“اوشو ” …منافق نہیں تھا. صحافی نےسوال کیا” گُرو…

“اوشو ” …منافق نہیں تھا.

صحافی نےسوال کیا” گُرو جی! آپ کے متعلق یہ تأثر عام ہےکہ آپ کے حلقۃ ارادت میں امیر لوگ ہیں یعنی آپ صرف امیروں کے گُرو سمجھے جاتے ہیں؟
تھوڑا توقف کیا اور پھر اوشو نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ ہاں یہ سچ ہے!یہ اس لئے ہے کہ غریب آدمی کے اپنے کُچھ مسائل ہیں جن کا حل میرے پاس نہیں! ایک غریب عورت میرے پاس آتی ہے کہ میرے بچے کو شفأ دے دو ، میں اس کے بچے کو شفأ نہیں دے سکتا، غریب آدمی آتا ہے کہ میرے بیٹے کو نوکری دے دو، میں اسے نوکری نہیں دے سکتا ۔میں غریب آدمی کے مسائل کو حل نہیں کرسکتا۔
میں تو لوگوں کو روحانیت کی طرف بلاتا ہوں اور روحانیت کی طرف وہی آسکتا ہے جو معاشی فکر سے آزاد ہو لہذا غریبو ں کا میرےآشرم سے کیا کام؟
تحریر :ماجد اقبال چودھری(“ایک گمراہ صوفی The Luminous Rebel “سے ماخوذ)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2770768133153702

جواب چھوڑیں