دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے ل…

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں

مکمل غزل
دل کو لے جاتی ہیں معشوقوں کی خوش اسلوبیاں
ورنہ ہیں معلوم ہم کو سب انھوں کی خوبیاں

صورتوں میں خوب ہوں گی شیخ گو حورِ بہشت
پر کہاں یہ شوخیاں یہ طَور یہ محبوبیاں

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں

آپ تو تھیں ہی پر اس کا بھی کیا خانہ خراب
درد اپنے ساتھ آنکھیں دل کو بھی لے ڈو بیاں

(خواجہ میر دردؔ)

جواب چھوڑیں