اینٹ اور اطمینان۔۔محسن علی خان


خلیفہ دوئم امیرالمومنین حضرت عمر فاروق (رض) کا ایک مشہور واقعہ تو ہم سب نے سُن رکھا ہو گا۔ جب روم کا سفیر مدینہ منورہ آتا ہے۔ اور خلیفہ کے محل کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو بتایا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کوئی محل نہیں ہے، وہ تو ایک جھونپڑے میں رہتاہے۔ سفیر اپنی حیرانی چھپاتے ہوۓ ان سے ملاقات کی بابت دریافت کرتا ہے۔ تو اس کو مسجد نبوی کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ بازار میں معمولات تجارت دیکھنے گئے ہیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں ایک درہ ہو گا اور انہوں نے پیوند لگے موٹے کپڑے پہنے ہوں گے۔ جب سفیر مقامی اصحاب کے ساتھ بازار کی طرف چلتے جا رہے تھے، تو راستے میں ایک شخص درخت کے ساۓ تلے اینٹ پر سر رکھ کر اطمینان سے گہری نیند سو رہا تھا۔ اصحاب وہاں رک کر گھوڑوں سے اترتے اور سفیر کو بتاتے کہ  یہ ہیں خلیفہ جن سے ملاقات کے آپ متمنی ہوں۔ سفیر کبھی اصحاب کو دیکھتا کبھی درخت کے نیچے سوۓ ہوۓ شخص کو دیکھتا۔ اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ ہیں وہ سادہ درویش لوگ، یہ ہے ان کا بادشاہ جو اینٹ کا سرہانہ بناۓ ایسی پُرسکون نیند سو رہا ہے اور اس کی فوج رومن ایمپائر کو شکست دیتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ سفیر نے چشم زدن میں اپنی عظیم سلطنت رومن ایمپائر کا تصور کیا، جہاں کا بادشاہ عالیشان محل میں بے چین کروٹیں بدل رہا ہے اس خلیفہ کے ڈر سے۔ رومن ایمپائر کا سب اسلحہ، سب چالیں، سب تدبیریں الٹی پر رہیں اور فوجیں شکست کھا کر بھاگ رہیں۔ ایک ایسے شہر کے لوگوں سے جہاں کوئی محل نہیں، کوئی دربان نہیں۔

میں خود جب اس واقعہ کا تصور کرتا تھا تو مجھے دھندلا سا ایک خاکہ دکھائی دیتا تھا کہ کیسے خلیفہ بے نیازی سے سو رہا ہو گا۔ کیسے اینٹ یا پتھر جو بھی اس دور میں ہو گا، کیسے اس پر سر رکھا ہو گا۔ ہو سکتا ہے آپ کے دماغ میں بھی کبھی ایسا منظر آیا ہو جس میں آپ نے بھی سوچا ہو کہ کیسا لگتا ہو گا اینٹ پر سر رکھ کر سونا۔ ہمارے تکیے بدل جائیں تو کندھوں اور گردن میں سٹریس آجاتی، سارا دن سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوۓ گزر جاتا ہے۔ لیکن جو عکس دھندلا تھا آج وہ پوری آب وتاب کے ساتھ مجھ پر عیاں ہو گیا ہے، جب میری نظر سے ایک تصویر گزری۔ جس میں ایک معصوم سا بچہ، دنیا جہاں کے غموں کو بھول کر پتھریلی زمین پر لیٹا ہوا، اینٹ کو اپنا گداز تکیہ سمجھ کر اس پر سر رکھے ہوۓسو رہا ہے، جیسے سکندر اعظم اپنے مخملیں دبیز بستر پر ریشم کی پوشاک پہنے پوری دنیا فتح کرنے کی خوشی میں جام ومینا سے گھونٹ بھر کے سو رہا ہو۔

آپ ایک لمحہ کے لئے اس تصویر پر فوکس کریں، آپ میلے پرانے کپڑوں اور جوتی سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں کریں گے کہ یہ کوئی محنت کش بچہ ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بھوکا بھی ہو۔ ہو سکتا ہے اس نے کبھی کسی بڑی فوڈ چین میں بیٹھ کر پیزا یا برگر نہ کھایا ہو۔ مختلف انواع کے پھل اور ان کے جوس تو درکنار، کبھی دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی ہو۔ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں اس پر اپنے خاندان کو پالنے کا بوجھ بھی پڑنے والا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے اس بچے نے وقتی طور پر لیٹ کر مصنوعی نیند کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ تصویر بنائی ہو۔ یہ اس کی ظاہری حالت ہے۔ اب آپ اس کی دوسری حالت پر فوکس کریں۔ بچے کے چہرہ پر مسکراہٹ سجی ہوئی ہے، آنکھوں میں خواب کے ڈورے ہیں جیسے جھیل کی مدھم لہریں کنارے کو چھوۓ بغیر چپکے سے آگے بڑھ جائیں۔
ایسا محسوس ہو رہا جیسے وہ محل کے پائیں باغ میں چہل قدمی کر رہا ہے۔ یاقوت اور زمرد جیسے قیمتی پتھروں کے خزانوں کا مالک ہے۔
ایسا سکون تو صرف اب اس کے نصیب میں ہے جس کا دامن موتیوں سے بھرا ہو، اور وہ سب موتی بانٹ دے، مزید حاصل کرنے کی تمنا نہ کرے۔





بشکریہ

جواب چھوڑیں