کافی کے ڈبے کا ڈھکن اٹھانے پر کرنل کو پتہ چلا کہ ڈ…

کافی کے ڈبے کا ڈھکن اٹھانے پر کرنل کو پتہ چلا کہ ڈبے میں صرف چمچ بھر کافی باقی ہے۔۔۔ اس نے کیتلی کو چولھے سے اتارا اور اس میں سے آدھا پانی مٹی کی فرش پر گرا دیا۔۔۔ پھر وہ چاقو لیکر ڈبے کی دیواروں پر لگی ہوئی کافی کھرچنے لگا ، کافی کے ساتھ زنگ بھی اتر اتر کر کیتلی میں گرنے لگا۔۔۔

جب کرنل ، کافی ابلنے کے انتظار میں ، پتھر کے آتشدان کی سامنے مطمیئن مگر معصوم توقع کی ساتھ بیٹھا تھا ، اسے اپنی انتڑیوں میں کھمبوں اور سوسن کے زہریلے پھولوں کے اگنے کا احساس ہوا۔۔۔

اکتوبر کا مہینہ آن پہنچا ، یہ ایک دشوار صبح تھی ، اس جیسے شخص کے لیے بھی جو ایسی بے شمار صحبتیں گزار چکا تھا۔۔

تقریباً ساٹھ برس سے ، یعنی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے ، کرنل نے سوائے انتظار کے کچھ نہ کیا تھا۔۔۔ اکتوبر کا مہینہ اس کے آس پاس آنے والی گنی چنی چیزوں میں سے ایک تھا۔۔۔

کرنل کی بیوی نے اسے کافی کا پیالہ اٹھائے خواب گاہ میں داخل ہوتے دیکھا تو مچھر دانی کا کونا اٹھا دیا۔۔۔

پچھلی رات اسے دمے کا دورہ پڑا تھا اور ابھی تک غنودگی کی حالت میں تھی۔۔۔ لیکن کافی کا پیالہ لینے کے لیے اٹھ بیٹھی۔۔۔

" اور تمہاری کافی کہاں ہے ؟؟ " اس نے پوچھا۔۔

" میں پی چکا ہوں " کرنل نے جھوٹ بولا۔۔ اس کے بعد بھی چمچ بھر کافی بچ رہی تھی۔۔!!

" برے حالات کی بدترین بات یہ ہے کہ انسان جھوٹ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔!!! "
•••••••
ناول : کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا
مصنف : گابرئیل گارسیا مارکیز
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2770558093174706

جواب چھوڑیں