دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا نشتر خانقاہی د…

دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا
نشتر خانقاہی
دھجی دھجی جبہ و دستار ہوتے دیکھنا
میرؔ کو بے عاشقی بھی خوار ہوتے دیکھنا
کثرت دانشوراں کو قحط دانش جاننا
وسعتوں کو دشت کی دیوار ہوتے دیکھنا
رکنے والی ہے فشار دم سے نبض انحراف
خود کو اب سر تا بہ پا انکار ہوتے دیکھنا
پیر صد سالہ سے سننا قصۂ آسودگی
لمحہ لمحہ زیست کو دشوار ہوتے دیکھنا
دیکھنا لفظوں کو معنی سے مفر کرتے ہوئے
چپ کے عالم میں مرا اظہار ہوتے دیکھنا
تھیں جو کل تک شب گزاری کا وسیلہ ہجر میں
اب انہیں یادوں کو تم آزار ہوتے دیکھنا
قصر کہنہ ہم کہ کچھ محسوس تک کرتے نہیں
صرف اپنے آپ کو مسمار ہوتے دیکھنا


جواب چھوڑیں