کہنے کے لیے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکن یہ ظرف ہما…

کہنے کے لیے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکن
یہ ظرف ہمارا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
..
صدیق فتح پوری کی وفات
May 19, 2018

متعدد شعری مجموعوں کے خالق, مجلس احباب ملت کے سکریٹری, ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ کے ناظم, سہہ ماہی بہاریہ مشاعرہ کے میزبان صدیق فتح پوری …. طویل عرصے سے صاحب فراش تھے.. سنیچر کی رات یعنی 19 مئ 2018ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.
انا للہ و انا الیہ راجعون.

نام محمد صدیق اور تخلص صدیق ہے۔یکم نومبر۱۹۳۶ء کو فتح پور، ضلع گیا (موجودہ اورنگ آباد) صوبہ بہار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ اردو کی پہلی اور دوسری کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد جو کچھ پڑھا ہے وہ ذاتی ذوق ودل چسپی کا نتیجہ ہے۔ ان کے والد تجارت پیشہ تھے۔ وہ انھیں شہر لے آئے۔ ان کے بھائی عظیم کے یہاں اخبارات اور رسائل آیا کرتے تھے جنھیں یہ بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ اخبار اور رسائل بینی نے ان میں شعر کہنے کا ذوق پیدا کیا۔ غیاث احمد گدی(مرحوم) کے مشورے سے جناب احمد عظیم آبادی کو اپنا کلام دکھانے لگے۔ پاکستان کی محبت انھیں ڈھاکا لے آئی اور وہاں سے ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ یہاں یہ تجارت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’اظہار عقیدت‘(نعت)، ’لمحوں کی دھوپ‘(غزلیں)، ’سائے سائے دھوپ‘(غزلیں)، ’سجدہ گاہ دل‘(نعت)، ’صدا کیسی ہے‘(غزلیں)


جواب چھوڑیں