وہ یہی ہے کہ حکمرانی ایسے نہیں کی جانی چاہئے جیسے کی جارہی تھی۔ دنیا ایسے نہیں چل سکتی جیسے چلائی جارہی تھی ۔ یہ وبا حکمرانوں اور حکمرانی دونوں کی اوقات ضرور دکھا کرجائے گی ۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں