"نظریہ ارتقاء اور مابعد کووڈ19 کا عالمی سماج&…

"نظریہ ارتقاء اور مابعد کووڈ19 کا عالمی سماج"

ارتقاء کی اجمالی تعریف:
بسیط کائنات سے لے کر انسانی باڈی سیل تک!حیات کی ہر قسم سے لے کر غیر جاندار اجسام تک میں ارتقا کا عمل جاری و ساری ہے۔
اگر اس اصول پر یعنی جدل کے اصول پر اتفاق کر لیا جائے تو پھر ماننا پڑے گا یہی اصول مختلف سیاسی معاشی و ثقافتی نظریات پر بھی لاگو ہوتا ھے۔ ۔ ۔ یعنی ارتقائی عمل ہمہ وقت انسانی عالمی سماج کے مادی و غیر مادی پہلووں میں جاری و ساری ہے اور اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں البتہ اس کو تصور کرنا اور تصور کی تعبیر حاصل کرنا انسانوں کے بس میں ہوتا ہے۔ تصورات کے محرکات کیا ہو سکتے ہیں اور ان تصورات کو مادی شکل میں لے آنا کن کے بس میں ہوتا ہے, اس پر ہم آگے بقدر_ ضرورت بحث کرتے جائیں گے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ اصول مذہبی نظریات پر لاگو نہیں ہوتا تو اسے ابھی مکتب میں جانے کی ضرورت ہے۔

سیاسی ارتقاء:
ہم اس مقصد کے لیے ہزاروں برس کی تاریخ کو نہیں کنگھالیں گے
محض ایک صدی کے نقشے کو سامنے پھیلا کر بات کرتے ہیں۔ کرہ ارض وہیں ہے۔ زمین پر ریاستوں کی ٹوٹ پھوٹ کتنی بار ہوئی؟ کتنے نقشے بنے بگڑے؟ کتنے سیاسی نظریات ابھرے ڈوبے؟ مختلف اقوام نے کیسے کیسے نظام حکومت آزمائے?
کتنے شاہی خاندان بنے اور گمنامی میں چلے گئے? 1917 سے قبل زار روس کی نسل ہی ختم ہو جانے کا کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا لیکن مزدوروں کسانوں کے انقلاب نے اس بادشاہت کی نسل ہی ختم کر دی۔ اسی طرح انسانی تاریخ کی سب سے مہنگی دعوت کھلانے والا شاہ ایران غیرالوطنی میں مرا۔ چین میں بھی ماوزے تنگ کے انقلاب نے روس کے انقلاب کی تاریخ دہرا دی۔ نو ابادیات استعماریت کے پنجے سے ایک ایک کر کے آزاد ہوتی چلی گئیں۔
یورپ کے چھبیس ممالک نے دو عظیم جنگوں کی بھیانک تباہی کے بعد شیر و شکر ہونے کا سوچا۔ لاطینی امریکہ میں یورپین لوگوں کے پانچ صدیوں کے تسلط نے قدیم انسانی نسلوں کو یا ختم کر دیا یا اختلاط سے کئی نئی نسلوں کو جنم دیا۔ نفسیاتی طور پر پسی ہوئی نسلوں میں آزادی اور انتقام نے زور پکڑا تو سرد جنگ کے شہ زوروں نے ان ریاستوں پر نظریاتی تسلط قائم کرنے کے لیے ایک بار پھر وہاں خاک و خون کے نہ تھمنے والے طوفان برپا کر دئیے۔ جو وینزویلا اور کیوبا کی شکل میں آج تک زندہ ثبوت ہیں۔ البتہ 1990 کے بعد سویٹ سوشلسٹ روس کا انہدام سرد جنگ کے خاتمے کا سبب بنا اور امریکی جمہوریت کا بول بالا ہو گیا۔ چین اور کیوبا و دیگر سوشلسٹ ریاستوں کو بھی اپنے اپنے نظریاتی پروگراموں میں تبدیلیاں لانا ناگزیر ہو گیا۔ دوستو! ہم اسے سیاسی ارتقاء ہی مانیں گے۔

مواصلاتی ارتقاء:
ڈاک کے ٹکٹ کی ایجاد ۔ ۔ ۔ پھر تار برقی, ٹیلی فون, ریڈیو, اخبار کی مقبولیت, پھر فیکس, بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وزن سے لے کر جہازی قامت کی ایل سی ڈی اور سیٹلائٹ ٹیلی ویزن۔ اب جی ایس ایم موبایل فون سے 5G تک کے سفر میں ہم نے یاہو دیکھا, ٹیکسٹ میسجنگ کی سہولت پر پھولے نہ سماتے تھے کہ فیس بک, واٹس ایپ , میسنجر, یو ٹیوب ٹک ٹاک اور ہینگ آوٹ و کئی خفیہ چینلوں پر لائو سیکس کے لطف اٹھانا, انٹرنیٹ کی بدولت دور دراز بیٹھے ڈاکٹروں سے طبی مشورے لینا حتاکہ روبوٹک آپریشن کروا لینا ۔ ۔ ۔ سو برسوں کے اندر اندر مواصلاتی شعبے میں ارتقاء کی وہ جناتی جستیں ہیں جن کا تصور انیس سو بیس میں کوئی عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ٹیکنالوجی کا ارتقاء:
ہم اس اصطلاح کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے تیزی سے آگے بڑہیں گے۔
شعبہ صحت و صفائی و دوا سازی میں انسانی سماج گول چکری ٹیکے سے ترقی کرتے ہوئے باریک سوئی و کئی طرح کی خطرناک بیماریوں کے حفاظتی ٹیکوں تک آ پہنچے ہیں۔ انسانی زندگی اوسطا بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح آرکٹیکچر لے لیجیے۔۔۔ کچن گیجٹس سے لے کر دفتری سٹیشنری تک کی شکلیں جدید تر و باسہولت ہو گئی ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں آلات و مشینری کی ہیت ہوش ربا و جادوئی حثیت اختیار کر چکی ہے۔ پوری قدیم اقوام مل کر بھی آج کی سرنگ کھودنے کی مشین کا بدل پیش نہیں کر سکتیں۔ اور ان شعبوں میں جدید سے جدید تر کی ان تھک دوڑ جاری ہے۔ ہم اسے ٹیکنالوجی کا جاری ارتقاء مانیں یہ نہ مانیں?

انسانی رویوں کا ارتقاء:
ہم اپنے مذہبی تصورات میں لاکھ کوشش کر کے قدامت پسندی پر جمے رہیں لیکن اگر ہمیں آج کی ہر سہولت اور آسائش کو چھوڑ کر محض پانچ سو سال ماضی کے ماحول میں زندگی گزارنے کا اذن مل جائے تو کچھ سوچ کر ہی مر جائیں گے باقی بغاوت کر دیں گے۔۔۔اور کہیں گے ہماری سہولیات ہماری محنت کی کمائی کا پھل ہیں۔ ۔ ۔ تم کون ہوتے ہو ہم سے سب کچھ چھیننے والے؟
یعنی آپ غیر محسوس طور پر سو سال کے اندر اندر اپنے معروض اور رہن سہن کے متعلق رویوں میں غیر محسوس طریقے سے منازل طے کرتے کرتے جہاں پہنچ چکے ہیں اس سے اگلی منزل پر تو جا سکتے ہیں واپسی ناممکن ہے۔ جو یہ کہیں کہ ہم بھلے جدید ہو چکے ہیں لیکن اپنے مذہبی نظریات میں آج بھی قدیم ہیں تو میں انھیں دوبارہ سے نہایت ٹھنڈے دل سے فکر کی دعوت دیتا ہوں۔ ۔ ۔ بس اس بابت یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ ہر مذہب و دین کے ماننے والے اپنے اپنے مذہب و دین میں فرقوں کی پیدائش کا تاریخی جدول ترتیب دے لیں ۔ ۔ ۔ ان ہر حقیقت عیاں ہو جائے گی۔ بلکہ قارئین کو یاد رکھنا چاہیے کہ جینیٹک انجنیرنگ میں انسانی جینوم کی مدد سے محیرالعقول سمجھ بوجھ کو ہی عروج ہر نہیں لے جایا گیا بلکہ نیوروسائنسز و ارٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے انسانی دماغ میں مختلف الیٹرومیگنیٹک ویوز کی شناخت بھی قائم کر لی گئی ہے۔ اب بعید نہیں کہ آنے والی نسلوں کے مرد و زن کو خاص کام تفویض کرکے تا عمر وہی کام لیا جائے اور ان الیکٹرمیگنیٹک ویوز کو دبا کر رکھنے پر قدرت حاصل کر لی جائے جو تخلیقیت کے جوہر کو متحرک کرتی ہیں۔ اور اگر سوشل میڈیا کے خبط_ عشق کا بغور مطالعہ کیا جائے تو شاید ہم میں زیادہ کمفرٹ زون میں رہنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جب کہ انقلابات اور بزور تبدیلی اور ارتقاء کو آگے بڑھانے والی سوچ سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ شاید اسی لیے پچھلے پندرہ بیس برسوں میں لبیا, عراق, فلسطین, کشمیر یا یمن کے حالات پر اب ملین مارچ دیکھنے کو نہیں مل رہے۔ عالمی اجتماعی ضمیر کو لگام دینے کی ترکیب ایجاد ہو جانا سرمایہ داروں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔
مجھے امید ہے میں یہاں تک دوستوں کو فکر و رویوں میں جدلی ارتقاء سمجھانے میں کامیاب ہو گیا ہوں گا???

سرمایہ دارانہ نظام کی ارتقاء:
پچھلی صدی کے شروع تک دنیا کے بڑے حصے پر سرمایہ داری نظام اپنی جڑیں گہری کر چکا تھا۔۔۔ جس کی سائنسی تعریف ایڈم سمتھ و ریکارڈو اپنی کتب میں کر چکے تھے۔ ان کے نظریات کے مطابق فری انٹرپرائز کسی بھی ریاست کے لیے وسیع مالی محاصلات کا ذریعہ بنتی ہے اور مجموعی ترقی کی رفتار کو تیز کرتی ہے۔ کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع کے لیے نت نئی ایجادات میں سرمایہ کاری شوق سے کرتے ہیں۔
اب ہوا یہ کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار مارکسزم غیر الوہی بنیادوں پر "کمزوروں کو طاقت اور اختیار دینے والا" قابل عمل نظریہ بن کر سامنے آیا تو جگہ جگہ بادشاہتوں اور سرمایہ داری نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کی تاریخ رقم ہونے لگی۔ مارکسزم کے اصولوں کا اتباع کرتے ہوئے لینن نے انقلاب روس برپا کر دیا اور زار روس کے خاندان کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ سرمایہ داری نظام معیشت پر چلنے والی حکومتیں دہل گئیں۔ ۔ ۔ بادشاہتیں ہل کررہ گئیں۔ تب فیصلہ کیا گیا کہ مارکسزم کے مقابلہ کے لیے اور سرمایہ داری طرز معیشت کی بقا کے لیے عوامی جمہوریت کو ہر جگہ فروغ دیا جائے چاہے کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ ۔ ۔ چاہے کتنی ہی انسانیت سوز سازشیں رچانی پڑیں۔ ۔ ۔ چاہے کتنا زر خرچ ہو جائے ۔ ۔ ۔ چاہے خود جمہوری اصولوں کو پامال کرکے کتنے فوجی ڈکٹیٹروں کو نوازنا پڑے۔ ۔ ۔ یعنی کچھ بھی ہو جائے اب دوبارہ کوئی شاہی خاندان اس بے رحمی سے مزدوروں کے ہاتھوں قتل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایک سرد جنگ کی اصطلاح سامنے آئی۔ یہ سرد جنگ اتنی سیدھی سادی نہ تھی بلکہ نہایت پیچیدہ تھی۔ اس سب کے بیچ صہونیت کو موقع ملا تو ایک نئی قوت اندرون خانے پلنے لگ گئی ۔ وہ سمجھ چکے تھے کہ پرس کی طاقت اصل ہے باقی سب باطل ہے۔ اسی اثنا میں دو عظیم جنگیں لڑی گئیں۔ کہا جاتا ھے ان جنگوں کو لندن و نیویارک میں بیٹھے بینکارون کی کیبلز چلاتی رہیں۔ ساری دنیا مرتی رہی اور بینکوں کے پرس بھرتے رہے۔ وہ دونوں طرف قرض دیتے تھے۔ سابقہ وایس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کی بینکاروں کی کارستانیوں و تاریخ و کردار پر کتاب خاصے کی چیز ہے۔ کہا جاتا ھے پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں سلطنت برطانیہ مقروض ہو گئی۔ پہلی جنگ عظیم کے باوجود بنی اسرائیل کی ریاست قائم نہ ہو سکی تو دوسری عظیم جنگ کا سٹیج سیٹ کیا گیا۔ ۔ ۔ یاد رہے اتنے بڑے حقیقی سٹیج پر ساٹھ لاکھ مظلوم یہودیوں کی قربانی دی گئی۔ بعد ازاں جن کی یادگاریں بزور تعمیر کروائیں گی اور اج تک اس کے نوحے پڑھ کر جذباتی فواید حاصل کئے جاتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یورپ کو آپس میں لڑانے کے لیے قدیم قومی و نسلی تعصبات کو ہوا دی گئی۔ دوسری جنگ کی تباہ کاری نے عالمی انسانی ضمیرکو جھنجھوڑا اور ایٹم کی قوت نے دہلا کر رکھ دیا۔ تب کمزور لیگ آف نیشنز کو گرا کر ایک طاقت ور ادارے یعنی یو این او کا ادارے کی بنیاد رکھی گئ ۔ ۔ ۔ جو کہ آج اجتماعی انسانی دانش کے ارتقا کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دنیا بائی پولر تھی۔ چین کیوبا بہت سارے لاطینی ممالک شمالی کوریا یمن اور کچھ افریقی ممالک کیمونسٹ بلاک میں چلے گئے۔
سرد جنگ عروج پر تھی کہ 1990 میں USSR کا انہدام وقوع پذیر ہو گیا۔ امریکہ کی سربراہی میں سرمایہ دار بلاک نے اسے بظاہر عوامی جمہوریت کی فتح قرار دیا لیکن یہ فتح در حقیقت سرمایہ داری نظام کی فتح تھی۔ بینکاروں, وال سٹریٹ میں بیٹھے کارپوریشن مالکان کو اطمینان کا سانس نصیب ہوا۔ ہر دانش ور کو نیو ورلڈ آرڈر اور فری مارکیٹ اکانومی کی فیوض و برکات گنوانے پر لگا دیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں نصاب تبدیل کئے گئے۔ صرف ایسے کورسز ڈیزائن کئے گئے جن میں دولت کمانے کے گر سکھائے جاتے۔ عوامی فلاح کی ترجیحات آہستہ آہستہ پس پشت جانے لگ گئیں جب کہ ٹیکس چوری اور بڑے بڑے سودوں پر کمشن کو قانونی بنانے اور ٹیکس بچانے کے طریقے سوچے جانے لگ گئے۔ دولت کا ارتکاز عوامی اداروں کے پرائویٹ کئے جانے کی وجہ سے کارپوریٹ ورلڈ یعنی وال سٹریٹ کی تجوریوں میں شروع ہو گیا۔ میکس ویبر کی iron cage تھیوری کے تحت rationalization کے نام پر عوام کی ترجیحات کو ناپنے اور ان کی کمائی دولت کو غیر ضروری اشیاء کی فروخت کے ذریعے ہتھیانے پر پی ایچ ڈی کی کلاسز شروع کی گئیں۔لہذا ملٹی سٹوری شاپنگ مالز کو کسی بھی ملک کی ترقی کی علامتیں بنا دیا گیا۔ معیاری یا غیر معیاری ادویات یا مشروبات یا فروزن فوڈ کو منافع کی غرض سے mass productions میں لایا گیا۔ حکومتی ادارے جو عوام کے خادم سمجھے جاتے تھے وہ کارپوریشنز کی دولت کے آگے جھکتے چلے گئے۔ تب بھی کارپوریٹ دنیا ۔۔۔ جو کہ اب تک کارپوریٹ مافیاز کا روپ دھار چکی ہے۔۔۔ کی ہوس دولت و اختیار کی بھوک تھی کہ مٹتی نہ تھی۔ لہذا ریاستوں کے سیاسی قائدین کو کاروبار میں شراکت داری یا کچھ اور شکلوں میں نوازنے کے طریقے ایجاد کر کے ریاستوں پر بلواسطہ کارپوریٹ قبضے کیے جانے لگ گئے۔ اس وقت اس کی سب سے بڑی مثال امریکی صدر ،ہندوستانی وزیراعظم اور اسرایلی وزیر اعظم ہیں۔ پاکستان یا اس جیسی ریاستوں میں ان گنت مذہبی لسانی سیاسی و جہادی گروہ تیار کرکے سیاسی ابتری میں اپنا الو سیدھا رکھا جاتا ھے۔ اس سارےعمل میں ریاستی فوجوں اور خفیہ ایجینسیوں کے کردار پر الگ سے تفصیلی گفتگو کی جا سکتی ہے۔

جدید مواصلاتی نظام و سرمایہ دارانہ ارتقاء:
iron cage theory
میں دئیے گئے آئیڈیا آف ریشنیلٹی کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ریشنل ایڈورٹیزمنٹ کے تحت صارف کو مست رکھنا کیپٹلزم کا سب سے بڑا نفسیاتی ہتھیار بن چکا ہے۔ اس کے لیے اشتہار بازی کا شعبہ یوں تو مدت سے معرض وجود میں آ چکا تھا لیکن یہ اپنی معراج کو پہنچ گیا جب انٹرنیٹ نے کرہ ارض پر بھانت بھانت کے سماجوں کو حقیقی معنوں میں ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا۔ ہوشیار سرمایہ دار کو دیر نہیں لگی کہ عوام کو باندھ کر رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا بذات خود ایک بھیانک ترین ہتھیار ثابت ہو رہا تھا۔ انٹرنیٹ کا نشہ تاریخ میں معلوم تمام نشوں کو مات دے گیا ۔ اس نشے میں کوئی ایسی مدہوشی ہے کہ کنجڑے نائی سے لے کر عالم دین تک۔۔۔ پورن فلمیں دیکھنے والے سے لے کر مذہبی کتب کے شوقین تک۔۔۔ ایک محقق سے لے کر ایک تھڑے باز تک ہر شخص کے لیے کچھ نہ کچھ وافر مقدار میں موجود ہے۔ آپ فیس بک پر ذہنی کتھارسس کیجیے یا یو ٹیوب پر اپنی ذاتی فلم لگائیے ۔ آپ ٹؤیٹر پر مذاق کیجیے یا انسٹاگرام پر فوٹو اپ لوڈ کر کے پاگل ہو جائیے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ حتی کہ سربراہان مملکت ٹویٹر پر ٹویٹس کر کے اپنی قدرو قیمت کھو بیٹھتے ہیں لیکن نشہ ہے۔ ۔ ۔ نہیں چھوڑ سکتے۔
تو صاحبان عقل! آپ ارتقا کرتے کرتے فیس بک یو ٹیوب انسٹاگرام, ٹک ٹاک, میسنجر, واٹس ایپ, یا ہینگ آوٹ یا اور ان گنت ایپس کے اسیر نہیں بلکہ آپ چند کارپوریٹ جنوں کی بوتلوں میں قید ہو چکے ہیں۔ پچھلے بیس برسوں سے آپ سوشل میڈیا پر انسان قتل ہوتے, سر قلم ہوتے, بمبوں سے انسانی جسموں کے پرخچے اڑتے, پیلٹ گنوں سے بچے جوان و عورتوں کو اندھا ہوتے۔۔۔ فوجیوں کے ہاتھوں و مخالف متحارب گروہوں کے ہاتھوں مفتوح عورتوں کی عصمت دری پر اتنا کچھ دیکھ چکے ہیں کہ اب آپ کو براوسنگ کرتے کرتے چند منٹوں بعد یاد ہی کچھ نہیں رہتا۔ UN اور اس کے ذیلی ادارے ان کارپویٹ جنگی چالوں میں اب رکھیل کے کردار تک آ پہنچے ہیں۔ مدبر و دانا سیاستدان عنقا ہیں۔ آ جا کے چین کے پاس ایک لولا لنگڑا مارکسزم ھے لیکن چینی عوام بزنس پسند ہیں انھوں نے ملک میں عوام پر سخت قابو رکھا ہوا ہے اور باہر کی دنیا کے ساتھ کاروبار ہی پسند کرتے ہیں۔ اگر انھیں کسی بھی جنگ کا خطرہ نہ ہو تو وہ آخری جنگی جہاز کے لوہے سے مشینیں بنا کر دنیا کو بیچ ڈالیں۔

کورونا اور تجدید معاشرتی ارتقاء کے لیے مجوزہ عالمی لائحہ عمل:
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ نے اپنے مضمون "کورونا اور اقوام متحدہ کا کردار"(جس وجہ سے مجھے یہ مضمون لکھنے کی تحریک ملی) میں اس قیامت صغری(کورونا) کے دنوں میں UNO کی خاموشی کو پراسرار کہا ہے۔ سچ کہا ہے۔۔۔ دنیا کے انسانوں کا مستقبل اب قائدین نہیں کارپوریشنز کے سی ای اوز یعنی تیرہ چودہ خاندانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ایلون مسک، بل گیٹس ، راکفیلرز فاونڈیشن جیف بیزوس اور صیہونی کیبل فیصلہ کریں گے۔ امریکی صدر کا نہایت غیر دانش مندانہ رویہ ۔۔۔ اس کا WHO کے فنڈز بند کرنا۔۔۔ چین کے خلاف جنگی ناکہ بندی کرنا۔۔۔ واضح اشارے ہیں کہ UNO اب شاید عالمی عوام میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ خود UNO کا ایجینڈا 21 اور ایجینڈا 30 کیا ہیں؟ کن سے پوچھ کر بنائے گئے؟ مجھ سے تو کسی نے نہیں پوچھا تھا اور شاید اپ دوستوں سے بھی مشاورت نہیں کی گئی ہو گی ۔ وہ کارپوریشنیں جو دنیا کے نمبر ون ہتھیار بناتی ہیں۔۔۔جو سٹاک ایکسچینج کو کنٹرول کرتی ہیں ۔۔۔ جو تیل کی قیمتیں متعین کرتی ہیں ۔۔۔ جو لبیا یا عراق اور یمن میں قتل عام کروانے کے پیسے دیتی ہیں۔ وہ کارپوریشنیں جنہوں نے کانگو جیسے اور دیگر کئی افریقی ممالک می انسانیت سوز مظالم کی مثالیں قائم کیں صرف وسائل کی لوٹ مار کے لیے۔۔۔ وہ کارپوریشنیں جن کی تجوریاں بھرتی ہی نہیں۔ وہ 5g لائیں گی کیونکہ اس نشئی عوام کو تیز سپیڈ چاہیے ۔۔۔ تیسری دنیا کو معاشی شکنجے میں جکڑے رکھنے کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف ہی کم نہ تھے کہ 1992 کے بعد WTO کے تحت تیزی سے TPP, TTIP, NAFTA,AFTA, COMESA, MERCOSUR پھر یورپی یونین کی اقتصادی کونسل, اس پر بھی صبر نہیں آیا تو G7 G8 جیسے کلب بنائے گئے۔ ۔ ۔ جہاں روئے زمین پر طاقتور ترین کارپوریشنوں کے گماشتہ سربراہان اربوں انسانوں کی تقدیروں کے فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب کرونا عالمی وبا کی آڑ می WTO کے اصول بدلے جائیں گے۔ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کو مزید قوت بخشنے کے بعد وہ ڈکٹیٹ کروائیں گے کہ گماشتہ ریاستوں کو نئی دھڑا بندیاں کیسے کرنی ہیں ۔ ہتھیاروں کو دوڑ کو روکنے کے لیے سرد جنگ کے دنوں کے معاہدے ایک ایک کر ختم کروائے جارہے ہیں۔ ریجنل اقتصادی تعاون کی تنظیموں کو غیر فعال کیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ کیونکہ انھوں نے یورپین یونین کی صورت میں نسلی و قومی تفاخرات کو ایک حقییقی انسانی روپ میں ڈھلتے دیکھ لیا ہے۔۔۔ ریجنل اتحاد کارپورشنوں کی موت ہیں۔ اس لیے امریکہ جیسے۔ ۔ ۔ آزاد انسانوں کی جنت جیسے ملک میں فاونڈنگ فادرز کے جمہوری اصولوں کی خلاف جا کر نسلی بنیاد پر نفرت کے برملا اعلانات کئیے جا رہے ہیں۔ ہمسایہ ملک میکسیکو کے بارڈر پر خاردار تار بین الانسان نفرت کی علامت بنا دی گئی ہے۔ کینڈا کو تجارت میں برابری نہ کرنے پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ برطانیہ کو اندرون خانے بازو مروڑ کر یورپی یونین سے الگ کرنے کی کوشش کامیاب ہو چکی ہے۔ بین الاقوام انسانیت کا اتحاد تو درحقیقت مارکسزم کی ہی بارڈر لیس حکومت کا خواب تھا۔
لہذا وہ قومی،نسلی، لسانی مذہبی بنیادوں پر تصادم کو ہوا دیں گے۔ اپنے اپنے گھروں کی کمفرٹ زون میں پڑی نشئی عوام کے پاس خواب غفلت سے جاگنے کا آخری تو نہیں البتہ سنہری موقع ہے کہ وہ یو این کو متحرک و فعال بنائیں۔ وہ درست ریاستی قائدین کا چناو کریں اور ظالم کارپوریٹ سیکٹر کے پر کاٹیں۔ ورنہ ارتقا کی نئی شکل, نئی منزل, اور ارتقاء کی ایک بھرپور جست کا تعین وہ چند دولت مند کریں گے جن میں ہوس_ زر ایک ناقابل علاج مرض کا روپ دھار چکی ہے۔ ۔ ۔ ہم عام عوام عظیم دانش ور و مصنف جارج آرویل کے ناول 1984 کے مطابق "باس کہیں بیٹھا ہم سب کو دیکھ رہا ہو گا ۔ ۔ ۔ بلکہ ہمیں ننگا دیکھ رہا ہو گا۔"سماجی ارتقاء کی اگلی کڑیوں کو مرضی سے ترتیب دے رہا ہو گا۔
وما علینا اللبلاغ المبین!
جی۔ حسین
شیخوپورہ۔پاکستان

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2771141573116358

جواب چھوڑیں