حادثہ – فاریہ حمید چودھری روز ہی گھر میرے کندھو…

حادثہ – فاریہ حمید چودھری

روز ہی گھر میرے کندھوں پر آن گرتا ہے
چھت بھی شہتیروں سمیت
پھر دیواریں جوڑتی ہوں
اینٹ اینٹ سمیٹتی ہوں رات بھر
در بناتی ہوں دریچے
پو پھٹنے تک پھر گھر بن جاتا ہے
میرا گھر_____
میری زمیں __
میرا دل ___
میرا وجود_____
میں بساط جاں پر ہارنا نہیں چاہتی
اسی لئے اگلے روز کے
سورج سے آنکھ ملانے کے لئے پھر سے میں چاند میں دھبہ بن جاتی ہوں


جواب چھوڑیں