"رنگ آنکھوں کا لمس ہے، بہروں کے لیے موسیقی۔۔ …

"رنگ آنکھوں کا لمس ہے، بہروں کے لیے موسیقی۔۔ تاریکی سے اُبھرتا کوئی لفظ۔۔۔ کیونکہ میں نے روح کی سرگوشیاں سنی ہیں۔۔ ہوا کی سر سراہٹ کی طرح۔۔"

"زخموں پر مرہم لگانے کے لیے ہم محبت کرتے ہیں۔۔۔"

"جب میں نے ایک قدیم کتاب کے اوراق پلٹے، جس میں تشدد کے طریقوں کی تصویر کشی کی گئی تھی، تو میں نے مار پیٹ کی وہ تکلیف محسوس کی، جو ہم سب کو اپنی طویل شاگردی کے زمانےمیں ملی تھی۔ ادنیٰ مرتبت منی ایچر فنکار، خود کو رسوا کرنے کے لیے، سونے کے چند سکوں کے عوض، یہ تصویریں تیار کرتے تھے۔۔ میں اُس بد اخلاق خوشی پر، شرمسار تھا، جس کے ساتھ اُس منی ایچر فنکار نے درـے لگانے، مار پیٹ، بے رحمانہ اذیت، پیروں یا گردن سے لٹکانے، گلا کاٹنے، بھوکے کتوں کو کھلانے، کوڑے لگانے، ٹاٹ چڑھانے، لٹکانے، لوہے میں پرونے، توپ کے آگے باندھ کر اڑانے، کیل ٹھونکنے، گلا گھوٹنے، سرد پانی میں ڈبونے، بال اور انگلیاں نوچنے، کھال ادھیڑنے، ناک کے نتھنے کاٹنے اور آنکھیں نکالنے کی تصویریں بنائیں تھیں۔۔۔ تاکہ ہمارے اندر کا شیطان ختم ہو جائے۔۔"

"حقیقت میں ہم روحانی مسرت کی تصویروں میں مسکراہٹیں تلاش نہیں کرتے، بلکہ اِس کی بجائے خود زندگی میں خوشی کو تلاش کرتے ہیں۔ مصور یہ بات جانتے ہیں اور بالکل یہی وہ چیز ہے جس کی وہ تصویر کشی نہیں کر سکتے۔۔"

"میں آسمان کا وہ پرندہ بننا چاہوں گی، جس کی پرواز کرتے عکاسی کی گئی ہو، اور وہ اُس دوران خوشی سے ابدی طور پر وہیں معلق ہوگیا ہو، ہرات کے پرانے استادوں کے انداز میں، جو وقت کو روکنے پر قادر تھے۔ اگرچہ میں جانتی ہوں یہ سب آسان نہیں۔۔۔"

سولہویں صدی کے استنبول میں، فنِ مصوری اور مذہبی شدت پسندی کے تناظر میں لکھا گیا، ترکی کے نامور ادیب 'اورحان پاموک' کا، شاندار نوبل انعام یافتہ ناول "سرخ میرا نام"، سے چند اقتباسات۔
مترجم: ہما انور

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2771038979793284

جواب چھوڑیں