وہ جو آشفتہ سر نہیں لگتا عشق میں معتبر نہیں لگتا …

وہ جو آشفتہ سر نہیں لگتا
عشق میں معتبر نہیں لگتا

اک مسیحا جو لگ رہا تھا مجھے
آج کیوں چارہ گر نہیں لگتا

اب سر_عرش آہ نہیں جاتی
اب جنوں میں اثر نہیں لگتا

خواہشیں جگنووں سی لگتی ہیں
خواب تتلی کا پر نہیں لگتا ؟

ہو تجارت اگر محبت کی
پھر خسارے سے ڈر نہیں لگتا

کیا یہ فرقت میں آپ کو میرا
سانس لینا ہنر نہیں لگتا

بھید اب اس کے مجھ پہ کھلنے لگے
عشق اب درد_سر نہیں لگتا

جو بھی تیرا عدو مخالف ہو
لاکھ ہو معتبر , نہیں لگتا

دل پہ دستک کسی کی ہوتی ہے
در یہ کھلتا مگر نہیں لگتا

وہ مرے واسطے زمانے کو
آئے گا چھوڑ کر, نہیں لگتا

داغ اس دل کا جل رہا ہو گا
طاقچے میں قمر نہیں لگتا

چل پڑی ہوں یہ کون راہوں پر
گھر کی جانب سفر نہیں لگتا

زندگی کی غلام گردش میں
اب تو وحشت سے ڈر نہیں لگتا

وہ جو شاخیں جھکا نہیں کرتیں
ان پہ جینا ثمر نہیں لگتا

جینا قریشی


جواب چھوڑیں